اتراکھنڈ کے رہائشی دیپک کمار نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور پولیس پر نفرت انگیز جرائم کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا۔
EPAPER
Updated: March 19, 2026, 6:10 PM IST | Dehradun
اتراکھنڈ کے رہائشی دیپک کمار نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور پولیس پر نفرت انگیز جرائم کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا۔
اتراکھنڈ کے باشندے دیپک کمار نے اپنے خلاف درج مقدمے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے جنہوں نے مبینہ طور پر نفرت انگیز جرائم کے خلاف مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ اس معاملے میں ایک اور شخص وجے راوت بھی شامل ہیں، جنہوں نے ایف آئی آر کو متعصبانہ قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ جنوری کے آخر میں اس وقت سامنے آیا جب پوڑی گڑھوال ضلع میں ایک بزرگ مسلم دکاندار، وکیل احمد کو مبینہ طور پر بجرنگ دل سے وابستہ افراد نے ہراساں کیا۔ اعتراض اس بات پر کیا گیا کہ دکاندار نے اپنی دکان کے نام میں ’’بابا‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اس موقع پر دیپک کمار اور وجے راوت نے ہجوم کی کارروائی کی مخالفت کی، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
یہ بھی پڑھئے: بنارس میں کشتی پر افطار پارٹی کی پاداش میں ۱۴؍نوجوانوں کی گرفتاری پر تنقیدیں
رپورٹس کے مطابق، بعد میں تقریباً ۴۰؍ افراد کا ایک گروہ کمار کے جم کے باہر جمع ہوا، نعرے بازی کی اور ایک قومی شاہراہ کو بھی بلاک کیا۔ کمار نے ان افراد کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی شکایت درج کرائی، تاہم پولیس نے اس کے برعکس احتجاج کے سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کمار نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کے پاس ویڈیوز اور دیگر شواہد ہونے کے باوجود کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نفرت انگیز جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کا حکم دیا جائے۔
واقعے کے ایک وائرل ویڈیو میں کمار کو یہ سوال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ دیگر دکانوں کو ’’بابا‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کی اجازت کیوں ہے جبکہ احمد کی دکان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرا نام محمد دیپک ہے‘‘، اور بعد میں وضاحت کی کہ وہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ’’ہم سب قانون کے سامنے برابر ہیں۔‘‘ کمار نے سوشل میڈیا پر بھی ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا، ’’میں نہ ہندو ہوں، نہ مسلمان، سب سے پہلے انسان ہوں، اور کسی کو بھی مذہب کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: عید کے دن ’’خون کی ہولی ‘‘ کی دھمکی،مسلمان اُتم نگر سے نقل مکانی پر مجبور
اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں کئی صارفین نے کمار کی حمایت کی۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی کہا کہ دیپک کمار آئین اور انسانیت کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر ملک میں نفرت انگیز جرائم، مذہبی ہم آہنگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔