Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر بی آئی نے ریپو ریٹ برقرار رکھا، جی ڈی پی نمو کے تخمینے میں کمی کر دی

Updated: June 05, 2026, 6:10 PM IST | Mumbai

انڈین ریزرو بینک نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جمعہ کو ریپو ریٹ اور دیگر پالیسی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

Sanjay Malhotra.Photo:PTI
سنجے ملہوترا۔ تصویر:پی ٹی آئی

 انڈین ریزرو بینک (آر بی آئی) نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جمعہ کے روز ریپو ریٹ اور دیگر پالیسی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی تین روزہ میٹنگ، جو جمعہ کو ختم ہوئی، میں مغربی ایشیا کے جاری بحران، مہنگائی میں اضافے  خصوصاً ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور مانسون کی پیش گوئی کے پیش نظر موجودہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی نمو کے تخمینے میں کمی کر دی گئی، جبکہ افراطِ زر کے تخمینے میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 
آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے ایم پی سی کے فیصلوں کی اطلاعات دیتے ہوئے بتایا کہ ریپو ریٹ کو ۲۵ء۵؍ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے تمام چھ اراکین نے اس کی حمایت کی۔ کمیٹی نے اسٹیڈنگ ڈپازٹ فیسلٹی (ایس ڈی ایف) ریٹ کو بھی ۵؍ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دیگر شرحیں بھی بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھی گئی ہیں۔ کمیٹی نے اپنا مؤقف غیر جانبدار رکھا ہے، یعنی مستقبل میں شرحوں میں اضافہ یا کمی دونوں کے امکانات کھلے رکھے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:منوج باجپئی نے رامائن اور وارانسی کے بجٹ سے متعلق خبروں کو پی آر حربہ قرار دے دیا

ایم پی سی نے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ءکے لیے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کا تخمینہ کم کرکے ۶ء۶؍ فیصد کر دیا ہے۔ اپریل کے بیان میں یہ تخمینہ ۹ء۶؍ فیصد بتایا گیا تھا۔  ملہوترا نے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو ۶ء۶؍ فیصد، دوسری سہ ماہی میں ۳ء۶؍ فیصد، تیسری سہ ماہی میں ۵ء۶؍ فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں ۸ء۶؍ فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔  انہوں نے کہا کہ بعض شعبوں میں سست روی کے آثار نظر آنے لگے ہیں اور غذائی پیداوار کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔ شرحوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے مزید اعداد و شمار کا انتظار کرنا ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے:ورلڈکپ :’صفر ڈالر‘ ادا کرنے والے شائقین سے فیفا نے درست ادائیگی کا مطالبہ کیا


مہنگائی کے محاذ پر انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے باعث افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایندھن کی قیمتوں میں۔ موجودہ مالی سال میں خوردہ افراطِ زر کی شرح ۱ء۵؍ فیصد رہنے کا اندازہ ہے، جو اپریل میں کیے گئے ۶ء۴؍ فیصد کے تخمینے سے زیادہ ہے۔ پہلی سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح  ۲ء۴؍ فیصد، دوسری سہ ماہی میں ۱ء۵؍ فیصد، تیسری سہ ماہی میں ۹ء۵؍ فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں ۴ء۵؍ فیصد رہنے کی توقع ہے۔ ملہوترا نے کہا کہ مہنگائی بڑھنے سے لوگوں کی خریداری کی قوت کم ہو سکتی ہے، جس کا اثر معیشت پر پڑے گا۔ تاہم، اس وقت گھریلو طلب مضبوط بنی ہوئی ہے اور معیشت کو رفتار فراہم کر رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK