• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ مکمل ،۹؍ مارچ سے دوسرا مرحلہ

Updated: February 13, 2026, 11:35 PM IST | New Delhi

اپیسٹین فائلز پر ہردیپ پوری کے استعفیٰ کی مانگ کے بیچ کارروائی ملتوی، ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ اورسابق فوجی سربراہ نرونے کی کتاب پر اپوزیشن کا احتجاج برقرار

Opposition MPs protesting on the last day of the first phase of the budget session
بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلہ کے آخری دن اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ کے احاطہ میں احتجاج کرتے ہوئے

بجٹ اجلاس کا ہنگامہ خیز پہلا مرحلہ، جس میں  ہند-امریکہ  تجارتی معاہدہ اور سابق آرمی چیف ایم ایم نرونے کی غیر شائع شدہ کتاب پر تلخ بحثیں ہوئیں جمعہ کو مکمل ہو گیا ۔   ایپسٹین   فائلز میں نام آ نے پر جمعہ کومرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری اپوزیشن کے نشانے پر رہے۔ حزب اختلاف ان کے  استعفیٰ کی مانگ کرتا رہاہے اس بیچ کارروائی  ۸؍مارچ تک کیلئے  ملتوی کر دی گئی۔   اجلاس کا دوسرا مرحلہ ۹؍مارچ سے شروع ہوگا۔
 بجٹ اجلاس دو مرحلوں میں ہوتا ہے
  واضح رہے کہ بجٹ اجلاس  دومرحلوں میں منعقد ہوتا ہے۔ پہلے مرحلہ میں بجٹ پیش کیا جاتا ہے اورا س پر اراکین اپنی رائے رکھتے ہیں ۔اس کے بعد ۳؍ ہفتوں کیلئے کارروائی ملتوی کردی جاتی ہے اور پھر بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ تین ہفتوں کے  اس وقفے  میں  پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ مرکزی وزارتوں کیلئے بجٹ  میں کئے گئے لاٹمنٹس کا جائزہ لیں۔   یہ جائزہ  پارلیمنٹ میں بہتر بحث اور جوابدہی کیلئے اہم سمجھا جاتا ہے۔اجلاس کے دوسرے مرحلے میں پارلیمنٹ بجٹ کو منظور ی دیتی ہے۔ 
 بجٹ اجلاس کا آغاز۲۸؍ جنوری کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مشترکہ اجلاس میں صدر دروپدی مرمو کے خطاب سے ہوا تھا۔ اس کے بعد۲۹؍جنوری کو اقتصادی سروے پیش کیا گیا اور یکم فروری کو لوک سبھا میں وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے بجٹ پیش کیا جس کی نقل اسی دن راجیہ سبھا میں بھی رکھی گئی۔ پہلے مرحلے میں دونوں ایوانوں کی۱۳-۱۳؍ نشستیں ہوئیں۔ تین ہفتوں کے اس وقفے کے دوران اسٹینڈنگ کمیٹیاں مرکزی وزارتوں کو بجٹ میں دی گئی رقومات کا جائزہ لیں گی۔
ہردیپ پوری کے خلاف احتجاج
 جمعہ کو لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے کے بعد  ایوان کو ایک گھنٹے کیلئے اس وقت ملتوی کیا گیا جب اپوزیشن اراکین نے مرکزی وزیر ہردیپ پوری کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ اپوزیشن کے اراکین ہند - امریکہ  تجارتی معاہدے کے خلاف بھی احتجاج کر رہے تھے۔
 بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ پوری طرح سے ہنگامہ خیز رہا۔ اس دوران خود حکومت پر الزام لگا کہ وہ ایوان کی کارروائی چلانے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے۲؍ فروری کی دوپہر سے ہی  لوک سبھا میں ڈرامائی مناظر اور کارروائی کے بار بار ملتوی ہونے کا سلسلہ  اس  وقت شروع ہوا جب اسپیکر  نے قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو جنرل نرونے کی کتاب سے ۲۰۲۰ء  کےہند -چین تنازع سے متعلق  اقتباس پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ شور شرابہ اور ہنگامی مناظر  کے نتیجے میں چند دنوں بعد کانگریس کے ۷؍اور سی پی آئی-ایم کے ایک رکن کو’ بدتمیزی، میزوں پر چڑھنے اور چیئر کی جانب  کاغذ کے ٹکڑے پھینکنے ‘‘ کا الزام عائد کرکے  بجٹ اجلاس کے بقیہ حصے کیلئے معطل کر دیا گیا۔ 
اپوزیشن اور اسپیکر کا ٹکراؤ
  اس بیچ اسپیکر اوم برلا پر اپوزیشن کے ساتھ سوتیلا سلوک کا الزام بھی عائد  ہوا اور ان کو ان کو ہٹانے کیلئے نوٹس بھی دیاگیا۔  اس پر بحث بجٹ اجلاس کے اگلے مرحلے میں متوقع ہے۔ صدر کے خطاب پر تحریک شکریہ کا جواب  وزیر اعظم  دیتے ہیں مگر اس اجلاس میں وہ لوک سبھا میں نہیں پہنچے۔ اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے  خود وزیراعظم کو ایوان میں نہ آنے کا مشورہ دیا کیوں  کہ ان کے مطابق انہیں یہ اطلاع ملی تھی کہ کانگریس کی خاتون اراکین پارلیمان مودی پر حملہ کرسکتی ہیں۔ اپوزیشن نے اسے  اسپیکر کی دروغ گوئی اور جھوٹے الزام سے تعبیر کیا اور ان کو ہٹانے کیلئے دیئے گئے نوٹس میں اس کو بھی ایک وجہ بنایاہے۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK