مکھی جب چائے میں گر جائے تو لوگ عموماً چائے پھینک دیتے ہیں، لیکن وہی مکھی اگر دیسی گھی میں گر جائے تو شاید گھی پھینکنے کے بجائے اسے بچانے کی تدبیریں تلاش کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 5:28 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai
مکھی جب چائے میں گر جائے تو لوگ عموماً چائے پھینک دیتے ہیں، لیکن وہی مکھی اگر دیسی گھی میں گر جائے تو شاید گھی پھینکنے کے بجائے اسے بچانے کی تدبیریں تلاش کرتے ہیں۔
مکھی جب چائے میں گر جائے تو لوگ عموماً چائے پھینک دیتے ہیں، لیکن وہی مکھی اگر دیسی گھی میں گر جائے تو شاید گھی پھینکنے کے بجائے اسے بچانے کی تدبیریں تلاش کرتے ہیں۔ یہ محض ایک عام مشاہدہ نہیں، بلکہ انسانی نفسیات اور معاشرتی رویّوں کی ایک گہری تمثیل ہے۔ اکثر انسان چیزوں کے بارے میں فیصلہ ان کے اصولی معیار پر نہیں، بلکہ ان سے وابستہ اپنے مفادات کے مطابق کرتے ہیں۔ جہاں نقصان کا اندیشہ ہو، وہاں اصول یاد آنے لگتے ہیں اور جہاں فائدہ نظر آئے، وہاں انہی اصولوں کی تعبیر بدل جاتی ہے۔ یہی دوہرا معیار جب انسانی تعلقات میں داخل ہوتا ہے تو اخلاقیات محض الفاظ، اصول محض دکھاوا اور انسانیت مفادات کی تابع بن کر رہ جاتی ہے۔
آج کی تیز رفتار دنیا میں وقت یقیناً قیمتی ہے، پیشہ ورانہ خدمات کا معاوضہ بھی ایک جائز معاشرتی ضرورت ہے، لیکن المیہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہر تعلق کو نفع و نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگے۔ ملاقات کے لئے فیس، مشورے کے لئے معاوضہ اور خدمت کے لئے قیمت مقرر ہونا اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر جب کسی مجبور کی فریاد سننے، کسی ضرورت مند کی مدد کرنے اور کسی بے سہارا کا ہاتھ تھامنے کیلئے بھی صرف مالی فائدہ معیار بن جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا انسان نے اپنی صلاحیتوں کو تو ترقی دی ہے، مگر اپنے دل کو تنگ کر لیا ہے؟ کیا ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ انسان کو انسان سمجھنے کیلئے بھی کسی منفعت کی ضرورت ہے؟
یہ بھی پڑھئے: مسائل، مصائب، مشکلات اور آزمائش میں ثابت قدم رہنا یعنی کیا؟
حقیقت یہ ہے کہ ہر خدمت کا معاوضہ نہیں ہوتا اور ہر نیکی کا فائدہ فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ کسی پریشان شخص کی بات سن لینا، کسی ضرورت مند کی رہنمائی کر دینا، کسی کمزور کے حق میں آواز اٹھانا یا کسی بے بس کو اس کے مشکل وقت میں سہارا دینا بظاہر معمولی اعمال ہیں، مگر یہی اعمال معاشرے میں اعتماد، محبت اور انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں۔ جس معاشرے میں ہر شخص صرف اپنا فائدہ دیکھے، وہاں دولت تو جمع ہو سکتی ہے، مگر دلوں میں جگہ نہیں بنتی؛ تعلقات تو قائم ہو سکتے ہیں، مگر اخلاص پیدا نہیں ہوتا۔
اسلام نے انسان کو صرف اپنے خالق کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم نہیں دی، بلکہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کو بھی بنیادی اہمیت دی ہے۔ عبادت انسان کے تعلق کو اللہ تعالیٰ سے مضبوط کرتی ہے، جبکہ خدمت خلق اس کے اخلاق، کردار اور معاشرتی ذمہ داری کا اظہار کرتی ہے۔ نماز، روزہ اور توبہ اپنی جگہ عظیم عبادات ہیں، لیکن کسی انسان پر ظلم کرکے، اس کا حق دبا کر یا اس کی ضرورت سے بے اعتنائی برت کر محض عبادات کے ذریعے اپنی ذمہ داری سے سبک دوش نہیں ہوا جا سکتا۔ حقوق اللہ میں کوتاہی پر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے معاف فرما سکتا ہے، لیکن حقوق العباد کا معاملہ اس لئے زیادہ حساس ہے کہ اس میں متاثرہ انسان کا حق بھی شامل ہے؛ اس کی تلافی اور معافی کا معاملہ محض زبانی توبہ سے ختم نہیں ہو جاتا۔
اللہ کے رسولؐ نے مفلس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اس شخص کا ذکر فرمایا جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا یا کسی پر ظلم کیا ہوگا۔ چنانچہ اس کی نیکیاں حق داروں کو دے دی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے۔ (صحیح مسلم)
یہ بھی پڑھئے: دین محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ علم، فہم، تحقیق اور جوابدہی کا نام ہے
یہ حدیث ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ نیکی کی حقیقت صرف اپنی نجات کی فکر میں محدود نہیں، بلکہ دوسروں کو اپنے شر سے محفوظ رکھنا اور ان کے حقوق ادا کرنا بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔
بالآخر انسان کی اصل قدر اس کی دولت، عہدے، شہرت یا سماجی حیثیت سے نہیں، بلکہ اس کردار سے متعین ہوتی ہے جو وہ ان لوگوں کے ساتھ اختیار کرتا ہے جن سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہونے کی توقع نہیں ہوتی۔ طاقتور کے سامنے جھکنا اور کمزور کو نظرانداز کرنا مصلحت ہو سکتی ہے، اخلاق نہیں؛ ضرورت کے وقت کسی کا ساتھ دینا انسانیت ہے، اور کسی کی مجبوری کو اپنے مفاد کا ذریعہ بنانا اخلاقی زوال ہے۔
انسانیت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم طاقتور کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کمزور کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے۔ اصول وہ نہیں جو ہم دوسروں کو سناتے ہیں، اصول وہ ہیں جن پر ہم اس وقت بھی قائم رہتے ہیں جب ان پر عمل کرنے میں ہمیں اپنا نقصان دکھائی دیتا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا کردار اس کی زبان سے بلند ہو جاتا ہے اور انسانیت محض ایک لفظ نہیں، ایک زندہ حقیقت بن جاتی ہے۔