Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں خصوصی ووٹر نظر ثانی مہم اور اپوزیشن!

Updated: August 07, 2025, 3:39 PM IST | Dr Mushtaq Ahmed | Mumbai

پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی بہار میں ووٹر نظر ثانی مہم پر سوال اٹھایا ہے او ر انہوں نے تو ثبوت پیش کیا ہے کہ کس طرح مہاراشٹر اور ہریانہ میں فرضی ووٹروں کے سہارے ایک خاص پارٹی کو فائدہ پہنچایا گیاہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

 بہار میں جس دن سے خصوصی ووٹر نظر ثانی مہم کا آغاز ہوا ہے اسی دن سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ انتخابی کمیشن کی یہ مہم کسی خاص مقصد کے تحت شروع کی گئی ہے اور آخر کار وہ تمام شک وشبہات سچ ثابت ہوئے ہیں کہ ایک مہینے سے چل رہی خصوصی ووٹر نظر ثانی مہم کے بعد کمیشن نے جو ڈرافٹ جاری کیا ہے اس میں تقریباً ۶۵؍ لاکھ ووٹروں کے نام شامل نہیں ہیں۔ واضح رہےکہ بہار کے ۲۴۳؍ اسمبلی حلقوں میں نومبر میں انتخاب ہونا ہے اور اس کے لئے کمیشن نے جس عجلت میں ڈرافٹ جاری کیا ہے اس پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ کمیشن کی منشا کیا ہے۔ دراصل حالیہ دنوں میں انتخابی کمیشن نے جس طرح کا آمرانہ رویہ اپنایا ہے اور تمام اپوزیشن کی آوازوں کو صدا بہ صحرا ثابت کیا ہے اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ اب ملک کی جمہوریت کے لئے سب سے بڑا خطرہ انتخابی کمیشن کا یک طرفہ اور جانبدارانہ فیصلہ ہے ورنہ جس دن یہ مہم شروع ہوئی تھی اسی دن سے بہار کی تمام اپوزیشن پارٹیاں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ انتخابی کمیشن کے ذریعہ جس طرح ووٹر نظر ثانی مہم چلائی جا رہی ہے اس سے غریب اور پسماندہ طبقے کو بہت نقصان ہوگا۔ اب جب کہ کمیشن نے ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کر دیا ہے تو اسے دیکھ کر چہار طرف ہنگامہ ہی ہنگامہ ہے کیوں کہ جس طرح ریاست کے ۳۸؍ اضلاع کے ووٹروں کی تعداد میں تخفیف کی گئی ہے وہ نہ صرف لاکھوں رائے دہندگان کو جمہوری حقوق سے محروم کرنے کی سازش ہے بلکہ جمہوریت کی روح کو مجروح کرنے والا ہے۔ ریاست بہار کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہاہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے جن لوگوں کا نام حذف کیاگیا ہے اس کی تفصیل بتائی جائے تو کمیشن ان کی آواز سننے کو تیار نہیں ہے۔ اگر ضلع وار دیکھیں تو پٹنہ میں ۳۹۵۵۰۰؍، مدھوبنی میں ۳۵۲۵۴۵؍ مشرقی چمپارن ۳۱۶۷۹۳؍گوپال گنج ۳۱۰۳۶۳؍ سمستی پور ۲۸۳۹۵۵؍ مظفرپور میں ۲۸۲۸۴۵؍ پورنیہ ۲۷۳۹۲۰؍، سارن ۲۷۳۲۲۳؍ گیا ۲۴۵۶۶۳؍، سیتا مڑھی ۲۴۴۹۶۲؍ بھاگلپور ۲۴۴۶۱۲؍ ویشالی ۲۷۵۹۵۳؍ سیوان ۲۲۱۷۱۱؍ دربھنگہ ۲۰۳۳۵۱؍ بھوجپور ۱۹۰۸۳۲؍، مغربی چمپارن ۱۹۱۳۷۶؍ کٹیہار ۱۸۴۲۵۴؍ بیگوسرائے ۱۶۷۷۵۶؍ اورنگ آباد ۱۵۹۹۸۰؍ شیخ پور ۲۶۲۵۶؍ شیوہر ۲۸۱۶۶؍ ارول ۳۰۱۸۰؍ لکھی سرائے ۴۸۸۲۴؍ جہان آباد ۵۳۰۸۹؍ کیمور۷۳۹۴۰؍ مونگیر ۷۴۹۱۶؍ کھگڑیا ۷۹۵۵۷؍ بکسر ۸۷۶۴۵؍ جموئی ۹۱۸۸۲؍ مدھے پورہ ۹۸۰۷۶؍، بانکا ۱۷۳۴۶؍ نوادہ ۱۲۶۵۴۰؍ سپول ۱۲۸۲۰۷؍ سہرسہ ۱۳۱۵۹۶؍ نالندہ ۱۳۸۵۰۵؍ کشن گنج ۱۴۵۶۶۸؍ روہتاس ۱۵۶۱۴۸؍ ارریہ ۱۵۸۰۷۲؍کے ووٹروں کو پرانے ووٹر لسٹ سے حذف کردیا گیاہے۔ مجموعی طورپر پورے بہار میں ۶۵۶۴۰۷۵؍ ووٹروں کے نام کاٹ دئیے گئے ہیں ۔ 
اگر واقعی انتخابی کمیشن نے ۲۲؍ لاکھ ۳۴؍ ہزار ایسے ووٹروں کا نام حذف کیا ہے جسے فوت قرار دیا جا رہاہے تو پھر ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں اب بھی ہزاروں نام ایسے ہیں جو بہت پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ۷؍ لاکھ ایسے لوگوں کا نام کاٹا گیاہے جن پر یہ الزام ہے کہ وہ دو جگہوں پر اپنا نام شامل کرائے ہوئے تھے۔ اگر واقعی اس طرح کے دوہرے ناموں کو حذف کیا گیاہے تو پھر بہار کے حزب اختلاف کے لیڈر تیجسوی پرساد یادو کے نام سے دو ایپک نمبر کیوں موجود ہے اور اس کو لے کر طرح طرح کی افواہیں پھیل رہی ہیں۔ اس لئے انتخابی کمیشن کے تمام تر دعوے حقیقت سے پرے ہیں اور تلخ سچائی یہ ہے کہ بہار میں بھی ہریانہ اور مہاراشٹر کی طرح جمہوریت کی جڑیں کاٹی جا رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قومی سطح پر بھی بہار میں ووٹر نظر ثانی مہم کے خلاف آواز بلند ہو رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی بہار میں ووٹر نظر ثانی مہم پر سوال اٹھایا ہے او ر انہوں نے تو ثبوت پیش کیا ہے کہ کس طرح مہاراشٹر اور ہریانہ میں فرضی ووٹروں کے سہارے ایک خاص پارٹی کو فائدہ پہنچایا گیاہے۔ بہار میں بھی شاید اسی طرح کا کھیل کیا جانا ہے مگر انتخابی کمیشن کو یہ غلط فہمی ہے کہ بہار کے عوام ان کے آمرانہ فیصلے کو قبول کرلیں گے کیوں کہ ریاست بہار سیاسی اعتبار سے ایک حساس ریاست ہے اور یہاں ماضی میں اس طرح کے آمرانہ رویے کے خلاف نہ صرف انقلاب برپا ہوا ہے بلکہ تاریخ بھی رقم ہوئی ہے۔ اس لئے وقت رہتے انتخابی کمیشن کو چاہئے کہ وہ اپنی تمام غلطیوں کا ازالہ کرے اور ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں کے مبینہ الزامات کی صفائی پیش کرے۔ کیوں کہ جب تک رائے دہندگان مطمئن نہیں ہوں گے اس وقت تک منصفانہ انتخاب نا ممکن ہے اور اگر انتخابی کمیشن اپنے آمرانہ رویے پر قائم رہا تو بہار میں اضطرابی حالات پیدا ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتخابی کمیشن نے جو ایک ماہ کا وقت دیا ہے اس میں وہ منصفانہ طریقے سے ان رائے دہندگان کے ناموں کو شامل کرتی ہے کہ نہیں جن کے نام بغیر کسی وجوہات سے ووٹر لسٹ سے حذف کردئیے گئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی سطح پر بھی یہ مہم چلائی جانی چاہئے کہ وہ اپنے اپنے وارڈوں اور پنچایتوں میں اجتماعی طورپر کوشش کریں کہ جن کے نام حذف کر دئیے گئے ہیں بالخصوص ناخواندہ اور پسماندہ طبقے کے لوگوں کے ساتھ جو نا انصافی ہوئی ہیں انہیں وقت رہتے انصاف دلایا جائے اور ان کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرائے جائیں۔ ایک اندیشہ یہ بھی ظاہر کیا جا رہاہے کہ مسلم اقلیت طبقے کے ووٹروں کے ساتھ زیادہ زیادتیاں ہوئی ہیں اور بغیر جانچ کئے ان کے نام حذف کردئیے گئے ہیں ۔ اس لئے مسلم طبقے کے دانشور طبقے کو آگے بڑھ کر اس میں حصہ لینا چاہئے اور سرکاری بی ایل او سے رابطہ کر اپنے آس پڑوس کے ووٹروں کے نام کو شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ تلخ سچائی اپنی جگہ مسلّم ہے کہ بہار میں خصوصی ووٹر نظر ثانی مہم صرف انتخابی عمل کیلئے نہیں بلکہ ایک خاص نشانے کوپورا کرنےکیلئےکیا جا رہاہے جس کا نتیجہ مستقبل میں سامنے آئے گا اور اس کے متاثرین میں ایک بڑی تعداد مسلم طبقے کی ہوگی کیونکہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ان علاقوں میں حذف کئے گئے ووٹروں کی تعداد قدرے زیادہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK