Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیخ عبدالقادرجیلانیؒ کی چند وصیتوں اور نصیحتوں کا مطالعہ تاکہ ہم ان کی تعلیمات جان سکیں

Updated: October 04, 2025, 3:34 PM IST | Dr. Tahir-ul-Qadri | Mumbai

خیر، توبہ اور دعا کا دروازہ۔ تعلق باللہ و تعلق بالرسولؐ۔ حقیقی دوست lباطنی طہارت l غفلت سے بیداری۔ صحبت اور دوستی کا معیار: علم، عمل اور تقویٰ l رویہ، مزاج اور اخلاق کی درستگیl اللہ سے تعلق کیسے قائم ہو؟

The final resting place of Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jilani is in Baghdad. Photo: INN
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی آخری آرام گاہ بغداد میں ہے۔ تصویر: آئی این این

اولیاء اللہ اور بزرگانِ دین کے ساتھ ہمارے تعلق کی دو نوعیتیں ہیں : تعلق ِ عقیدت اور تعلق ِ متابعت۔ 
 اولیاء کی ذاتی روحانی عظمتیں، کمالات، کرامات اور روحانی تصرفات سب عقیدت کے تعلق کے دائرے میں آتی ہیں اور ان اُمور کی بنا پر ان کے ساتھ ہمارا محبت و عقیدت کا تعلق قائم ہوتا ہے۔ 
 محبت اور عقیدت کے تعلق کے بعد متابعت کاتعلق ہے یعنی اُن کی پیروی و اتباع کرنا، اُن کے نقشِ قدم پر چلنا اور اُن کی تعلیمات کی اتباع کرنا۔ 
تعلق کی ان دونوں نوعیتوں کے اعتبار سے ہمارے ہاں دو طرح کے مکتبِ فکر پیدا ہوچکے ہیں۔ ایک مکتبہ فکر ایسا ہے جو محبت اور عقیدت کو تو سننا چاہتا ہے مگر تعلق کی دوسری نوعیت یعنی متابعت پر کان ہی نہیں دھرناچاہتا۔ وہ سارا کام خالی محبت اور عقیدت سے چلانا چاہتا ہے۔ یہ کام اُسے آسان لگتا ہے اور دوسرے کام کو وہ مشکل سمجھتا ہے۔ یہ طبقہ ہمارے اہل سنت کا ہے۔ 
 دوسرا طبقہ وہ ہے جو محبت اور عقیدت کی بات زیادہ نہیں سننا چاہتا اور نہ ہی وہ اس سلسلہ میں تقریبات اور مجالس کا اہتمام کرتا ہے۔ وہ صرف تعلیمات کی پیروی اورمتابعت کی بات کرتا اور سنتا ہے اور یہی راستہ اُس کو آسان لگتا ہے۔ 
یہ دونوں رشتے سچے ہیں مگر ایک طبقہ نے محبت و عقیدت کو اختیار کرلیا اور متابعت سے لاتعلق ہو گیا اور دوسرے طبقہ نے پیروی اور متابعت کو اختیار کرلیا اور محبت و عقیدت سے لاتعلق ہوگیا۔ ان میں سے ہر ایک نے تعلق کی ایک نوعیت کو اختیار کرلیا اور دوسری نوعیت کو، شاید، بے فائدہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ اس طرح یہ دونوں طبقات حقیقت کے درمیان میں لٹکے ہوئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں تعلق اور رشتے لازم و ملزوم ہیں۔ 
جس طرح ہم پیروی اور متابعت کی اہمیت کو زندگی سے نکال کر سنت، عمل، تقویٰ، علم اور پرہیزگاری سے محروم ہو گئے ہیں، اسی طرح دوسرے لوگ پیروی اور متابعت پر فوکس کرکے محبت و عقیدت کے مظاہر سے محروم ہوگئے ہیں۔ جن مظاہر سے روحانی وقلبی تعلق اور محبت و عقیدت کے سبب برکتیں اور فیوض وابستہ تھے، اُنہوں نے اُس سے اپنے آپ کو محروم کر لیا ہے۔ سو آدھی چیز اِدھر رکھ لی گئی ہے اور آدھی چیز اُدھر رکھ لی گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حضور غوث الاعظمؒ کے ساتھ جہاں محبت اور عقیدت کا تعلق ہے، وہاں پیروی اور متابعت کا تعلق بھی قائم کریں تاکہ ہم اُن کے سچے مرید اور پیرو کار کہلائیں۔ 
آیئے! حضور سیدنا غوث الاعظمؒ کی چند وصیتوں اور نصیحتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ ہم جن کی یاد مناتے ہیں، ان کی تعلیمات کیا ہیں ؟ ان تعلیمات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں تبدیلی لا سکیں۔ ’’الفتح الربانی‘‘ میں شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے مواعظ پر مبنی ۶۲؍ مجالس ہیں جن میں ڈھائی سو (۲۵۰) سے زائد اصلاحی موضوعات شامل ہیں۔ ذیل میں آپ کے ان ہی مواعظ میں سے چند کا تذکرہ مع تشریح درج کیا جارہا ہے:
(۱) خیر، توبہ اور دُعا کے دروازے: الفتح الربانی کی چوتھی مجلس میں حضور غوث الاعظمؒ نے فرمایا: ’’جس شخص کے لئے خیر کاکوئی دروازہ اللہ نے کھول دیا ہو تو جب تک وہ دروازہ کھلا ہو، وہ اُس کو غنیمت سمجھے۔ معلوم نہیں یہ دروازہ کب بند ہوجائے۔ ‘‘
غور طلب امر یہ ہے کہ آپ یہ ارشاد نہیں فرما رہے کہ معلوم نہیں زندگی کب ختم ہو جائے بلکہ فرما رہے ہیں کہ دروازہ کب بند ہوجائے یعنی ایسا نہ ہو کہ زندگی کے اندر کوئی ایسا عمل ہوجائے کہ خیر کا دروازہ بند ہوجائے۔ 
 فرمایا: ’’دعا کا بھی ایک دروازہ ہے اور غنیمت سمجھو کہ تم پر دعا کا دروازہ بھی کھلا ہے۔ اُس میں داخل ہو جاؤ۔ ‘‘
یعنی اللہ کے ساتھ دعا اور التجاء کے تعلق کو قائم کرنا ہوگا تاکہ جواب میں ہمیں ہدایت نصیب ہوسکے۔ 
(۲) حقیقی دوست کون ہے؟ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒفرماتے ہیں کہ’’اپنے اُن دوستوں، بزرگوں اور مشائخ کو غنیمت جانو جو تمہیں تمہاری کمزوریوں، غفلتوں اور کوتاہیوں سے آگاہ کریں۔ اُن کی مجلس میں بیٹھا کرو، اُن کو زیادہ سنو، اگر تم اُن سے کٹ گئےتو پھر تمہیں تمہاری بداعمالیوں پر آگاہ کرنے والا کوئی نہیں رہے گا اور اصلاح کی طرف واپس جانا تمہارے لئے ناممکن ہو جائےگا۔ ‘‘
ہماری صورتِ حال یہ ہے کہ ہماری گفتگو پر کوئی واہ واہ کرے، ہماری خوشامدکرے تو ہم اُس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِس کے برعکس جو ہماری کمزوریوں کی بات کردے، ہم اُ س سے تعلق کا ٹ دیتے ہیں۔ آپؒ کے اس فرمان کی روشنی میں ہمیں اپنے حقیقی دوستوں اور مجالس کو پہچاننا ہوگا جن کے وسیلہ سے ہم اصلاح کی طرف گامزن ہوسکیں۔ 
(۳) تعلق باللہ اور تعلق بالرسولؐ کی بحالی: آپؒ فرماتے ہیں کہ ’’لوگو! جو تعلق اللہ اور اس کے رسولؐ سے توڑ چکے ہو عملی زندگی میں اُس کو پھر بحال کر لو۔ ‘‘
یعنی بدخُلقی، حق تلفی، زیادتی، گالی گلوج، غیبت یا چغلی کے سبب جو تعلق اللہ اور اس کے رسولؐ سے توڑ چکے ہو، اُس تعلق کو دوبارہ جوڑ لو، پھر سے جاری کرلو، بحال کرلو۔ 
(۴) باطنی طہارت: فرمایا:’’جس کو نجس اور پلید کر چکے ہو، اُس کو دھو لو اور جن چیزوں کو بگاڑ چکے ہوسنوار لو۔ ‘‘ یعنی اپنے اعمال، احوال اور اخلاق کو بھی سنوار لو۔ اپنی ہر اُس چیز کو صاف کر لوجسے گدلا اور مکدر کر چکے ہو اور ہر وہ چیز لوٹا دو جسے ناجائز طور پر لے چکے ہو۔ وہ دل جس کو گناہوں، نافرمانیوں، بُری خواہشات اور بُرے خیالات کے ساتھ نجس اور پلید کر چکے ہو، اپنے اُس دل کی نجاست کو توبہ، زہد، ورع، تقویٰ، گریہ وزاری اور اصلاح کے پانی سے دھو لو تاکہ تمہارے دل پاک اور صاف ہو جائیں۔ 
(۵) غفلت کی نیند سے بیدار ہوجاؤ: آپؒ نے فرمایا کہ ’’بیٹے! غفلت کی نیند سےبیدار ہوجا، قبل اس کے کہ جب تمہیں موت کی نیند سے بیدار کیا جائے گا تو پھر تمہارے پاس اپنے احوال کو سنوارنے کا موقع نہیں ملے گا۔ وہاں تم حساب وکتاب کے لیے پیش کیے جاؤگے۔ ‘‘
 فرمایا: ’’اگر احکامِ الہیٰہ سے راہ فرار اختیار کرگئے ہو یا اس کی قربت سے بھاگ گئے ہو توتائب ہوکر اللہ کی طرف پلٹ جاؤ۔ اپنی عملی زندگی میں دیندار بنو اور جو دیندار ہیں اُن سے میل جول رکھو تاکہ تمہاری زندگی میں دین محفوظ رہے۔ ‘‘
(۶) خلوت کی تصحیح: فرمایا: ’’بیٹے! تمہاری خلوت اللہ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔ ‘‘ یعنی جب تم باہر، لوگوں میں نکلتے ہو تو اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتے ہو اور خود کو ایسے باور کراتے ہو جیسے تم اللہ کے بڑے مومن، مخلص اور نیک بندے ہومگر جب تم تنہا ہوتے ہو تو اُس وقت تم وہ نہیں رہتے جو تم دکھاکر آئے تھے لہٰذا تمہاری خلوت اللہ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔ 
فرماتے ہیں کہ خلوت میں اُس سے بہتر حال رکھو جو جلوت میں لوگوں کے سامنے رکھا تھا تب تمہاری خلوت اللہ کے ساتھ اچھی ہو گی یعنی اللہ کا عبادت گزار بنو، وفادار بنو، مخلص بنو، اِس طرح کہ تمہاری خلوت اور جلوت، تمہارے ظاہر اور باطن، تمہاری تنہائی اورمحفل کی زندگی جداگانہ نہ ہو اور ان میں کوئی فرق نہ رہے۔ 
فرمایا: ’’جب تمہارا قلب اور دل بُرے خیالات، بُری خواہشات، بُرے ارادوں اور بُری نیتوں سے صاف ہوجائےگا تو تم جدھر دیکھو گے تمہیں عبرت ملے گی۔ پھر تمہاری نگاہ، سوچ اور کانوں سے تمہیں عبرت ملے گی۔ تمہارا دل فکر بن جائے گا اور تمہاری روح اللہ کے ساتھ جُڑ جائیگی۔ اُس وقت تمہیں پتہ چلے گا کہ جس شےمیں تم دلچسپی رکھتے ہو، وہ عذاب تھااور اب تم مولیٰ کے ساتھ جُڑ گئے ہو تو یہ اصل حیات ہے اور حقیقت میں یہی راحت ہے۔ ‘‘
(۷) صحبت اور دوستی کا معیار: علم، عمل اور تقویٰ: آپؒ نے فرمایا کہ ’’اے میر ے مخاطب!جب تو ایسے شخص کی صحبت اختیار کرے یا ایسے شخص کے ساتھ دوستی رکھے، اُس کی مجلس میں بیٹھے یا اُس کی خدمت بجا لائے جو علم اور تقویٰ میں تجھ سے زیادہ ہے تو پھر یہ صحبت تیرے لئے برکت کا باعث ہوگی۔ ‘‘ یعنی اِس سے تمہارے ایمان میں اضافہ ہوگا، آخرت کی طرف تمہاری رغبت بڑھے گی، تمہارےاخلاق بہتر ہوں گے، تمہارے دلوں کو صفائی ملے گی، تمہارے اندر کی نجاست دور ہوگی اور پاکیزگی و طہارت ملے گی۔ 
پھر فرماتے ہیں کہ’’جب تو ایسے شخص کی صحبت اختیار کرے گاجس کے پاس نہ علمِ نافع ہے اور نہ عملِ صالح و تقویٰ ہے تو اُس کی صحبت تیرے لئے منحوس ہوگی اور نتیجتاً خیر، نیکی، اطاعت اور عبادت کا ذخیرہ یا جذبہ جو پہلے تیرے اندر تھا، وہ بھی ختم ہوجائے گا یا کمزور ہوجائے گا۔ ‘‘
(۸) رویہ، مزاج اور اخلاق کی درستگی: حضور غوث الاعظمؒ نے دل کو پرکھنے کا ایک بڑا خوبصورت معیار دیا تاکہ پہچان ہو کہ کس کا دل کتنا صاف ہے اور دنیوی اغراض و مقاصد اور لالچ سے کتنا بے نیاز ہے، کس کا دل اللہ کے ساتھ جُڑا ہوا ہے، کس کے دل میں اللہ کی محبت، رحمت، نگاہ اور نور ہے؟ اگر یہ پہچان کرنی ہو اور جاننا ہو تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک جملے میں پوری پہچان بیان فرما دی۔ فرمایا کہ ’’اگر تمہارے پاس امیر، غریب یا فقیر آئے تواپنے دل کو دیکھ اور اپنے طرزِ عمل پر غور کر کہ اگر تیرا رویہ امیر اور غریب کے لئے الگ الگ ہے تو سمجھ لے کہ تو بدبخت ہو گیا اور فلاح سے محرومی تیرے حصے میں آئیگی۔ اسلئے کہ تیری نگاہ تقویٰ پر نہیں بلکہ مال پر ہے، تیری نگاہ عملِ صالح پر نہیں بلکہ دولت پر ہے، تیری نگاہ علمِ نافع پر نہیں، دنیاوی مفاد پر ہے۔ 
(۹) اللہ سے تعلق کیسے قائم ہو؟: حضور غوث الاعظمؒ نے فرمایا: ’’اے بندے! جب تک تو دنیا اور اُس کے مفاد کے ساتھ اِس طرح جُڑا ہوا ہے کہ تیرا دل دنیا کے مفاد اور اس کی حاجتوں کی قدر کرتا ہے تو جان لے کہ آخرت کے ساتھ تو ہمیشہ منقطع رہے گا۔ اسی طرح اگر تو صرف آخرت اور جنت کے ساتھ جُڑا رہے گا تو جان لے کہ مولیٰ کے ساتھ منقطع رہے گا۔ اللہ کے ساتھ جُڑنے کےلئے دو سفر طے کرنے پڑتے ہیں : پہلے دل کی رغبت دنیا کے حرص سے ختم کرنی پڑتی ہے اور پھر جنت اور آخرت کی طلب سے بھی دل کی چاہت ختم کرنی پڑتی ہے۔ لہٰذا دُنیا کی طلب کو جنت اور آخرت کی طلب میں فنا کرو اور پھر جنت اور آخرت کی محبت کو اللہ کی محبت میں فنا کروتو منزل پر پہنچ جاؤ گے۔ ‘‘
میرے بھائیو، ہمیں حضور غوث الاعظم ؒکی شخصیت اور اُن کی تعلیمات کا ادراک ہونا چاہئے تاکہ ان کے سچے پیروکار بن سکیں اور جو تعلیم اُنہوں نے دی اور تربیت فرمائی، اُس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کر سکیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK