این جی اوز کیلئے راہ آسان نہیں، خاصی دشوار ہے

Updated: September 25, 2022, 9:21 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

جمعہ کووزیر اعظم نے سردار سروور پروجیکٹ رُکوانے کیلئے اُن لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جنہیں ’’اربن نکسل‘‘ نام دیا گیا ہے۔یہ حکمراں جماعت کا طریقہ بن گیا ہے۔ اس خودساختہ اصطلاح کے ذریعہ شہری سماج (سول سوسائٹی) کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

Government behavior of treating non-governmental organizations as competitors has greatly affected the welfare activities of these organizations in the country. The biggest problem is lack of capital.
غیر سرکاری تنظیموں کو حریف سمجھنے کے سرکاری طرز عمل نے ملک میں ان تنظیموں کی فلاحی سرگرمیوں کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ سرمائے کی قلت ہے۔

جمعہ کووزیر اعظم نے سردار سروور پروجیکٹ رُکوانے کیلئے اُن لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جنہیں ’’اربن نکسل‘‘ نام دیا گیا ہے۔یہ حکمراں جماعت کا طریقہ بن گیا ہے۔ اس خودساختہ اصطلاح کے ذریعہ شہری سماج (سول سوسائٹی) کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ وزیر اعظم بھی اس کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ سول سوسائٹی کو اپنا حریف تصور کرتے ہیں۔ ۲۱؍ فروری ۲۰۱۶ء کو بھبنیشور کی ایک ریلی میں اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی سازش کا شکار ہیں، ایسی سازش جس کا مقصد اُن کی حکومت کو بے دخل کرنا ہے۔ اس کے ثبوت کے طور پر اُنہوں نے کہا کہ ’’آپ نے صبح سے شام تک یہی ایک بات سنی ہوگی جس کے ذریعہ مجھے ہدف بنایا جاتا ہے، کچھ لوگوں نے خود کو اس کام پر مامور کرلیا ہے۔‘‘ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی اس لئے بھی چراغ پا ہے کہ (مفہوم) ’’میں نے چند غیر سرکاری تنظیموں سے کہا تھا کہ وہ بیرونی ملکوں سے ملنے والے سرمائے کی تفصیل ہمیں دیں جسے وہ اندرون ملک خرچ کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں وہ میری مخالفت میں متحد ہوگئے اور کہا کہ وزیر اعظم ہم سے حساب مانگتے ہیں۔‘‘ مودی اتنے پر ہی نہیں رُکے بلکہ مزید کہا کہ (مفہوم) ’’یہ لوگ صبح سے شام تک یہ سازش بناتے ہیں کہ مودی حکومت کو کس طرح بے دخل کیا جائے، کس طرح ستایا جائے، لیکن میرے دوستو، آپ نے مجھے ووٹ ہی اسلئے دیا ہے کہ مَیں اس لعنت کو دور کروں۔‘‘ 
 ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم مودی سول سوسائٹی کے خلاف اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ دسمبر ۲۰۱۹ء میں پارلیمنٹ کو بتایا  گیا کہ جب سے مودی نے اقتدار سنبھالا تب سے ۱۴؍ ہزار ۵؍ سو غیر سرکاری تنظیموں کو بیرونی سرمائے کے حصول سے روک دیا گیا ہے۔  اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان تنظیموں کو ملنے والی رقومات ۹۰؍ فیصد کم ہوگئیں۔ ۲۰۱۸ء میں انہیں ۲ء۲؍ ارب ڈالر کی رقم ملی تھی جو ۲۰۱۹ء میں ۲۹۵؍ ملین ڈالر رہ گئی۔ میرے پاس یہ اطلاع نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے کتنے ہندوستانی متاثر ہوئے مگر یہ طے ہے کہ متاثرین میں این جی اوز کا عملہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جن کے ساتھ اور جن کیلئے یہ عملہ کام کرتا ہے۔ مودی حکومت نے ہندوستانی تعزیری قانون (کریمنل لاء) کے تحت بھی این جی اوز کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے اور دیگر ذرائع سے بھی بالخصوص فارین کانٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ میں تبدیلیوں کے ذریعہ بھی۔ یہ قانون ۱۹۷۶ء میں آیا تھا جس کا مقصد ہندوستان کے انتخابی عمل اور جمہوریت میں غیر ملکی مداخلت کو روکنا تھا تاکہ سیاسی جماعتوں، اُن کے اُمیدواروں، صحافیوں، اخبارات کے طابعین، ججوں، اعلیٰ سرکاری افسروں اور اراکین پارلیمان کو بیرونی ملکوں سے رقومات نہ ملیں۔ اس وقت معاشی کھلے پن (لبرلائزیشن) کے تحت مذکورہ لوگوں میں سے بہت سوں کو غیر ملکی سرمایہ قبول کرنے کی اجازت تھی کیونکہ حکومت خود چاہتی تھی کہ غیر ملکی سرمایہ ہندوستان آئے۔ اس سرمائے سے حکومت خوش تھی بلکہ اس پر فخر کرتی تھی۔ میڈیا (اخبارات اور ٹی وی، دونوں)  غیر ملکی سرمایہ کاری نہ صرف قبول کرتا تھا بلکہ اس کے اپنے سرمائے کا بڑا حصہ اسی غیر ملکی سرمائے پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔ ہندوستان میں سب سے بڑی میڈیا کمپنیاں فیس بُک اور گوگل تھے جن کا انتظامیہ بھی غیر ملکی تھا اور جن کے ہندوستان میں جاری رہنے کیلئے سرمایہ بھی غیر ملکی ہوتا تھا۔ اخبارات اور نیوز چینلوں کو شیئر کی خریداری کی شکل میں سرمایہ ملتا تھا۔ سیاسی جماعتوں نے خود کو مذکورہ قانون سے بچانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ جنوری ۲۰۱۳ء میں دہلی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کو ایک ہی کمپنی ( ویدانتا/ اسٹرلائٹ) سے عطیات ملے ہیں جو کہ مذکورہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ۲۸؍ مارچ ۲۰۱۴ء کو عدالت نے فیصلہ سنایا کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی نے مذکورہ قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ بعد ازیں عدالت نے مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ ان پارٹیوں کے خلاف کارروائی کریں۔ 
 جولائی اور اگست میں کانگریس اور بی جے پی نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی۔ ۲۰۱۶ء کے بجٹ میں غیر ملکی ذریعہ کی تعریف بدل دی گئی جس کے نتیجے کے طور پر سیاسی جماعتوں کو ملنے والے غیر ملکی عطیات کو قانونی جواز حاصل ہوگیا۔ یہ تبدیلی عاجلانہ انداز میں ہوئی جس کے سبب قانون کے دوسرے حصے (رونگ ورژن) میں ترمیم ہوگئی۔ اسے درست کرنے کیلئے ۲۰۱۸ء میں ایک اور ترمیم منظور کی گئی تاکہ سیاسی جماعتوں کو غیر ملکی عطیات یا سرمایہ کے قانون سے مستثنیٰ کیا جائے۔  اس تبدیلی کے ساتھ اور پھر الیکٹورل بانڈ کی اسکیم کے ذریعہ بی جے پی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کو غیر ملکی ذرائع سے غیر محدود حتیٰ کہ نامعلوم لوگوں کی جانب سے عطیات قبول کرنے کی آزادی حاصل ہوگئی۔ قانون نہیں بدلا تو صرف غیر سرکاری تنظیموں کیلئے، جس کا نتیجہ ہے کہ ان تنظیموں پر مذکورہ قانون کا بے تحاشا استعمال کیا جاتا رہا اور انہیں سرمائے کی قلت سے دوچار کردیا گیا۔ 
 آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ کیسی کیسی پابندیاں غیر سرکاری تنظیموں پر لگائی گئی۔ ۲۳؍ ہزار تنظیموں پر، جن کے پاس مذکورہ قانون کے تحت غیر ملکی عطیات وصول کرنے کا لائسنس تھا، یہ شرط عائد کردی گئی کہ اُن کا پیسہ اسٹیٹ بینک (سنسد مارگ برانچ، دہلی) ہی میں منتقل ہوگا۔ دوسری پابندی یہ عائد ہوئی کہ تنظیمیں انتظامی اُمور (تنخواہیں، سفری اخراجات، کرایہ وغیرہ) پر حاصل شدہ عطیات کا صرف ۲۰؍ فیصد خرچ کرینگی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا خرچ زیادہ تر انہی مدوں میں ہوتا ہے۔ تیسری شرط یہ لگائی گئی کہ ایک این جی او، کسی دوسرے این جی او کو رقم منتقل نہیں کرسکتا خواہ وہ مذکورہ قانون کی پاسداری کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔ اس شرط کی وجہ سے این جی اوز کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا مشکل ہوگیا۔ چوتھی شرط یہ لگائی گئی کہ غیر ملکی عطیات قبول کرنے والا این جی او اپنے عملے کے تمام اراکین کے آدھار کارڈ جمع کرائے۔ اس کی وجہ سے حکومت کو یہ اختیارمل گیا کہ وہ جب چاہے کسی این جی او کا لائسنس روک دے۔ 
 آپ محسوس کررہے ہوں گے کہ کارپوریٹ سیکٹر کی کمپنیوں کو یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ ایک خاص طریقے ہی سے روپیہ خرچ کریں۔ مگر غیر سرکاری تنظیموں کیلئے یہ شرط ہے۔ یہ ہے این جی اوز کے ساتھ حکومت کا سلوک۔ بحیثیت وزیر اعظم مودی کے پاس ایجنسیاں ہیں اور وہ سول سوسائٹی کو بُری طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اپنے ندرت آمیز انداز میں اُنہوں نے یہ کیا اور بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل کی جس کے سبب این جی اوز کیلئے بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی ۔n

NGO Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK