سعودی عرب-قطر ہائی اسپیڈ الیکٹرک ریل منصوبہ: پچھلے ہفتے سعودی کونسل آف وزراء نے دونوں ممالک کو جوڑنے والی الیکٹرک ہائی اسپیڈ ریلویز کے لیے معاہدے کی منظوری دی۔
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 7:35 PM IST | Riyadh
سعودی عرب-قطر ہائی اسپیڈ الیکٹرک ریل منصوبہ: پچھلے ہفتے سعودی کونسل آف وزراء نے دونوں ممالک کو جوڑنے والی الیکٹرک ہائی اسپیڈ ریلویز کے لیے معاہدے کی منظوری دی۔
سعودی عرب اور قطر کے درمیان بلیٹ ٹرین کا نیٹ ورک خلیج میں مسافروں کی ریل سفر کو بدلنے والا ہے۔ پچھلے ہفتے سعودی کونسل آف وزراء نے دونوں ممالک کو جوڑنے والی الیکٹرک ہائی اسپیڈ ریل کے لیے معاہدے کی منظوری دی۔ سعودی عرب اور قطر کے درمیان بلیٹ ٹرین نیٹ ورک دونوں دارالحکومت ریاض اور دوحہ کو جوڑے گا۔ قطر کے وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق، ریاض دوحہ بلیٹ ٹرین ۷۸۵؍ کلومیٹر کا فاصلہ صرف ۲؍گھنٹے یا۱۲۰؍ منٹ میں طے کرے گی۔ ریاض دوحہ ہائی اسپیڈ ریل۳۰۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے چلائی جائے گی۔ دوحہ-ریاض ہائی اسپیڈ ٹرین کئی علاقوں سے گزرے گی، جن میں الہفوف اور الدمام شامل ہیں اور حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے جوڑے گی۔ یہ اہم اسٹیشنز جیسے الدمام اور الاحساء سے بھی جڑے گی۔قطر کے وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق ’’یہ ٹرین دوحہ اور ریاض کے درمیان سفر کا وقت دو گھنٹے تک کم کر دے گی، جو نقل و حمل کی سہولت، کاروبار اور سیاحت کو فروغ، معاشی ترقی کو آگے بڑھانے، اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے:۲۰۲۰ء کے بعد وینزویلا نے اسرائیل کو پہلی مرتبہ خام تیل بھیجا
ریاض-دوحہ بلیٹ ٹرین منصوبہ: مسافر سواریاں
دستیاب تفصیلات کے مطابق، ہر سال ۱۰؍ ملین سے زیادہ مسافروں کے ٹرین سوار ہونے کی توقع ہے۔ اس منصوبے سے براہِ راست اور بالواسطہ ۳۰؍ہزار سے زائد ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے:’’دُھرندھر‘‘ کی پاکستانی گرے مارکیٹ میں دھوم: پائریٹڈ کاپیاں ۵۰؍ روپے میں دستیاب
سعودی عرب-قطر بلیٹ ٹرین معیشت کو فروغ دے گی
منصوبے کی تکمیل کے بعد، سعودی عرب-قطر بلیٹ ٹرین منصوبے سے دونوں ممالک کی جی ڈی پی کے لیے تقریباً ۱۱۵؍ارب ریال (تقریباً ۲۷۸؍ کروڑ روپے) کی آمدنی متوقع ہے۔ قطر کے وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق: ...یہ منصوبہ علاقائی ترقی کو فروغ دینے، جی سی سی ممالک کے درمیان جدید ریل نیٹ ورک کے ذریعے رابطہ اور انضمام کو مضبوط کرنے والے سب سے اسٹریٹجک منصوبوں میں سے ایک بن جائے گا۔‘‘