کانگریس کے سینئر لیڈر، سفارت کار اور مصنف ششی تھرو ر نے اپنی کتاب ’این ایرا آف ڈارک نیس: دی برٹش ایمپائر اِن انڈیا‘ میں برطانوی سامراج کی لوٹ کھسوٹ کو پیش کیا ہے،اس کے متعدد ایڈیشن اورکئی زبانوں میں ترجمے شائع ہوئے ہیں۔
EPAPER
Updated: December 31, 2023, 1:48 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai
کانگریس کے سینئر لیڈر، سفارت کار اور مصنف ششی تھرو ر نے اپنی کتاب ’این ایرا آف ڈارک نیس: دی برٹش ایمپائر اِن انڈیا‘ میں برطانوی سامراج کی لوٹ کھسوٹ کو پیش کیا ہے،اس کے متعدد ایڈیشن اورکئی زبانوں میں ترجمے شائع ہوئے ہیں۔
کُرّہ عرض نے اپنی پشت پر نہ جانے کتنی طاقتورحکومتوں کو دیکھا اورسہا۔ اُنیسویں صدی میں کالونیالزم یعنی اِستعماریت کا دور جب اپنے عروج پر پہنچا تو برطانوی راج ہمارے ملک ہندوستان کے سیاہ و سفید کا مالِک بن چکا تھا۔ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی عسکری مہم جوئیوں سے لے کر ملکہ برطانیہ کے اِقتدار اور پھر آگے آفتابِ آزادی کے طُلوع ہونے تک کے سارے عہد کو ’ایک دورِظلمات‘ سے موزوں کس نام یاد جاسکتا تھا ؟ لہٰذا ڈاکٹرششی تھرور نے اپنی کتاب کا یہی نام دیا۔۲۸؍مئی ۲۰۱۵ء کو ششی تھرور نے آکسفورڈ یونین میں اپنی تقریر کے دوران،ہندوستان میں برطانوی سامراج کے سیاہ کارناموں کو کھول کھول کر اُجاگر کیا۔ انھوں نےایک خیال پیش کیا کہ برطانیہ اپنے جوروظلم کیلئے ہندوستانیوں سے باقاعدہ معافی مانگے اورتمثیلی ہرجانے کے طور پر دو سو برسوں تک، ہرسال ایک پاؤنڈ ہندوستان کوادا کرے۔ تھرور کا زبردست فن تقریر اور ان کے ذریعہ پیش کردہ حقائق نے اس وقت راقم الحروف سمیت کروڑوں لوگوں کو بہت متاثر کیا۔ تقریر کو سوشل میڈیا پر بے پناہ مقبولیت ملی۔بعد میں انھوں نے اپنےناشر کی فرمائش پرہندوستان میں برطانوی سامراج کے موضوع پر مزید تحقیق کر کے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’این ایرا آف ڈارک نیس‘ (ایک عہد ظلمات‘ کے عنوان سے پیش کی۔ ۲۰۱۶ء میں الِف بُک کمپنی دہلی نے پہلی دفعہ کتاب شائع کی جو مغرب و مشرق میں خوب پڑھی گئی۔ اس کے متعدد ایڈیشن اورکئی زبانوں میں ترجمے شائع ہوئے۔ پاکستان میں اردو ترجمہ بھی چھپا۔
برطانوی سامراج کی لوٹ کھسوٹ
ہندوستان میں برطانوی سامراج کی لوٹ کھسوٹ کس غیراخلاقی بلکہ غیر انسانی سطح تک پہنچی اس کا موثر بیان اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے ۔ کتاب نہ صرف وسیع بلکہ گہری تحقیق پر مبنی ہے۔ انگریزوں کی آمد سے قبل ہندوستان پر ایک سنہرا دور گزرا۔ پھراُن کے اقتدار کے نتیجے میں ملک نے مفلسی، تنگدستی، معاشی بد حالی، بھوک اور بیماریوں کے استحصالی عہد کا مشاہدہ کیا جس کا تفصیلی جائزہ اس کتاب میں لیا گیا ہے ۔ یہ ایک قائل کرنے والا بیانیہ ہے جسے تھرور نے جذبات کی آمیزش کرکے مزید پراثر بنادیا ہے۔ڈاکٹر ششی تھرور ایک ممتاز سیاستدان، سا بق سفارت کار اور مصنف ہیں جو اپنی فصاحت، بصیرت اور عالمی معاملات کے ساتھ گہری وابستگی کیلئے مشہور ہیں ۔ادبی مشاغل سے ہٹ کر، تھرور کوایک عمدہ مقررکی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وہ موجودہ واقعات اور عالمی مسائل پر اپنی آرا کا کھل کراظہار کرتے ہیں۔
قوانین کے ذریعہ ’کمپنی‘ کی بھرپور مدد کی گئی
باب اوّل ’ہندوستان کی لوٹ‘ استحصال کے معاشی پہلو کی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ تھرور نے برطانوی ہندوستان میں پیدا ہونے والے طویل معاشی بحران کی واضح تصویر کشی کی ہے۔ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نےلوٹ مار کا ایک بازار گرم کیا، مقامی کاروبارکونقصان پہنچایا، دیہی غربت میں اضافہ کیا اور ہندوستانی معیشت کو مکمل طور پربرباد کیا۔ اس کارِشرمیں حکومت نے قوانین کے ذریعہ کمپنی کی بھرپور مدد کی۔ بعد میں برطانوی حکومت نے انتظام سنبھالا اوربرصغیرکی دولت کو منظم طریقے سے چھین کر ولایت پہنچاتی رہی۔
دنیا کی معیشت میں ہندوستان کی حصے داری
برٹش پالیسی نے گہرے معاشی اثرات مرتب کئے، جو ہندوستان کی مفلسی اور برطانیہ کی افزودگی میں معاون ثابت ہوتے رہے۔ برطانیہ کا صنعتی انقلاب دراصل ہماری مقامی صنعتوں کو منصوبہ بند طریقے پر برباد کرنے کا نتیجہ تھا۔ اٹھارہویں صدی کے آغاز تک دنیا کی معیشت میں تنہا ہندوستان کا حصہ ۲۳؍ فیصد یعنی پورے یورپ سے بھی زیادہ تھا۔ انگریزوں کے ملک چھوڑتے وقت یہی حصہ گھٹ کر صرف۴؍ فیصد رہ گیا تھا۔ ٹیکس کی اونچی شرحوں نے مقامی کاروبار کی کمرتوڑ کر رکھ دی۔ ہندوستانی مزدوروں ، کاریگروں کا برطانوی دولت کے فروغ کیلئے بہت کم اجرت پر، بھرپور اور اکثر بالجبر استعمال کیا گیا۔ ہندوستانی فوجیوں کی بڑی تعداد نے تاج کی خدمت کی لیکن استعمار کے سارے فوائد انگریزوں نے اٹھائے۔ مصنف نے تاریخی شواہد اور واقعات کا استعمال کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ کس طرح ہندوستان کی حیثیت کو، جو کبھی ایک خوشحال اورخود کفیل معیشت تھا، ایک نوآبادیاتی چوکی تک محدود کر دیا گیا۔ پہلا باب کتاب کے بقیہ حصے کیلئے لہجہ ترتیب دیتا ہے۔
ترقی کو آسان بنانے کے بجائے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں
برطانوی سلطنت کے حامیوں کی طرف سے ترقی کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے، تھرور نے مروجہ بیانیے کو چیلنج کیا اور قارئین کو نوآبادیاتی میراث سے متعلق روایتی حکمت پر سوال اٹھانے کی ترغیب دی ہے۔ تھرور، ان دعوؤں کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں کہ برطانوی سلطنت نے ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے، معیشت اور معاشرے کی تشکیل میں مثبت کردار ادا کیا۔ ہندوستان کو ماڈرن ترقی کی راہ پر چلایا۔ وہ اس تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ انگریز مہربان شہری تھے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ زیادہ تر ترقی کا مقصد نوآبادیاتی ایجنڈے کو پورا کرنا تھا۔ وہ پالیسیوں کے مختلف پہلوؤں کی چھان بین کرتےہیں ۔ ریلوے کی تعمیر، انگریزی تعلیم کا تعارف، اور قانونی نظام کا نفاذ، ہندوستانی آبادی کے بجائے نوآبادیاتی حکمرانوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنائے گئے تھے۔ تھرور برطانوی معاشی پالیسیوں کی استحصالی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے ہندوستان میں حقیقی ترقی کو آسان بنانے کے بجائے رکاوٹیں کھڑی کیں۔
ریلوے کا قیام برٹش فوجیوں کیلئے عمل میں آیا
اصلاحات کے ضمن میں ششی تھرور سامراج حامیوں کے دعوؤں کی پرزور تردید کرتے ہوے ریلوے کے نظام پر تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہیں ۔ اگر انگریز نہ آتے تو کیا یہاں ریلوے نہ آتی ؟ جن ملکوں میں انگریز نہیں پہنچے کیا وہاں ریلوے کا نظام قائم نہیں ہوا؟ ریلوے ہندوستان میں بنیادی طور پر عوام کے فائدے کیلئے نہیں بلکہ برٹش فوجوں کی نقل و حرکت کے قائم کی گئی۔ پھر یہاں کےخام مال کو بندرگاہوں تک پہنچانا بھی ایک اہم مقصد تھا تاکہ مال انگلستان کی فیکٹریوں کو جاسکے۔ٹیکنیکل شعبہ اور انتظامیہ میں انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان اُجرتوں میں بڑا تفاوت تھا۔ انگریز اتنی آسانی سے ٹیکنالوجی کی ترسیل نہیں کرنا چاہتے تھے لہٰذا انجینئرنگ کالجوں میں داخلہ کیلئے بھی انگریزی ادب پڑھنا لازمی قرار پایا ۔ نچلے درجے کے کارکنان کے کام کے حالات بیحد خراب ہوا کرتے تھے۔ ریلوے،پرائیویٹ کمپنیاں چلا رہیں تھیں جن کے مالکانِ حصص کی خاصی تعداد خود ہندوستان میں متعین انگریز افسروں پر مشتمل تھی۔ وہ موٹی رقمیں منافع کے طور پر کما رہے تھے۔ ساری مشینری اور کل پرزے برطانیہ سے درآمد کئے جاتے۔ جو کچھ انھوں نے عوام کو دیا اس کی کئی گنا قیمت وصول کی۔
انگریزوں نے ٹیکس نظام کوظالمانہ کردیا تھا
کتاب میں برطانوی دور میں آنے والے قحط اور بڑے پیمانے کی بھکمری کے تفصیلی اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں ۔ کئی ملین اموات بدانتظامی کا نہیں بلکہ برطانوی حکمرانوں کی بے حسی ، بیدردی اور ان کے فری مارکیٹ میں مداخلت نہ کرنے کے نظریہ کی وجہ سے ہوئیں ۔ ۱۸۹۱ء سے ۱۹۰۰ء تک صرف ۱۰؍ برسوں میں ہندوستان میں ڈیڑھ کروڑ لوگ قحط سالی اور بھوک کی وجہ سے لقمۂ اجل بن گئے۔ ادیشہ اور بنگال کی قحط سالی کے دل ہلانے والا بیان اورحکومت کا اناج کی قیمتوں میں مداخلت سے صاف انکار، تھرور کو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ انگریزوں کے ذریعہ تھوپے گئے تھے۔ یہ ایک طرح کا قتل عام تھا۔انگریزوں سے پہلے ہندوستان میں قحط سالی کے دوران یہاں کے حکمراں انسانیت نوازی کے جذبے کے ساتھ عوام کی مدد کرتے رہے۔ ٹیکسوں میں کمی، اناج کی قیمتوں کا عوام کے حق میں تعین اور اناج کے درآمد پر پابندی وغیرہ جیسے اقدامات ہندوستانی حکمرانوں کی پالیسی کا حصہ رہے۔ انگریزوں نے اس کو بدل دیا۔
پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی
ششی تھرور’ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘ کی انگریزی حکمتِ عملی پر تفصیل سے بحث کرتے ہیں ۔ ہندوستان کے تنوع کو دیکھتے ہوئے اپنی طاقت کو مستحکم کرنے اور برقرار رکھنے کیلئے، تقسیم کرو اورحکومت چلاؤ کی پالیسی کا پوری مکاری اورمہارت سے استعمال کیا گیا۔ انگریزوں نے ہندوستان میں مختلف قومیتوں کے درمیان مذہبی، لسانی اور علاقائی اختلافات کا استحصال کیا، تناؤ کو بڑھایا اور تقسیم پیدا کی جس نے نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف کسی بھی متحد مزاحمت کو کمزور کرنے کا کام کیا۔
دیسی سماجی تانے بانے کو کمزور کیا
برطانوی راج سے قبل ہندوستان میں مذہب، کسی دوسری شناخت کے خلاف تحریک کا نکتہ بالکل نہیں تھا۔ مذہب کی بنیاد پرکسی سیاسی دھڑے بندی تو کا تو سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا لہٰذا دو فوجوں کے درمیان جنگ یا اقتدار کی کسی کشمکش میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک جانب تمام مسلم اور دوسری جانب سب ہندو ہوں ۔ برادری، ذات، وغیرہ کی بنیاد پر اجتماعی زندگی کا بنیادی انحصار تھا۔ انگریزی حکومت نے یہاں کی الگ الگ شناختوں کو اور گہرا کرنے کا کام کیا۔ ہندو مسلم تنازعات پیداکئے ۔ ملک کے کچھ علاقوں میں شیعہ سنی تفرقہ بھی پیدا کیا۔ خواہران و برادرانِ وطن کےدرمیان بھی اختلافات کو ہوا دی۔اس طرح صدیوں سے چلے آرہے ہمارے دیسی سماجی تانے بانے کو کمزور کرکے اپنی حکومت کیلئے جگہ ہموار کی۔ تھرور کا استدلال ہے کہ ان تفرقہ انگیز ہتھکنڈوں نے نہ صرف برطانوی کنٹرول میں سہولت فراہم کی بلکہ ہندوستان کے سماجی و سیاسی منظر نامے پر بھی دیرپا اثر چھوڑا، جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور نفرت میں اضافہ ہوا جو ہنوز برقرار ہے۔ آج بھی ملک اس منافرت کی بھاری قیمت ادا کررہا ہے۔
کتاب پر ناقدین کے تبصرے
ششی تھرور کی ’ایک عہدِ ظلمات‘ کو ہندوستان میں برطانوی استعمار پر پُرجوش تنقید اور فکرانگیز تحقیق کیلئے سراہا گیا ہے۔ کسی بھی اعلیٰ درجے کےدانشورانہ کام کی طرح، اس کتاب پر بھی ناقدین نے تبصرے کئے ۔ اُن کے مطابق تھرور کے دلائل میں کچھ کمزوریاں بھی شامل ہیں ۔ تھرور پر بالکل یکطرفہ نظریہ رکھنے کا الزام ہے۔ نوآبادیاتی تاریخ کی پیچیدگیوں کی زیادہ متوازن تحقیق، دلیل کی ساکھ اوروقار میں اضافہ کرسکتی ہے۔ راقم الحروف بھی ذاتی طور پر تھرور سے کافی حد تک متفق ہوتے ہوئےبھی ہم ہندوستانیوں کی کمیوں ، خامیوں اور کمزوریوں کونظر انداز کرنے کا بالکل بھی قائل نہیں ۔ ہمارے سنہرے دور میں یہاں ، اُس زمانے کی جدید تعلیم اور سائنسی تحقیق پربہت کم توجہ دی گئی۔ ذات پات اور سماجی نظام نے بھی اہم رول ادا کیا۔ دوسری طرف یورپ نشاۃ ثانیہ سے گزرا،جدید عسکری ساز و سامان اور انتظامی صلاحیتوں سے لیس یورپی اقوام نے دھاوا بولا اور فاتح ہوئے۔
یہ تنقیدیں ضروری نہیں کہ تھرور کی مجموعی دلیل یا استعمار کی وراثت کے متعلق بحث میں ان کے کام کی اہمیت کو باطل کر دیں ۔ کسی بھی تاریخی تجزیے کی خوبیاں اور کمزوریاں موضوعی ہو سکتی ہیں اور ان کا انحصار کسی کے نقطہ نظر اور علمی جھکاؤ پر ہوتا ہے۔ تھرور کی کتاب نوآبادیات کے اثرات کے متعلق نہ صرف گفتگو کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ سامراجی ماضی کا ازسر نو جائزہ لینے کیلئے ایک پرجوش درخواست کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔
تھرور زبان و بیان کے ساحرِاعظم ہیں ۔ تاریخی حقائق، واقعات اور گہری تفہیم کو سخن وری کے ساتھ یکجا کرنے کی صلاحیت ان میں بدرجۂ اتم نظر آتی ہے۔ان کا بیانیہ دلکش اور قارئین کے ایک وسیع طبقے کیلئے قابل رسائی ہے۔ وہ کتاب کو انسانی لمس سے متاثر کرتے ہیں جس سے تاریخی حقائق میں جذباتی وزن شامل ہوجاتا ہے۔ اس موضوع پر کام کیلئے مصنف کا جذبہ قابل دید بھی ہے اور قابلِ قدر بھی۔