سیرتِ نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں سلاطین عالم کے نام لکھے گئے آپؐ کے خطوط کا تذکرہ جاری ہے۔ آج یہ تفصیل پڑھئے کہ قیصر روم نے اسلام قبول نہیں کیا مگر رومیہ کے پادری نے اسلام قبول کرلیا تھا جو بعد میں شہید کردیئے گئے
EPAPER
Updated: December 16, 2022, 11:08 AM IST | Maulana Nadeem Al-Wajdi | Mumbai
سیرتِ نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں سلاطین عالم کے نام لکھے گئے آپؐ کے خطوط کا تذکرہ جاری ہے۔ آج یہ تفصیل پڑھئے کہ قیصر روم نے اسلام قبول نہیں کیا مگر رومیہ کے پادری نے اسلام قبول کرلیا تھا جو بعد میں شہید کردیئے گئے
ابوسفیان اور قیصر روم کے درمیان مکالمہ
پھر قیصر روم نے اپنے ترجمان کی طرف متوجہ ہوکر کہا
اس شخص (ابوسفیان) سے کہو کہ جب میں نے ان (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات پوچھی تو تم نے کہا کہ وہ اعلیٰ ذات رکھنے والے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کرام اپنی قوم کے اعلیٰ نسب خاندانوں میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان سے پہلے بھی کسی نے ان کے گھرانے میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے، تم نے اس کے جواب میں کہا کہ نہیں۔ اس سوال سے میرا مقصد یہ تھا کہ اگر ان سے پہلے کسی نے اس طرح کا دعویٰ کیا ہوتا تو میں یہ کہتا کہ وہ اپنے پیش رو کی تقلید میں اس طرح کے دعوے کررہے ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم لوگ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے ان کو جھوٹا سمجھتے تھے یا جھوٹا کہا کرتے تھے، اس کے جواب میں بھی تم نے یہ کہا کہ نہیں، ان کو کبھی جھوٹا نہیں کہا گیا، اس سے میں یہ سمجھا کہ جب وہ لوگوں کے سلسلے میں جھوٹ نہیں بولتے تو اللہ پر جھوٹ کیسے بول سکتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا ان کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ بھی رہا ہے، تم نے اس کا جواب بھی نفی میں دیا، اگر جواب اثبات میں ہوتا تو میں سمجھتا کہ وہ اپنے باپ دادا کی بادشاہت کا طلبگار ہے، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا ان کی پیروی قوم کے سربرآوردہ لوگ کرتے ہیں یا دبے کچلے اور کمزور لوگ، تم نے جواب میں کہا کہ ان کی اتباع معاشرہ کے کمزور افراد کرتے ہیں، حقیقت میں انبیاء ورسل کی اتباع ایسے ہی لوگ کیا کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا تھا کہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے یا گھٹ رہی ہے، تم نے کہا کہ یہ لوگ دن بہ دن بڑھتے جار ہے ہیں، درحقیقت ایمان اسی طرح بڑھا کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔ میں نے سوال کیا تھا کہ کسی شخص نے ایمان لانے کے بعد ان سے ناراض ہوکر ارتداد کا راستہ بھی اختیار کیا ہے، تم نے جواب دیا، اب تک کوئی مرتد نہیں ہوا، حقیقت یہ ہے کہ اگر ایمان بشاشت ِ قلب کے ساتھ قبول کیا جائے تو پھر دل میں سما جاتا ہے، اور کسی قسم کی کوئی ناراضگی پیدا نہیں ہوتی۔ میں نے سوال کیا تھا کہ کیا وہ عہد کرنے کے بعد اس کو توڑ بھی دیتے ہیں، تم نے جواب میں کہا کہ نہیں، وہ خلافِ عہد کوئی کام نہیں کرتے، واقعتاً انبیاء ایفائے عہد کے خوگر ہوتے ہیں وہ کبھی بد عہدی نہیں کرتے۔ میں نے پوچھا کہ کیا تم لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ بھی لڑی ہے، تم نے جواب میں کہا کہ تمہاری قوم نے ان کے ساتھ جنگیں لڑی ہیں، اور ان جنگوں میں کبھی تم فاتح رہے اور کبھی وہ، حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کرام کو ابتدا میں بڑی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن انجام کار کامیابی انہی کو ملتی ہے۔ میں نے سوال کیا تھا کہ وہ کس طرح کی باتوں کا حکم دیتے ہیں، تم نے بتلایا کہ وہ ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہیں، اور اس کے ساتھ شرک کرنے سے منع کرتے ہیں، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں ان چیزوں کی پرستش نہیں کرنی چاہئے جن کی پرستش ہمارے آباء و اجداد کرتے رہے ہیں، وہ نماز، صدقات، پاک دامنی، ایفاء عہد اور ادائے امانت کا حکم دیتے ہیں، انبیاء کا وصف یہی ہوتا ہے کہ وہ اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور بُرے کاموں سے روکتے ہیں۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ ایک پیغمبر تشریف لانے والے ہیں، مگر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ وہ تمہاری قوم میں تشریف لائیں گے۔ اگر تم سچ کہہ ر ہے ہو تو عنقریب وہ اس جگہ کے بھی مالک ہوجائیں گے جہاں اس وقت میں کھڑا ہوا ہوں، اگر مجھے یہ امید ہوتی کہ میں (لوگوں سے بچ کر )ان تک پہنچ جاؤں گا تو میں ان سے ملاقات کیلئے ضرور جاتا۔
ابوسفیان کہتے ہیں کہ اس کے بعد بادشاہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب مبارک منگوایا، سب لوگوں کے سامنے اسے پڑھا گیا، قیصر روم گفتگو سے فارغ ہوا تو اعیانِ حکومت میں سے جو لوگ بادشاہ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے، زور زور سے بولنے لگے، یہاں تک کہ شور وغل بہت زیادہ ہوگیا، ان کی کوئی بھی بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی، اتنے میں حکم ہوا کہ ہمیں باہر نکال دیا جائے، جب میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دربار سے باہر نکلا اور ہم لوگوں کو یکجا ہونے کا موقع ملا تو میں نے ان سے کہا کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کا مرتبہ بلند ہوگیا ہے، بنی اصفر کا یہ بادشاہ بھی ان سے ڈر محسوس کررہا ہے۔ ابوسفیان کہتے ہیں کہ اس دن سے مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کرکے رہے گا، اس کے بعد اللہ نے میرے دل میں اسلام داخل کردیا ۔ (الجامع الصحیح للبخاری: ۱۰/ ۸۳، رقم الحدیث: ۲۷۲۳، صحیح مسلم: ۹/۲۳۵، رقم الحدیث: ۳۳۲۲)
بنو الاصفر (اصفر کی اولاد، اصفر کے معنی زرد، پیلا) رومیوں کو کہا جاتا ہے، کیوں کہ روم کے جس شخص سے ان کی نسل چلی وہ کسی وجہ سے اصفر کے لقب سے مشہور ہوگیا تھا۔ (زاد المعاد: ۴/۶۶)
ابن الناظور کا بیان
بخاری شریف کی کتاب بدءِ الوحی میں یہ تفصیل بھی ہے کہ ایلیاء کا حاکم ابن الناظور جو ہرقل کا دوست بھی تھا اور شام کے عیسائیوں کا بڑا پادری بھی تھا، بیان کرتا ہے کہ ایک دن ہرقل سو کر اٹھا تو اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے، اس کے مصاحبین نے کہا کہ آج ہم آپ کو کچھ بے چین اور کبیدہ خاطر دیکھ رہے ہیں، کیا بات ہے؟ ہرقل علم نجوم پر بھی دسترس رکھتا تھا، مصاحبین کے جواب میں اس نے کہا کہ آج رات میں نے ستاروں پر نظر ڈالی، مجھے معلوم ہوا کہ ختنہ کرانے والے بادشاہ کو فتح ہوئی اور وہ غالب آگیا۔
ابھی یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ خبریں پہنچ گئیں، ہرقل نے لوگوں سے کہا کہ جاکر معلوم کرو وہ شخص مختون ہے یا نہیں؟ اسے بتلایا گیا کہ وہ مختون ہے اور اہل عرب ختنہ کراتے ہیں، ہرقل نے اپنے مصاحبین سے کہا کہ وہ اس ملک کے ہونے والے بادشاہ ہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے روم میں اپنے ایک دوست کو یہ تمام تفصیلات لکھ کر بھیجیں، اس کا وہ دوست بھی ماہر نجومی تھا، بلکہ علم میں ہرقل کے برابر ہی تھا، یہ خط لکھ کر وہ حِمْص چلا گیا، وہاں نجومی دوست کا جواب موصول ہوا، جس میں اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے سلسلے میں ہرقل کی رائے سے موافقت کی تھی۔
اس خط کے بعد ایک دن ہرقل نے رومی سلطنت کے حکام، امراء اور علماء کو اپنے محل میں بلایا، جب سب لوگ اندر آکر بیٹھ گئے تو بادشاہ نے محل کے تمام دروازے مقفل کرا دیئے اور خود اوپر ایک جھروکے میں جاکر بیٹھ گیا، وہاں سے اس نے حاضرین مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اپنی فلاح، بھلائی اور کامیابی چاہتے ہو اور کیا تم یہ چاہتے کہ تمہارا ملک تمہارے پاس رہے، اگر ایسا ہو تو اس نبی سے بیعت کرلو۔ یہ تقریر سن کر حاضرین مجلس جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے، دیکھا تو دروازے بند تھے، ہرقل کو اندازہ ہوگیا کہ امرائِ قوم کو اس کی یہ تجویز پسند نہیں آئی، اس نے فوراً پینترا بدلا اور حکم دیا کہ ان لوگوں کو میرے پاس لے کر آؤ، جب وہ آگئے تب ہرقل نے ان سے کہا کہ جو بات میں نے ابھی کہی ہے وہ محض تم لوگوں کا امتحان لینے کے لئے کہی ہے، میں دین میں تمہاری استقامت کا اندازہ کرنا چاہتا تھا، اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ تم لوگ ہر حال میں ثابت قدم رہوگے۔ ہرقل کی یہ بات سن کر وہ لوگ جو متنفر ہوکر بھاگے تھے، بادشاہ کے سامنے سر بہ سجود ہوگئے اور اس سے خوش ہوگئے۔ (صحیح البخاری: رقم الحدیث: ۸ باب بدء الوحی، عمدۃ القاری: ۱/۷۹، ۹۹، البدایہ والنہایہ: ۴/۲۶۲)
بہ ظاہر یہ قصہ یہیں ختم ہوجاتا ہے، لیکن بعض شارحینِ حدیث اور مؤرخین لکھتے ہیں کہ مجلس امراء کی ناکامی کے بعد ہرقل نے حضرت دحیہ کلبیؓ کو تنہائی میں بلا کر کہا کہ تم نے دیکھا میری قوم کے لوگ اپنے دین کے تئیں کتنے وفادار ہیں، اگر میں نے ان کو تمہارے دین کی طرف لانے کی کوشش کی تو وہ مجھے قتل کرڈالیں گے، تم روم کے اسقف اعظم ضفاطِر کے پاس جاؤ، وہ بہت بڑا عالم ہے، حقیقت میں وہ مجھ سے بھی زیادہ علم رکھتاہے، تم اس سے ملو اور اپنے پیغمبر کے بارے میں اسے بتلاؤ۔ حضرت دحیہؓ والا نامہ لے کر رومیہ گئے اور ضفاطر پادری سے ملے، اس نے تصدیق کی، بلاشبہ یہ نبی آخر الزماں ہیں، میں ان پر ایمان لاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر میرا سلام پیش کرنا اور عرض کرنا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اس کے بعد اس نے غسل کیا، کپڑے بدلے اور عام لوگوں کے مجمع میں آکر یہ اعلان کیا کہ لوگو! میں نے اسلام قبول کرلیا ہے، اس نے کلمۂ شہادت بھی پڑھا۔ اتنا سننا تھا کہ لوگ اس پر پل پڑے اور اسے مار مار کر شہید کر دیا۔ یہ دیکھ کر حضرت دحیہ کلبیؓ وہاں سے نکلے اور ہرقل کے پاس آئے اور اسے سارا ماجرا سنایا۔ ہرقل نے کہا اس واقعے سے آ پ اندازہ کرلیں، اگر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور لوگوں کو اس کا علم ہوگیا تو وہ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ غرض وہ ایمان نہیں لایا، البتہ پیغمبر آخر الزماں کی صداقت کا معترف رہا اور اسلام لانے کا شوق بھی ظاہر کرتا رہا لیکن اعتراف اور شوق کے اظہار سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہوتا۔ روایات میں یہ بھی ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر ہرقل نے مکتوب گرامی کے جواب میں لکھا تھا کہ میں مسلمان ہوں، آپؐ نے فرمایا کہ ہرقل جھوٹ بول رہا ہے، وہ ابھی تک نصرانیت پر قائم ہے، چنانچہ اس نے ۸ میں جنگ موتہ میں مسلمانوں کے خلاف لشکر کشی کی، غزوۂ تبوک میں بھی وہ جنگ کرنے کیلئے تیار تھا۔ (البدایہ والنہایہ: ۴/۳۴۱، عمدۃ القاری: ۱/۹۸، فتح الباری: ۱/۳۷)