گزشتہ دنوں حدیث نبویؐ سے متاثرہوکر بنائی گئی ہالی ووڈ کی ایک فلم ’یور مدر، یور مدر، یور مدر‘ ریلیز ہوئی، جس کی بین الاقوامی سطح پر زبردست پزیرائی ہو رہی ہے۔ اس فلم میں اُس حدیث کو مرکزی خیال بنایا گیا ہے جس میں والدہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ یہ سکے کا ایک پہلو ہے جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارے سماج میں والدین بالخصوص والدہ کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو اس حدیث کا مرکزی خیال ہے۔ اسی حوالے سے ہم نے اس مرتبہ صرف خواتین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
ایک ماں تین بچوں کو پال لیتی ہے لیکن اکثر تین بچے ایک ماں کا خیال نہیں رکھ پاتے۔ تصویر: آئی این این
ماں صرف ایک رشتہ نہیں، رب کی خاص نعمت ہے

بلاشبہ فلم نے ماں کی عظمت کو نہایت خوب صورت انداز میں پیش کیا ہے اور اسے ناظرین کی جانب سے خوب پذیرائی بھی مل رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا فلموں میں ماں کی عظمت کو سراہنے والا ہمارا معاشرہ عملی زندگی میں بھی اسے وہی مقام دیتا ہے؟یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ڈیجیٹل دور اور تیزی سے بدلتے ہوئے معاشرتی رجحانات کے درمیان کہیں نہ کہیں رشتوں کی اہمیت پس منظر میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ افسوس کہ اس صورتحال سے ماں جیسا مقدس اور خوب صورت رشتہ بھی پوری طرح محفوظ نہیں۔
مختلف تحقیقی مطالعات اور رپورٹیں بھی ہمیں اس جانب متوجہ کرتی ہیں۔ پونے شہر کے اولڈ ایج ہومز پر شائع ہونے والی ایک تحقیق میں وہاں مقیم بزرگوں میں ۶۳؍ فیصد خواتین پائی گئیں۔ اسی طرح ہیلپ ایج انڈیا کی۲۰۲۳ء کی رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل بزرگ خواتین میں ۱۶؍ فیصد نے بدسلوکی اور تشدد کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان متاثرہ خواتین میں ایک بڑی تعداد ایسی تھی جن کے ساتھ ان کی اپنی اولاد نے ہی مارپیٹ اور بدسلوکی کی۔ یہ اعداد و شمار ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر وہ اولاد جس کی پرورش میں ماں اپنی پوری زندگی صرف کر دیتی ہے، وہی اولاد بعض اوقات اس کے بڑھاپے کا سہارا بننے کے بجائے اس کیلئے تکلیف کا سبب کیوں بن جاتی ہے؟
معروف شاعر منور رانا نے ماں کی عظمت کو کتنے خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے:
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے:میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
ماں کی عظمت کا اعتراف صرف تقاریر، فلموں اور تحریروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی حقیقی قدر تب ہے جب اسے زندگی میں عزت، محبت، تحفظ اور اپنائیت کا احساس دیا جائے کیونکہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ رب کی عنایت کردہ ایک ایسی نعمت ہے جس کی موجودگی گھر کو گھر بناتی ہے۔
تبسم ہاشمی (معلمہ وادیبہ، پونے)
ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے

آج کے دور میں ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی مصروفیات، ملازمت، کاروبار اور سوشل میڈیا میں اس قدر الجھ کر رہ گئے ہیں کہ والدین، خصوصاً ماں کو مطلوبہ وقت نہیں دے پاتے۔ بعض اوقات ہم ان کی بات کو اہمیت نہیں دیتے، ان کے بار بار پوچھنے پر جھنجھلا جاتے ہیں اور ان کی ضروریات کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ بعض گھروں میں ماں کے کھانے، کپڑے اور دواؤں کا انتظام تو ہوتا ہے، لیکن اسے محبت، توجہ اور اپنائیت نہیں ملتی۔ حالانکہ ماں کو صرف مالی سہارا نہیں بلکہ اولاد کے وقت، محبت اور اچھے رویےکی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام نے اس معاملے میں بہت واضح تعلیم دی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کرو۔ غور کیجیے، جب اُف تک کہنے سے منع کیا گیا ہے تو سخت لہجے میں بات کرنا، بے عزتی کرنا یا انہیں بلاوجہ نظرانداز کرنا کس قدر نامناسب ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میرے خیال میں سب سے پہلے ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ روزانہ کچھ وقت والدین کے ساتھ بیٹھیں، ان کی بات سنیں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں اور ان کے جذبات کو سمجھیں۔ اگر وہ بیمار یا بوڑھے ہیں تو ان کی خدمت کریں، علاج اور ضروری اخراجات کا انتظام کریں، اور اگر ہم ان سے دور رہتے ہیں تو باقاعدگی سے رابطہ رکھیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کریں جس سے انہیں یہ محسوس نہ ہو کہ وہ ہماری زندگی میں غیر ضروری ہو گئے ہیں۔
آخر میں، میں یہی کہنا چاہوں گی کہ کسی فلم میں ماں کی عظمت کا ذکر ہونا اچھی بات ہے، لیکن ہمارے لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ ہماری اپنی مائیں ہماری زندگی میں عزت، محبت اور سکون محسوس کریں۔ ماں کی عظمت صرف تقریروں اور سوشل میڈیا کی پوسٹوں سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ ہمارے روزمرہ کے رویے اور عملی خدمت سے ثابت ہوتی ہے۔
ڈاکٹررضوانہ رہبر (اکیڈمک کوآرڈی نیٹر، یشونت راؤ چوہان یونیورسٹی، ناسک)
گھر کے اہم فیصلوں میں ماں کی مرضی کا خیال رکھنا چاہئے

ہمارے سماج میں زبان اور روایت کی حد تک تو ماں کو ایک انتہائی مقدس اور بلند رتبہ دیا جاتا ہے، اور یہ بات بار بار دہرائی جاتی ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے، لیکن اگر ہم اپنے ارد گرد کے ماحول اور عملی زندگی پر غور کریں تو حقیقت اور باتوں میں ایک بڑا فرق نظر آتا ہے۔ ہم ماں کی قربانیوں کی تعریف تو بہت کرتے ہیں، مگر روزمرہ کے اہم فیصلوں میں ان کی اپنی مرضی اور خواہشات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے خاندانی نظام میں زیادہ تر مالی اور بڑے فیصلے گھر کے مرد یا والد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ اور اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کئی خاندان ایسے بھی ہیں جہاں ماں کو کوئی بھی فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہی نہیں ہے اور پھر ایسے گھرانوں کی اولادیں بھی ماں کی رائے کو اہمیت نہیں دیتیں۔ اس ماحول میں ماں کو ایک ایسی شخصیت تو سمجھا جاتا ہے جو گھر سنبھالے اور بچوں کی پرورش کرے، لیکن جب گھر کا کوئی بڑا فیصلہ کرنا ہو تو ان کی رائے کو ثانوی ہی رکھا جاتا ہے۔ ہم ماں سے قربانی اور صبر کی امید تو رکھتے ہیں، مگر انہیں وہ مالی خود مختاری اور فیصلے کرنے کی آزادی نہیں دیتے جس کی وہ مستحق ہیں۔
آج کے بدلتے دور اور مصروف زندگی میں کئی بار دیکھنے میں آتا ہے کہ بڑھاپے میں ماؤں کو وہ توجہ، پیار اور سکون نہیں مل پاتا جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ بلکہ اس مصروف ترین زندگی میں آج کا انسان اپنی ماں کو وقت بھی نہیں دے پاتا، جبکہ زندگی کے تمام نشیب و فراز سے گزر کر اس عمر میں انھیں اولاد کی توجہ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ماں کو لفظوں کی حد تک تو بہت احترام حاصل ہے، لیکن عملی طور پر ان کی اپنی ذاتی خوشی، ان کے حقوق اور ان کی رائے کو وہ جگہ نہیں ملتی جو ملنی چاہیے۔ اس صورتحال کو بدلنے کیلئے صرف تعریفیں کرنا کافی نہیں بلکہ ہمیں اپنے گھروں میں ماں کو عملی طور پر احترام، مساوی حقوق اور فیصلوں میں برابر کا حصہ دینا ہوگا تاکہ وہ سچ میں خود کو اہم محسوس کر سکیں۔
گلشن انصاری(معلمہ، زیڈ بی زکریا انگلش اسکول، سوپارہ)
ماں کا احترام صرف ایک دن کا تقاضا نہیں

ہالی ووڈ کی فلم ’یور مدر، یور مدر، یور مدر‘ کی بین الاقوامی پزیرائی اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مادرِ گرامی کا رتبہ ایک آفاقی اور انسانی سچائی ہے، جسے دنیا کے ہر گوشے میں خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں جس رفعتِ مقام کو تین بار والدہ کے نام سے منسوب کیا گیا، وہ صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ انسانیت کا بنیادی ترین ستون ہے۔
تاہم، جب ہم اپنے سماجی پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں، تو ایک تلخ تضاد سامنے آتا ہے۔ بظاہر ہمارے معاشرے میں ماں کے قدموں تلے جنت کا تصور زبانی کلامی بہت مقبول ہے، لیکن عملی میدان میں بزرگ والدین بالخصوص ماؤں کے ساتھ ہونے والا سلوک اس بلند دعوے کی نفی کرتا ہے۔ آج کے مادیت زدہ دور میں جہاں اولادِ نو کی ترجیحات بدل چکی ہیں، وہاں ماؤں کی قربانیوں کو فراموش کرنا اور ان کے بڑھاپے کو بوجھ سمجھنا ایک دردناک حقیقت بن چکا ہے۔ جو مغرب فلموں اور کہانیوں کے ذریعے اس رشتے کی عظمت کو اجاگر کر رہا ہے، ہمارے ہاں اسی معاشرے میں بزرگ والدین کا اولڈ ہومز یا گھر کے کسی گوشے میں بے بسی کی زندگی گزارنا عام ہوتا جا رہا ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کی عطا کردہ اس عظیم قدر کو صرف ایک رسمی عقیدہ بنا لیا ہے، جب کہ عمل کی دنیا میں اخلاقی اقدار زوال پزیر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فلمی تعریف اور فکری تحسین سے آگے بڑھ کر عملی زندگی میں ماؤں کے حقوق، ان کی عزتِ نفس اور ان کی خدمت کو اپنی ترجیحِ اول بنائیں۔ ماں کا احترام صرف ایک دن کا تقاضا نہیں، بلکہ زندگی بھر کا فریضہ ہے۔ ہمیں چاہئے کہ دین کی باتوں پرعمل کریں اور ماں کے ساتھ تمام رشتوں کو نبھانے کی کوشش کریں۔ جب تک ہم اس عملی تضاد کو ختم نہیں کرتے، تب تک اس طرح کی فلموں کی پذیرائی محض ایک اخلاقی تماشا بن کر رہ جائے گی۔
ڈاکٹر اریبہ شارب اعظمی
( ایم بی بی ایس اور ایم ایس کی طالبہ، کرلا ویسٹ)
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: پانی کی قلت دور کرنے اور پانی بچانے کیلئے شہریوں کو کیا کرنا چاہئے؟
فلم ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے کہ ماں کی قدر اس کی زندگی میں ہونی چاہیے

ہمارے معاشرے میں ماں کے مقام و مرتبے پر گفتگو کرنا، اس کی عظمت کے قصیدے پڑھنا اور اس سے محبت کا اظہار کرنا ایک عام روایت ہے، لیکن جب عملی زندگی میں اس کے حقوق اور جذبات کا معاملہ آتا ہے تو اکثر ہمارے رویّے ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم ماں کے قدموں تلے جنت ہونے کی حدیث فخر سے بیان کرتے ہیں، مگر کیا ہم واقعی اپنی ماؤں کو وہ مقام دیتے ہیں جس کی تعلیم ہمیں دینِ اسلام نے دی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ماں کو عزت تو دی جاتی ہے، مگر ہر گھر میں اس کی خواہشات، جذبات اور احساسات کا یکساں خیال نہیں رکھا جاتا۔ عمر کے ایک حصے تک اولاد ماں کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتی ہے، مگر جب ماں کو اولاد کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تو بعض اوقات وہی اولاد اس کیلئے وقت نکالنے سے بھی قاصر نظر آتی ہے۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم ماں کی خدمت کو صرف اس کے اخراجات اٹھانے یا بیماری میں علاج کروانے تک محدود سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اسے ہماری توجہ، وقت، محبت اور احترام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ماں کے ساتھ وقت گزارنا، اس کی بات تحمل سے سننا، اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا اور اسے یہ احساس دلانا بھی ضروری ہے کہ وہ ہماری زندگی کا ایک نہایت اہم حصہ ہیں۔
فلم کی عالمی سطح پر پذیرائی یقیناً خوش آئند ہے، مگر اس کا اصل پیغام تبھی بامعنی ہوگا جب ہم اسے صرف دیکھ کر متاثر ہونے کے بجائے اپنی زندگیوں میں بھی اپنائیں گے۔ فلم ہمیں ماں کی عظمت کا احساس دلانے کے ساتھ ہی یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے کہ ماں کی قدر اس کی زندگی میں ہونی چاہیے، اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد صرف اس کی یاد میں آنسو بہانا کافی نہیں۔ماں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے فلمیں بنانا اچھی بات ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ ہر گھر میں ماں کو عزت، تحفظ، محبت اور اس کا جائز مقام دیا جائے۔ پچھتاوے کبھی ماں کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔
خان نوشین دوست محمد (مہاراشٹر کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس
یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں کی احتجاج سے دور رہنے کی حکمت عملی اچھی ہے لیکن حق کیلئے کیا کیا جائے؟
یہ بات ہر گھر اور ہر شخص کے بارے میں درست نہیں

ایک ماں اپنے بچے کیلئے کیاکچھ نہیں کرتی مگر جب یہی بچے بڑے ہو جاتے ہیں، اپنے پیروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور زندگی کی مصروفیات میں آگے بڑھنے لگتے ہیں تو بعض اوقات انہیں اپنی ماں کیلئے چند لمحے نکالنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔یہ بات ہر گھر اور ہر شخص کے بارے میں درست نہیں، بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے یہاں دوسروں کے مقابلے ماں کی قدر زیادہ کی جاتی ہے، ایسی بہت ساری اولادیں ہیں جو ماں اور باپ کے اشارے پراپنے ذاتی مفادات کوقربان کردیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایسوں کی تعداد بہت کم ہے جبکہ ان کی تعداد اکثریت میں ہونی چاہئے۔ہمارے یہاں جو عام شکایات ہیں، وہ یہ کہ ہم اپنے والدین کو وقت نہیں دیتے۔ کئی مائیں اپنے بچوں کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہیں کہ شاید آج وہ ان کے پاس بیٹھیں گے، ان سے دو باتیں کریں گے یا ان کا حال پوچھیں گے۔ لیکن بچے اپنے موبائل فون، دوستوں، کاروبار اور دوسری مصروفیات میں اس قدر الجھے رہتے ہیں کہ ماں کی خاموشی بھی انہیں محسوس نہیں ہوتی۔ ماں کو ہمیشہ مہنگے تحائف، بڑی رقم یا آسائشوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اس کیلئے اولاد کے ساتھ بیٹھ کر چند منٹ بات کرنا، اس کی بات توجہ سے سننا اور یہ محسوس کرنا ہی کافی ہوتا ہے کہ وہ اب بھی اپنے بچوں کی زندگی میں اہمیت رکھتی ہے۔ہمارے یہاں ایک عجیب تضاد دیکھنے کو ملتا ہے۔ لوگ سوشل میڈیا پر ماں کیلئے خوب صورت جملے لکھتے ہیں، ماں کے ساتھ تصاویر لگاتے ہیں اور اس کی محبت پر جذباتی پیغامات شیئر کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماں کی محبت کسی ایک دن، کسی ایک پوسٹ یا کسی خوب صورت جملے کی محتاج نہیں۔ ماں کا اصل احترام اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ بیمار ہو، جب وہ کسی بات پر پریشان ہو، جب اس کی عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی ضروریات میں اضافہ ہو یا جب وہ اپنی اولاد سے کوئی ایسی بات کہے جو بچوں کی خواہش کے مطابق نہ ہو۔ ایسے موقعوں پر اس کے ساتھ ہمارا رویہ ہی بتاتا ہے کہ ہم واقعی اس کی کتنی قدر کرتے ہیں۔
خان الماس اسرافیل( طالبہ: یشونت راؤ چوہان اسٹڈی سینٹر، رئیس ہائی اسکول، بھیونڈی)