کوئی بتلائے کہ ہم کس راہ پر گامزن ہیں

Updated: November 29, 2020, 8:58 AM IST | Aakar Patel

معیشت کا کیا حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ لداخ میں چین کی جارحیت سے بھی ملک کا کوئی شہری لاعلم نہیں ہے۔ روزگار کے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں وہ بھی جگ ظاہر ہیں۔ اسلئے یہ کہنا مشکل ہے کہ ہم نے اپنے لئے کون سی راہ متعین کی ہے۔

Farmers Protest - Pic : PTI
کسانوں کا احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

اس  ہفتے ہمیں بتایا گیا کہ ہندوستانی معیشت کا حجم ایک اور سہ ماہی کے دوران کم ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بحیثیت ملک ہم نے اس سہ ماہی میں اُتنی پیداوار نہیں کی جتنی گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں کی تھی۔ اس کا یہ بھی مطلب ہوا کہ ملک کے لاکھوں بلکہ شاید کروڑوں خاندان غربت کے دلدل کی طرف دھکیلے گئے۔ وزیر اعظم کے ذریعہ سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ کئے جانے کے بعد چھ ماہ میں ہماری معیشت بڑی تخفیف کا شکار ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے وطن عزیز معاشی مندی کے اُس دور میں داخل ہوگیا ہے جسے ماہرین معاشیات ’’رسیشن‘‘ کہتے ہیں۔ رسیشن اُسے کہتے ہیں جب کوئی معیشت مسلسل دو سہ ماہیوں میں منفی ترقی کی جانب گامزن رہے۔ ہمیں اگر رسیشن کی خبر ملی ہے تو ذرائع ابلاغ کے ذریعہ۔ وزیر اعظم نے یہ بات ٹویٹ کرکے نہیں بتائی۔ وزیر مالیات نے بھی اس کی اطلاع نہیں دی۔ نیتی آیوگ کے سربراہ نے بڑی دلچسپ بات کہی۔ وہ یہ کہ ’’مجھے خوشگوار حیرت ہوئی ہے‘‘ کہ جو اعدادوشمار سامنے ہیں وہ اتنے خراب نہیں ہیں۔ چیف اکنامک ایڈوائزر نے ڈیٹا کی بابت کہا کہ یہ ’’محتاط رجعت پسندی‘‘ ہے۔ اس سے پہلے اُنہوں نے اپریل سے ستمبر کی ششماہی کیلئے معاشی نمو یعنی معیشت کے بہتر ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ معاشی نمو کے بجائے ہم معاشی تخفیف کی راہ پر ہیں اور معیشت ۲۳ء۹؍ فیصد گھٹی ہے۔ انہوں نے اپنے بارے میں کہا کہ اُن کی دلچسپی ’’غورو خوض اور تحقیقی کام‘‘ سے ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اکنامک سروے میں انہوں نے حوالے کیلئے وکی پیڈیا سے تعاون لیا۔ 
 تیسری سہ ماہی کے بارے میں جو خبر ہے وہ اُمید افزا نہیں ہے۔بینکوں کے ذریعہ تقسیم ہونے والے قرضے موجودہ دور میں اُس وقت سے بھی کم ہیں جب معیشت نے سکڑنا شروع کیا تھا۔ بنیادی شعبے (مثلاً اسٹیل، سیمنٹ، بجلی، کوئلہ، تیل، ریفائننگ اور فرٹیلائزرس) یہ سب اکتوبر میں تخفیف کا شکار رہے۔ اگر آپ یہ  نہیں جانتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر مالیات نے   آپ کو اندھیرے میں رکھا۔ اگر وہ کسی چیز کو نظر انداز کریں تو سمجھ لیجئے کہ اس چیز کا وجود ہی نہیں ہے۔
 جو ڈیٹا ہم تک پہنچا وہ کارپوریٹ سیکٹر کا ہے۔ غیر منظم زمرہ اور چھوٹے تجارتی زمروں کا کیا حال ہے وہ ہم نہیں جانتے جن سے ملک کے لاکھوں کروڑوں افراد وابستہ ہیں۔ کمزور اور غریب طبقے کے لوگ ’’گھر سے کام‘‘ (ورک فرام ہوم) نہیں کرسکتے۔ انہیں اپنی روزی روٹی کیلئے کڑی دھوپ میں مشقت کرنی پڑتی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور لاک ڈاؤن نے کتنے کروڑ لوگوں سے ان کا روزگار چھینا اور کارپوریٹ سیکٹر کی نذر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹاف مارکیٹ تاریخی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ 
 دہلی میں کسانوں کا زبردست مظاہرہ جاری ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اُن قوانین کو واپس لے جن سے اُن کی آمدنی خطرہ میں پڑ جائیگی۔ حکومت کے حامیوں نے مظاہرین کو ملک دشمن اور علاحدگی پسند قرار دینے میں کچھ تردد نہیں کیا۔یہ وہی القاب  ہیں جن سے پروفیسروں، اقلیتوں، کسانوں اور اُصولی بات کرنے والے صنعتکاروں کو نوازا جاتا رہا ہے۔ یہ مخالفین کے دلائل کا جواب دینے کا بالکل بچکانہ انداز ہے، بلکہ اس سے بھی بُرا ہے۔ اس سے ہمارے قومی مباحث کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
 لداخ کی بابت جاننے کی کوشش کیجئے تو معلوم ہوگا کہ چین نے وطن عزیز کی اراضی سے، جس پر اس نے قبضہ کررکھا ہے، واپس جانے سے انکار کردیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہندوستانی فوج کو موسم سرما ایسی جگہوں پر گزارنا پڑرہا ہے جو اس موسم کیلئے بالکل بھی موزوں نہیں ہیں۔ ہمارے جوانوں کو آرام کیلئے جو بستر دیئے گئے ہیں وہ مبینہ طور پر ماضی میں گلیشیئر اور بلندی کے مقامات کیلئے قطعی ناموزوں پائے گئے تھے۔ وزیر اعظم نے ٹویٹ کیا تھا کہ انہوں نے اپنے برطانوی دوست، وزیراعظم بورس جانسن سے تبدیلیٔ موسم اور ایسے ہی دیگر موضوعات پر بہت عمدہ گفتگو کی مگر اُنہیں اپنے چینی دوست ژی جن پنگ سے یہ کہنے کا وقت اور موقع نہیں ملا کہ وہ ہماری سرحدوں سے اپنی فوج کو واپس بلائیں۔ یہاں بھی یہی سمجھئے  کہ اگر وہ کسی مسئلہ پر لب کشائی نہیں کررہے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ مسئلہ ہے ہی نہیں۔
 وزیر اعظم کے دست راست وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے اپنا محبوب پروجیکٹ (شہریت ترمیمی ایکٹ) فی الحال بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے کووڈ۔۱۹؍ کی وباء بتائی اور کہا کہ وہ اس پر دوبارہ کام شروع کریں گے مگر وبائی دور کے خاتمے کے بعد۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ان غیر مسلموں کو شہریت دینے میں کیا قباحت ہے جو دسمبر ۲۰۱۴ء سے پہلے غیر قانونی طور پر ملک  میں داخل ہوئے؟ کوئی اور قانون تو وباء کی وجہ سے مؤخر نہیں کیاگیا!
 وزیر داخلہ نے گزشتہ دو ہفتے اُن امریکی لیڈرو ںکے ساتھ خوش گپیوں میں گزارے ہیں جنہوں نے سی اے اے، این آر سی اور کشمیر کے موضوع پر ہندوستانی اقدامات کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے اپنی ملاقاتوں کی تفصیل بتانے کیلئے کئی ٹویٹ کئے مگر یہ نہیں بتایاکہ ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ اُن لیڈروں سے بھی خوشگوار ملاقاتوں میں مصروف ہیں جو مودی سرکار کے اقدامات کی مخالفت کر چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں اب ڈونالڈ ٹرمپ صدر نہیں رہے۔ آئندہ دو ماہ میں جو صدر مسند نشین ہوگا اس کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے جس نے بلاتامل کہا کہ ہندوستان غلط سمت میں جارہا ہے اور مودی حکومت اکثریت نوازی کے ذریعہ اقلیتو ں کو ہراسا ں کررہی ہے اور خود کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
 یہ اور ایسا بہت کچھ ہے جو ہمارے اس عظیم ملک میں ہورہا ہے۔ ان حالات کو سامنے رکھ کر اور آئندہ کا تصور کرکے تشویش نہ اُبھرے یہ ممکن نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK