• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

الیکشن کمیشن اب پارٹی کی بنیاد نہیں، باغیوں کی تعداد وطاقت دیکھتا ہے

Updated: February 11, 2024, 4:14 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

شیوسینا کے بعد این سی پی کے معاملے میں الیکشن کمیشن نے جس طرح کا فیصلہ کیا وہ مقامی پارٹیوں کیلئے اچھی مثال نہیں ہے، ان کی بقا کا مسئلہ ہے، شناخت ختم ہونے کا مسئلہ ہے۔

By deciding in favor of Ajit Pawar, the Election Commission has not resolved the dispute but has turned it in a new direction. Photo: INN
اجیت پوار کے حق میں فیصلہ کرکے الیکشن کمیشن نے تنازع حل نہیں کیاہے بلکہ اسے ایک نئے رخ پر موڑ دیا ہے۔ تصویر : آئی این این

جس طرح ادھوٹھاکرے کےہاتھ سے ان کی پارٹی شیوسینا چلی گئی، اسی طرح شرد پوار بھی اپنی ہی پارٹی سے محرو م ہو گئے۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ دونوں کا اپنی پارٹیوں سے بنیادی تعلق ہے لیکن آج کل الیکشن کمیشن کے فیصلے ایسے ہوگئے ہیں کہ کسی پارٹی کی بنیادسے اسے کوئی مطلب ہی نہیں رہ گیا ہے۔ وہ بس یہ دیکھتا ہےکہ پارٹی پر دعویٰ کرنے والے باغیو ں کی تعداد اصل دعویدار سے زیادہ ہے یا نہیں۔ شیوسینا اوراین سی پی، دونوں کو بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں پارٹیاں اب ٹوٹ چکی ہیں، شیوسینا میں تو حالات ان دنوں کافی سنگین نظر آرہے ہیں اور نوبت’ گینگ وار‘ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ سادہ سی مثال ہے موجودہ تخریبی سیاست کی۔ یہاں اختلافات اب صرف پارٹی سے بغاوت یا دل بدلی تک نہیں رہ گئے ہیں بلکہ دشمنی کی ایک نئی شکل اختیارکرچکے ہیں۔ خدا نخواستہ این سی پی میں بھی آگے یہ صورتحال ہوسکتی ہے۔ اجیت پوار کو این سی پی کا نام اورعلامت ملنے کے بعدکئی مقامات پر شرپوار کے حامی احتجاج کیلئے باہر نکلے تھے اورحالات اب بھی کم وبیش ویسے ہی ہیں جیسے شندے گروپ کی بغاوت کے بعد تھے۔ 
الیکشن کمیشن نے دونوں پارٹیوں کے معاملے میں باغی خیمے کے اراکین کی تعداد اورپارٹی سے وابستگی کے حلف ناموں کی بنیاد پر فیصلہ سنایااور اصل و بنیادکو نظر انداز کردیا۔ جس طرح پارٹیوں میں بغاوت کا ایک مکمل پیٹرن دیکھا گیااسی طرح الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی ایک خاص پیٹرن پر مبنی تھا۔ اس میں پارٹی کی بنیادی حیثیت نہیں دیکھی گئی بلکہ باغی خیمہ کا زور دیکھا گیا، تعداد دیکھی گئی، سیاسی رجحان دیکھا گیا اورحکمراں جماعت سے قربت دیکھی گئی۔ این سی پی سے قبل شیوسینا کا معاملہ عدالت میں گیا، الیکشن کمیشن تک پہنچا، بالآخر اسمبلی اسپیکرکو حتمی فیصلہ سنانے کا موقع ملا اورجوفیصلہ انہوں نے سنایااس میں باغیوں کوتحفظ دیا گیا اور کسی کو نا اہل نہ قراردے کرمعاملہ ایک پہلو سےرفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ شیوسیناکا اس معاملے میں سپریم کورٹ جانے کا ارادہ ہےجبکہ شردپوار بھی اپنے حق کیلئے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹانے والے ہیں۔ حالانکہ دونوں پارٹیوں کامعاملہ اب اس جگہ پہنچ چکا ہےجہاں عدالت سے بھی پارٹی کے بنیادی دعویداروں کے حق میں کسی فیصلے کی امید کم ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بے خوف، متحدہ اور پُرامن دباؤ سب سے اہم ہتھیار

اس دوران این سی پی کا پارٹی پر دعویداری کے تعلق سےوہ سخت رخ نہیں رہا جو ادھو ٹھاکرے کاتھا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ اجیت پوار کی دوسری بغاوت تھی۔ اس سے قبل ۲۰۱۹ء میں بھی انہوں نے بی جے پی کے ساتھ جانے کی پوری تیاری کرلی تھی لیکن اس وقت شرد پوار کی مداخلت کام کرگئی اور انہیں کسی طرح منا لیاگیا۔ بہر حال ۷؍مہینے قبل جو انہوں نے قدم اٹھایا، پھر وہ پیچھے نہیں ہٹے اورنائب وزیر اعلیٰ بن کر ہی دم لیا۔ اس ہلچل اور باغیانہ سرگرمیوں نے گزشتہ کئی مہینوں سے الیکشن کمیشن پر کام کاج کا بوجھ کافی بڑھا دیا ہے۔ وہ ادارہ جس کی ذمہ داری بنیادی طورپرانتخابات کا انتظام وانعقادکرنے، اسے بہتر سے بہتر بنانے اوررائے دہندگا ن میں بیداری لانے کی ہے، وہ اب پارٹیو ں کے درمیان آپسی تنازعات سلجھانے والا ثالث بن چکا ہےاور وہ تنازعات بھی ایسے ہیں جن کی عوامی مفاد کے پہلوسےکوئی اہمیت ہے نہ مستقبل۔ اب الیکشن کمیشن کو اس طرح کاکوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اس بات ضمانت سیاسی پارٹیوں سے لینی چاہئےکہ جو باغی گروپ پارٹی پر دعویٰ کررہا ہے، اس میں مزید کوئی پھوٹ نہیں ہوگی اورکمیشن کو عوام کو یہ ضمانت دینی چاہئے کہ آئندہ ایسی کسی صورت میں اس کافیصلہ انصاف پرمبنی ہوگا۔ یہ ممکن تو نظر نہیں آتالیکن یہ نہ ہوتوسیاست پست سے پست تر ہوتی چلی جائے گی اورالیکشن کمیشن کی آئینی حیثیت کم سے کم تر۔ شیوسینا اور این سی پی کے تعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے نےایک ایسے سیاسی بحران کو جنم دیا ہے جو معمولی نہیں ہے۔ یہاں پارٹیاں تو ٹوٹی ہی ہیں لیکن باغی خیمہ کو اصل قراردے کر انہیں عوامی اعتمادکے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ 
 این سی پی میں پھوٹ کے اس پورے معاملے میں شرد پوار بھی ایک شکست خوردہ لیڈر کے طورپر دکھائی دئیے ہیں۔ اپنی بیٹی اور بھتیجے کے درمیان ان کے کچھ فیصلوں سے پارٹی میں جو دراڑ پڑی، اسے مٹانے میں وہ ناکام ثابت ہوئےحالانکہ شرد پوار وہ لیڈر ہیں جو بڑے اور فیصلہ کن سیاسی دا ؤ پیچ سے واقف ہیں اور اسی لئے کہا جاتاہے کہ شردپوار کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ اپنی پارٹی کو ٹوٹتاہوا دیکھ کر وہ کچھ نہیں کر سکے حالانکہ دراڑ کا علم انہیں بہت پہلے سےتھا۔ اجیت پوار کےمطابق شردپوار انہیں پارٹی کی سربراہی سونپنے میں تاخیر کررہے تھے جس کے وہ شدید خواہشمند اورمضبوط امیدوار بھی تھے۔ سپریہ سلے کوشردپوار نے مرکزمیں پارٹی کی نمائندگی(بارہ متی سے رکن پارلیمنٹ) کی ذمہ داری دے دی لیکن ریاستی سطح پراجیت پوار کے تعلق سے وہ فیصلہ ملتوی کئے جارہے تھے۔ ظاہرہےکہ پارٹی کا داخلی تنازع آج سےنہیں، گزشتہ دس بارہ برسوں سے جاری تھا اور تغیر پذیر سیاست کے اس زمانے میں اسے اب نقطۂ عروج پر پہنچنا تھا، سووہ پہنچ بھی گیا۔ پھرالیکشن کمیشن نے باغی گروپ کے حق میں فیصلہ سناکر اس تنازع کوحل نہیں کیا بلکہ اسے نیا رخ دے دیا۔ 
شردپوار کا دور اگر اب ختم ہوگیا ہےتویہ کس سیاست کا آغاز ہے؟کیا مقامی پارٹیوں کا حال یہی ہوگا ؟این ڈی اے میں کس پارٹی کی حیثیت ہے۔ وہاں بی جےپی کے علاوہ اور کون سی پارٹی ہےجومستحکم ہے۔ ادھر مہا وکاس اگھاڑی یاملکی سطح پر دیکھا جائے تو انڈیا اتحاد میں کون سی پارٹی ہےجومقامی طورپر مستحکم اور مضبوط شناخت رکھتی ہے۔ یہ ملک کس سیاست کی طرف بڑھ رہا ہے؟ بات اگر شردپوار تک ہی محدود رکھیں تو انہوں نےجو کچھ ۹۰ء کی دہائی میں کیاتھا، آج ان کی پارٹی کے ساتھ وہی کچھ ہورہا ہے۔ سونیا گاندھی کو وزارت عظمیٰ کادعویداربنانے کے خلاف انہوں نے آواز اٹھائی تھی جس کی بناءپرانہیں پارٹی سےنکال دیا گیا تھا اور ۱۹۹۹ء میں انہوں نےطارق انور اور پی اے سنگما کے ساتھ مل کر این سی پی کی بنیاد رکھی تھی۔ اب وہ این سی پی دوگروپ میں تقسیم ہوچکی ہےاورشردپوار کو نئے نام(این سی پی - شرد چندر پوار) اور نئے نشان کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا ہے۔ ابھی دوپارٹیوں کےساتھ یہ معاملہ صرف مہاراشٹر میں ہوا ہے۔ بعید نہیں کہ دیگر ریاستوں میں بھی مقامی پارٹیوں کو ایسی صورتحال کا سامنا پڑے۔ بہار میں نتیش کمار قائدانہ شبیہ کے حامل ہیں اسلئے ان کی پارٹی کم از کم اس پھوٹ سے بچی ہوئی ہے ورنہ این ڈی اے کے ساتھ جاکرانہو ں نے جو قدم اٹھایا ہے وہ شیوسینا اور این سی پی کے بحران سے کم نہیں ہے۔ وہاں معاملات ابھی باہر نہیں آئے ہیں۔ حالانکہ دیکھا جائے تونتیش کمار اور جےڈی یو بھی منتشر ہوچکے ہیں وہ بس این ڈی اے کے سہارے متحد ہیں۔ ادھر شیوسینا اوراین سی پی دونوں بکھرچکے ہیں، انہیں بس بی جے پی کا سہارا ہے۔ یہ مقامی پارٹیوں کیلئے انتہائی مشکل دور ہے۔ ان کی بقا کا بھی مسئلہ ہے اور شناخت ضم اوربالآخرختم ہونے کا بھی۔ 

این سی پی بنام این سی پی تنازع ... ایک نظر میں
۲؍ جولائی ۲۰۲۳ء کواجیت پوار نے شردپوار سے بغاوت کردی تھی اوراین ڈی اے میں شامل ہوگئے تھے۔ انہیں نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیاتھا۔
اجیت پوارنے اس سے قبل ۲۰۱۹ء میں بھی پچھلے دروازےسےبی جے پی سے جا ملے تھے اورنائب وزیر اعلیٰ کا حلف بھی لے لیا تھا لیکن ۸۰؍ گھنٹوں کے اندرشردپوار کی مداخلت کے بعد وہ این سی پی میں واپس آگئے تھے۔
اجیت پوار نے ۲۰۲۳ء میں دوسری بغاوت کے بعد الیکشن کمیشن کو خط لکھ کران کے گروپ  کے اصل پارٹی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔اجیت پوار کاکہنا تھاکہ ان کے پاس ۴۰؍ سے زیادہ اراکین اسمبلی ہیں اور ان کا خیمہ ہی اصل این سی پی ہے۔
اجیت پوار چاہتے ہیں کہ انہیں این سی پی کی صدارت دے دی جائے کیونکہ شردپوار اب عمر دراز ہوچکے ہیں اورانہیں ریٹائر ہوجانا چاہئے۔ شردپوارکے ان کی بیٹی سپریہ سلے کوترجیح دینے پر بھی اجیت پوار اندر ہی اندر ناراض تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK