بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت منسوخ کرنے، انہیں تاحیات انتخابات سے روکنے کی تحریک دائر کی، نشی کانت نے راہل گاندھی پر ملک دشمن عناصر سے روابط کا بھی الزام عائد کیا۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 9:05 PM IST | New Delhi
بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت منسوخ کرنے، انہیں تاحیات انتخابات سے روکنے کی تحریک دائر کی، نشی کانت نے راہل گاندھی پر ملک دشمن عناصر سے روابط کا بھی الزام عائد کیا۔
بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت منسوخ کرنے، انہیں تاحیات انتخابات سے روکنے کی تحریک دائر کی، نشی کانت نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی مبینہ طور پر سوروس فاؤنڈیشن، فورڈ فاؤنڈیشن، یو ایس ایڈ سے منسلک ہیں اور تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ویت نام اور امریکہ جیسے ممالک کا سفر کرتے ہیں، اور وہ ہندوستان مخالف قوتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل بدھ کو مرکزی وزیر کرن ریجیجو کہہ چکے تھے کہ حکومت راہل گاندھی کے خلاف استحقاق توجیہ (پرولیج موشن) پیش کرے گی۔ واضح رہے کہ کانگریس لیڈر نے مرکزی بجٹ پر بحث کے دوران امریکہ-ہندوستان تجارتی معاہدے پر تنقید کی تھی اور الزام لگایا تھا کہ واشنگٹن نے وزیر اعظم نریندر مودی کوگرفت میں لے رکھا ہے ۔
بعد ازاں دوبے نے واضح کیا کہ ،’’ کوئی استحقاق توجیہ نہیں ہے۔ میں نے ایک بنیادی قرارداد جمع کرائی ہے جس میں میں نے بتایا ہے کہ وہ کس طرح مبینہ طور پر سوروس فاؤنڈیشن، فورڈ فاؤنڈیشن، یو ایس ایڈ سے منسلک ہیں اور تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ویت نام اور امریکہ جیسے ممالک کا سفر کرتے ہیں، اور وہ کس طرح ہندوستان مخالف قوتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ میں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی رکنیت منسوخ کی جائے اور انہیں تاحیات انتخابات لڑنے سے روکا جائے۔‘‘یاد رہے کہ لوک سبھا کی ویب سائٹ کے مطابق، بنیادی قرارداد ایک خودمختار، آزاد تجویز ہوتی ہے جو ایوان کی منظوری کے لیے پیش کی جاتی ہے اور اس طرح وضع کی جاتی ہے کہ وہ ایوان کے فیصلے کا اظہار کر سکے۔ اس قرارداد کی منظوری پر ایوان میں بحث ہوگی۔ اس معاملے میں دوبے کو راہل کے خلاف الزامات ثابت کرنے ہوں گے۔ قاعدہ۳۴۲؍ کے تحت، اسپیکر تجویز کو ایوان میں ووٹنگ کے لیے پیش کر سکتے ہیں ۔ جبکہ استحقاق توجیہ ایک رسمی نوٹس ہے جو ایک رکن دوسرے رکن کے خلاف حقائق چھپانے، غلط معلومات فراہم کرنے یا ایوان کے وقار کو نظر انداز کرنے پر دیتا ہے۔ کوئی رکن لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا چیئرمین کی اجازت سے استحقاق توجیہ پیش کر سکتا ہے۔ تاہم منظوری کے بعد یہ استحقاق کمیٹی کو تحقیقات کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی رکن استحقاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو اسے سرزنش، تنبیہہ اور غیر معمولی صورتوں میں قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی نے لیبر کوڈ اور تجارتی معاہدے پر مرکز سے سوال کیا
علاوہ ازیں اپنے ایکس ہینڈل پر کرن ریجیجو نے جمعرات کو ایک ویڈیو شیئر کر کے دعویٰ کیا کہ کانگریس رکن پارلیمان کے ایک گروپ نے اسپیکر اوم برلا کے چیمبر میں داخل ہو کر انہیں اور وزیر اعظم مودی کو گالیاں دیں۔ ریجیجو نے لکھا، ’’ہماری پارٹی بحث اور مباحثے پر یقین رکھتی ہے اور ارکان کی دھمکیوں کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔‘‘ جبکہ آلپوزا سے کانگریس ایم پی کے سی وینوگوپال نے کہا، ’’میں انہیں (بی جے پی) چیلنج کرتا ہوں کہ راہل گاندھی کی تقریر کا جواب دیں۔ حزب اختلاف لیڈر راہل گاندھی نے کل اپنی تقریر میں انتہائی اہم مسائل اٹھائے۔ نرملا سیتارمن نے ان کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ کرن ریجیجو نے ایوان ملتوی ہونے کے بعد ٹویٹ کیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی ویڈیو تک کیسے رسائی حاصل کی؟ پارلیمانی امور کے وزیر اب غیر پارلیمانی ہو گئے ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے کام کے لیے اپوزیشن سے ہم آہنگی کریں، لیکن یہاں وزیر خود یہ سب کر رہے ہیں۔‘‘ سہارنپور سے کانگریس ایم پی عمران مسعود نے کہا کہ’’ بی جے پی کارروائی سے ہر چیز خارج کر رہی ہے۔ استحقاق توجیہ لاؤ اور پھر جواب بھی سنو۔ جواب سننے کی ہمت کرو۔ اس میں ایسی کیا غیر پارلیمانی بات ہے کہ آپ ہٹا رہے ہیں؟ کیا ایپسٹین فائلز غیر پارلیمانی ہیں؟‘‘
پارلیمنٹ احاطے میں جب صحافیوں نے راہل گاندھی سے ان کے خلاف استحقاق توجیہ لائے جانے کے بارے میں پوچھا تو کانگریس لیڈر نے جواب دیا، ’’کیا وہ تمہیں کچھ کی ورڈز دیتے ہیں؟‘‘ راہل نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت سے ایک لفظ لے کر اپنا سارا شو اسی پر چلا رہے ہیں،اور یہ ملک کے ساتھ نا انصافی ہے ۔تاہم ذرائع کے مطابق حکومت راہل گاندھی کے خلاف استحقاق توجیہ نہیں لے جا رہی، تاہم ان کی تقریر کے مزید الفاظ کارروائی سے خارج کیے جائیں گے جو انہوں نے ابھی تک مستند ثابت نہیں کیے ۔