• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انداز ِ تربیت بدلنا ہوگا!

Updated: November 01, 2026, 12:48 PM IST | Mumbai

والدین کو اولاد کا دوست ہونا چاہئے، بے تکلفانہ دوستی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظ رکھنے والی دوستی۔ محبت، شفقت، رہنمائی اور قدر افزائی کے ذریعہ وہ اُن کے دلوں میں گھر کرسکتے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کیا نئی نسل لاپروا اَور بے فکر ہے؟ کیا نئی نسل غیر ذمہ دار ہے؟ کیا یہ نسل اپنی ذات میں گم اور اپنے خول میں سمٹی ہوئی رہتی ہے؟ کیا اس نسل کے افراد کے دلوں میں بزرگوں کا احترام نہیں ہے؟ خاندانی اور اخلاقی اقدار کا لحاظ نہیں ہے؟ کیا اس کو نصیحت بُری لگتی ہے؟ کیا ایسا ہے؟ کیا ویسا ہے؟ اس نوعیت کے کئی سوالات معاشرہ میں گردش کرتے رہے ہیں۔ پیش رو نسل اس نسل کے تعلق سے اگر مایوس نہیں تو بہت پُراُمید بھی نہیں دکھائی دیتی تھی مگر محض چند مہینوں میں حالات بدل گئے اور اب پیش رو نسل یہ اعتراف کررہی ہے کہ یہ نسل ذہین ہے، باخبر ہے، بیدار ہے، مسائل کا تجزیہ کرتی ہے اور بے نتیجہ رہنے والے بحث و مباحثہ کے بجائے حل سے دلچسپی رکھتی ہے۔ مگر، پیش رو نسل کے پاس اگر کل تک ’’لاپروا اور بے فکر نسل‘‘ کیلئے کوئی پروگرام نہیں تھا تو آج ذہن صاف ہونے اور یہ جان لینے کے بعد کہ یہ ذہین، باخبر اور بیدار نسل ہے، اس کیلئے پیش رو نسل کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے۔ کل تک سمجھا جاتا تھا کہ سیاست بڑوں کیلئے ہے، چھوٹوں کیلئے نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ چھوٹوں کو سیاست کی معلومات بڑوں سے زیادہ ہے۔ وہ انسٹا گرام سے، فیس بُک سے، آن لائن اخبارات سے اور نیوز چینلوں سے بہت کچھ جان لیتے ہیں۔ اس کے باوجود گھر کے بڑے اپنے چھوٹوں سے سیاست پر گفتگو نہیں کرتے۔ مذہبی اُمور پر بھی رہنمایانہ گفتگو نہیں کرتے۔ سماجی و معاشرتی اقدار پر تبادلۂ خیال نہیں کرتے۔ بعض گھرانوں میں اگر اس نوع کی گفتگو کو ضروری سمجھا جاتا ہو تو وہ استثنیٰ ہے اور قابل ستائش ہے۔ ہم استثنیٰ کی بات نہیں کررہے، عام رجحان بتا رہے ہیں۔ اگر گھر کے بڑے، اپنے چھوٹوں کے ساتھ تھوڑی دیر بیٹھنے اور گفتگو یا تبادلۂ خیال کرنے کو لازم کرلیں تو دو نسلوں کے درمیان کا فاصلہ کم ہوگا، افہام و تفہیم کا ماحول پیدا ہوگا اور ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے، اور اگر کوئی اختلاف ہے تو اُسے مسئلہ نہ بننے دینے اور شیر و شکر ہوکر رہنے کے مزاج کو ہر دو جانب جِلا ملے گی۔ والدین کو اولاد کا دوست ہونا چاہئے، بے تکلفانہ دوستی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظ رکھنے والی دوستی۔ محبت، شفقت، رہنمائی اور قدر افزائی کے ذریعہ وہ اُن کے دلوں میں گھر کرسکتے ہیں۔ والدین، عموماً اپنی گوناگوں مصروفیات کے سبب اولاد کو کم وقت دیتے ہیں۔ جتنا وقت دیتے ہیں وہ بھی گھریلو اُمورپر بات چیت ہی میں صرف ہوجاتا ہے۔ اگر یہ نہیں تو پاس بیٹھے ہیں مگر بڑے اپنے موبائل میں مبتلا اور چھوٹے اپنی اسکرینوں پر نگاہیں جمائے ہوئے۔ پہلے ٹی وی تھا، اب موبائل ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ برسوں سے چلا آرہا ہے جبکہ سب مانتے ہیں کہ حالات بدل گئے ہیں۔ حالات بدلے ہیں تو معمول بھی بدلنا ہوگا۔ اگر روک ٹوک ضروری ہے تو اس کا انداز بدلنا چاہئے۔ بُرا بھلا کہنے یا سرزنش کرنے سے کام نہیں چل سکتا۔ نئی نسل جتنی ذہین ہے اُتنی حساس ہے۔ جتنی باخبر ہے اُتنی زود رنج ہے۔ اس لئے تربیت کے پیمانوں کو بدلنا ضروری ہے۔ اس سے پہلے تربیت کی ضرورت کو محسوس کرنا ضروری ہے اور اس سے بھی پہلے خود کو تربیتی اُصولوں سے واقف کرانا ضروری ہے۔ 

gen z Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK