مقابلۂ مضمون نویسی:طلبہ کی صلاحیتوں کوجلابخشنے کی کوشش

Updated: November 01, 2021, 11:52 AM IST | Mubashir Akbar

ہندوستانی پرچار سبھا ، خیر ملت فائونڈیشن اور جی ٹی فائونڈیشن نےمضمون نویسی کے مقابلوں کا انعقاد کرکےطلبہ کو اس جانب راغب کرنے کی کوشش کی ہے

Fahim Amin. Picture:INN
فہیم امین ۔ تصویر: آئی این این

بطور طالب علم ہر کسی کا واسطہ ایک نہیں بلکہ کئی مرتبہ مضمون نویسی سے پڑا ہو گا ۔زمانہ طالب علمی کے بعد پیشہ ورانہ زندگی میں بھی  رپورٹس کی تیاری سے لے کر ای میل لکھنے تک کے لئے  مضمون  نگاری کی مشق ہی کام آتی ہے ۔بہت سے طلبہ کو مضمون نویسی ایک مشکل اور دقت طلب مرحلہ لگتی ہے لیکن اس فن پر جسے عبور حاصل ہو جائے وہ اپنی اس صلاحیت کی بنیاد پرکامیابی کی نئی منزلیں طے کرلیتا ہے۔مضمون، تحریر کا ایک ایسا چھوٹا سا  حصہ ہے جو کسی موضوع، خیالات یا واقعات پر معلومات کے اظہار کے ساتھ ساتھ ایک قلمکار کی رائے بھی بیان کرتا ہے۔طلبہ کے لئے تو یہ صنف انتہائی اہم ہوتی ہے ۔ اسی لئے متعدد ادارے مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کرواتے ہیں تاکہ طلبہ کی اس صلاحیت کو جانچ ہو ، اسے بہتر بنایا جائے اور پروان چڑھایا جائے۔ ان کالموں میں ہم اس ہفتے ایسے ہی اداروں کا ذکر کریں گے جو بہت دلجمعی سے مضمون نویسی کے مقابلے ،بقول غالب ؎نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا ، کے مصداق منعقد کررہے ہیں اور طلبہ کواس میدان کا شہسوا ربنانے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ 
  ملک کا معروف ادارہ ہندوستانی پرچار سبھا جو آسان ہندی (دیوناگری) اور آسان اردو کی تشہیر کرتا ہے ، نے بی اے میں زیر تعلیم طلبہ کے لئے مضمون نویسی کے مقابلہ کا اہتمام کیا تھا ۔ ان کے موضوعات تھے ’’کیا دفتر کا کام گھر سے کرنا ، نیا نظام بن جائے گا؟ اور اس وبا نے عالم گیریت کو مضبوط کیا ہے یا کمزور کیا ہے؟ ان دونوں موضوعات پر ادارے کوتقریباً ۱۰۰؍ مضامین موصول ہوئے جن میں سے ۹۲؍ شامل مقابلہ رہے۔اس بارے میں ادارے کے ادبی رسالے ’ہندستانی زبان ‘ کے نائب مدیر اورمقابلے کے ذمہ داران میں سے ایک ڈاکٹر احرار احمد نے بتایا کہ ادارے کی جانب سے قومی سطح پر اس مقابلے کا انعقاد کیا گیا تھاجس میں پہلا انعام ۱۵؍ہزار روپے طے کیا گیا تھا۔ اس کے نتائج حال ہی میں جاری کئے گئے ہیں اور سیتا پور ،یوپی کی طالبہ ام رومان نے اس مقابلے میں پہلا انعام حاصل کیا ہے جبکہ ممبئی کی سید جویریہ اور جلگائوں کی شارقہ تبسم نے مراعاتی انعامات حاصل کئےہیں۔ ڈاکٹر احرار احمد کے مطابق مضامین کا معیار بہت اعلیٰ تو نہیں تھا لیکن کچھ مضامین اچھے تھے جن پر انعامات دئیے گئے ہیں۔ ان مضامین کی جانچ سینئر شاعراور معروف صحافی ندیم صدیقی اور ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ایچ او ڈی عبداللہ امتیاز نے کی ۔ دونوں صاحبان نے نہایت عرق ریز ی کے ساتھ ایک ایک مضمون کو کھنگالا ، اسے ادارے کے طے کردہ معیار کے مطابق جانچا اور پرکھا اور اس کے بعد نمبر دیے ۔ اسی کی بنیاد پر انعامات کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈاکٹر احرار نےکہا کہ مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کرنے کا مقصد یہی تھا کہ بڑی کلاس کے طلبہ مضمون نویسی کی جانب راغب ہوں کیوں کہ یہ نثر کی ایسی صنف ہےجس میں کمال حاصل کرنا مشکل ضرور ہے لیکن آپ کے وقار اور اعتبار میں اضافہ کا سبب بھی ہے ، ساتھ ہی عملی زندگی میں بھی یہ روزانہ کی بنیاد پر کام آنے والی چیز ہے۔ انہوں نے ادبی موضوعات کے بجائےسماجی موضوعات کو منتخب کرنے کی وجہ یہ بیان کی کہ لاک ڈائون کے   دوران ہم سبھی پر جو بیتی ہے وہ پورے جگ پر بیتی ہے ، اس سے طلبہ سے بھی متاثر ہوئے ہیں ، اسی لئے ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ان موضوعات پر مضمون لکھواکر اسے  دستاویزی حیثیت دے د ی جائے تاکہ مستقبل میں طلبہ کے لئے ریفرنس کے کام آسکے۔
  بھیونڈی کے فعال اورپروفیشنل نوجوانوں کی تنظیم ’خیرملت ‘ فائونڈیشن بھی اپنی سطح پر ۱۰؍ ویں سے ۱۲؍ ویں کےطلبہ کیلئے مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کررہی ہے۔ حال ہی میں منعقد کئے گئے مقابلے کے عنوانات ’نوجوان نسل دین سے دور کیوں ؟‘سیرت رسولؐ کے سیاسی پہلو ‘،’ہم تو اس مہنگائی کے ہاتھوں مرچلے‘،’سوشل میڈیا کی لت اور اس کے خطرناک نتائج‘ اور ’کتب خانے کی فریاد‘ تھے ۔ ان عنوانات پر ادارہ کو تقریباً ۵۰؍ مضامین موصول ہوئے ہیں جن کی جانچ کا کام ابھی جاری ہے۔ اس بارے میںخیر ملت فائونڈیشن کے خازن فہیم امین  نےبتایا کہ ہم نے یہ فائونڈیشن قائم ہی اس لئے کیا ہے تاکہ طلبہ میں زبان و ادب کا ذوق بیدار کیا جاسکے۔ اس کے تحت ہم اب تک متعدد مقابلے منعقد کرچکے ہیں جبکہ مضمون نویسی کا یہ دوسرا سالانہ مقابلہ ہے جس میں ہمیں کافی کامیابی ملی ہے۔ گزشتہ سال بھی ہمیں ۵۰؍ انٹریز موصول ہوئی تھیں اور اس سال بھی تقریباً اتنی ہی انٹریز ملی ہیںجن کی جانچ کا کام جاری ہے۔ فہیم امین جو ایک کمپنی میں پروفیشنل کی ملازمت کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی مصروف ہیں ،  نے بتایا کہ ذیشان انصاری ان کی تنظیم کے صدر ہیں  اور ان کی قیادت میں لگاتار ہم بہتر سے بہتر کام کررہے ہیں۔  انہوں نے مضامین کے معیار پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ ان کی جانچ کا کام جاری ہے اس لئے کوئی بھی تبصرہ اسے متاثر کرسکتا ہے لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ طلبہ نے اپنی بساط کے لحاظ سے بہتر سے بہتر لکھنے کی کوشش کی ہے۔
 شہر بھیونڈی کی ہی ایک اور معروف تنظیم جی ٹی فائونڈیشن نے بھی بڑے پیمانے پر مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کیا تھا ۔ انہیں متعدد مضامین موصول ہوئے جس میں سے انہوں نے ۷۵؍ کو شارٹ لسٹ کیا  اور اس کے مطابق ان کی جانچ کروانے کے ساتھ ساتھ  انعامات کا اعلان بھی کردیا۔ اس بارے میں جی ٹی فائونڈیشن کے سیکریٹری توصیف شیخ نے بتایا کہ ’’مضمون نویسی ایسی صنف ہے جس سے ہمارا روزمرہ میں پالا پڑتا ہے۔ اس لئے طلبہ کو اس کی اگر مشق کروادی جائے تو ان کے لئے عملی زندگی میں آگے بڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ہم نے مضمون نویسی کے مقابلے کا انعقاد کیا۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم نے لاک ڈائون کے دوران خاص طور پر ان مقابلوں کا انعقاد کیا تھا تاکہ جو طلبہ پڑھائی سے دور ہوگئے ہیں وہ اسی بہانے کتابیں کھولیں، انٹر نیٹ پر تعلیم اور ان موضوعات کے تعلق سےتحقیق کریں اورپھر اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کریں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس جتنی بھی انٹریز آئیں ان کی جانچ ہم نے بھیونڈی کے قابل اساتذہ سے کروائی اور سبھی نے یہ تسلیم کیا کہ بچوں میں لکھنے کا جذبہ تو موجود ہے،  انہیں بس درست رہنمائی کی  اور زیادہ سے زیادہ مشق کی ضرورت ہے۔ اس سے طلبہ کو لکھنے کی مشق بھی ہو گی اور اپنے خیالات کو ڈھالنے کا سلیقہ بھی آجائے گا۔توصیف شیخ کے مطابق یہ مقابلہ ۸؍ ویں سے ۱۲؍ ویں تک کے طلبہ کے لئے تھا جو بے حد کامیاب رہا ۔ پہلا انعام رئیس جونیئر کالج کی طالبہ خان سندس محمد اسلم نے حاصل کیاجنہوں نے اکیسویں صدی اور خواتین کے موضوع پر مضمون تحریر کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK