ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے

Updated: January 09, 2021, 4:54 PM IST | Shahid Latif

مرزا اسد اللہ خان غالب کو ہر شخص جانتا ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اُن کے کلام کی خصوصیات اور اُن کی مقبولیت کے راز سے واقف ہیں۔ اکثریت اس بات سے بھی لاعلم ہے کہ غالب پر آج بھی بہت کچھ لکھا جارہا ہے اور غیر اُردو داں حلقوں میں بھی اُن کی شہرت کم نہیں۔

Mirza Ghalib.Picture :INN
مرزا اسد اللہ خان غالب۔ تصویر:آئی این این

کاو  کاو، شمار سبحہ، رستخیز، تنگی ٔ چشم حسود، سرگشتہ ٔ خمارِ رسوم و قیود ، محو بالش کمخواب اور ایسے ہی پچاسوں دیگر الفاظ کہ جو دیکھنے ہی میں مشکل نظر آئیں، جن کا معنی سمجھنے کیلئے لغت دیکھنا پڑ ے اور بعض اوقات ا س سے بھی کوئی خاص رہنمائی نہ ملے، مرزا اسد اللہ خاں غالب کا طرۂ امتیاز ہے۔ اس کے باوجود وہ شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے غیر اُردو داں حلقوں میں بے حد مقبول ہیں۔ کیا ہندوستان اور کیا بیرونی ممالک، غالب کی شہرت کسی دور میں کم نہیں ہوئی۔ گزشتہ دنوں اُن کے ۲۲۳؍ ویں یوم پیدائش پر دیگر زبانوں کے کئی اخبارات نے اُنہیں یاد کیا، اُن کا تعارف اور اُن کے اشعار شائع کئے اور اُن کی شخصیت اور فن پر حال حال  میں منظر عام پر آنے والی کتابوں کا جائزہ لیا۔ ان میں ہندی، مراٹھی اور انگریزی کے اخبارات خاص طور پر شامل رہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ اہل اُردو نے اپنے اس عظیم شاعر کو اتنا یاد نہیں کیا جتنا دیگر زبانوں کے لوگوں نے یاد کیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم، غالب کو ماضی میں عظیم تسلیم کرتے تھے اب نہیں کرتے؟ یا، اُنہیں عظیم ماننے کی ذمہ داری دیگر زبانوں کے لوگوں کو دے کر سبکدوش ہوگئے؟ غالب تنک مزاج ضرور تھے مگر اُنہوں نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ اہل اُردو اُن کے کلام کو نہ تو ہاتھ لگائیں نہ پڑھیں، نہ تو خود سمجھیں نہ دوسرو ں کو سمجھائیں! پھر ایسا کیا ہوا؟ جبکہ دیگر زبانوں کے لوگ اہل اُردو پر رشک کرتے ہیں کہ اُن کے پاس بہت سے عظیم شعراء کے علاوہ ایک بلند قامت غالب بھی ہے جو اسم بامسمیٰ ہے اور عالمی ادب میں ہندوستان اور اُردو کی قابل قدر نمائندگی کرسکتا ہے۔ غالب کا کمال اور اُن کی مقبولیت کا حال یہ ہے کہ انتقال کےڈیڑھ سو سال بعد بھی دُنیا اُن کا تعاقب کررہی ہے، اُنہیں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کررہی ہے اور اُن کے اشعار کو عصری تناظر میں دیکھ کر نئے مفاہیم تلاش کررہی ہے۔ حال ہی میں اُن پر انگریزی میں ایک کتاب یونیورسٹی آف ورجینیا کی اسوسی ایٹ پروفیسر مہر افشاں فاروقی نے لکھی ۔ اس سے قبل انگریزی ہی میں پون کے ورما کی کتاب ’’غالب دی مین، دی ٹائمس‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی کتاب ’’غالب‘‘ (اردو سے ترجمہ) بھی کافی مشہور ہے جو آکسفورڈ سے چھپی۔ کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر فرانسیس ڈبلیو پریشیٹ اور ٹفٹس یونیورسٹی سے وابستہ اووین کورنوال کی کتاب  ’’کلام و خطوطِ غالب‘‘ (ترجمہ) کو بھی مختلف ملکوں کے ہزاروں قارئین میسر آئے۔ یہ تمام کتابیں انگریزی میں ہیں۔ غیر اُردو داں حلقوں میں غالب کی مقبولیت کو دیکھ کر ہی یورپ میں اُردو کی نمائندگی اور سفارت کا حق ادا کرنے والے رالف رسل نے انگریزی والوں کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہوگا۔  غالب زندگی اور خظ نامی چار سو صفحات پر مشتمل ان کی کتاب مغربی دُنیا میں غالب کا پہلا بھرپور تعارف قرار دی جاتی ہے۔ رسل نے غالب پر اور بھی کئی کتابیں لکھی ہیں۔ آگے بڑھنے سے قبل قارئین کی یاددہانی کیلئے عرض ہے کہ دسمبر ۲۰۱۷ء میں گوگل نے بھی بذریعہ ڈوڈل غالب کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔  یہ بتانا قطعی غیر ضروری ہونے کے باوجود ضروری معلوم ہوتا ہے کہ غالب پر کسی بھی زبان سے زیادہ کتابیں ہماری اپنی زبان میں موجود ہیں۔ فکر غالب، افکار غالب، آثار غالب، احوال غالب، ارمغان غالب، اصہار غالب، فسانۂ غالب، عظمت غالب، بیان غالب، ارضیات غالب، باقیات غالب، بازگشت غالب، دبستان غالب، فرہنگ غالب، فلسفہ ٔ کلام غالب، فرہنگ مرکبات غالب اور دیگر بے شمار کتابوں کے علاوہ ماہناموں، سہ ماہی اور ششماہی ادبی رسالوں کے غالب نمبر اُردو زبان کا وسیع اور  قیمتی سرمایہ ہے۔ 
 اتنا سب کچھ لکھا جاچکا اس کے باوجود آج بھی غالب پر لکھنے کیلئے ادیب اور اُن کا قلم بے قرار رہتے ہیں اور جب اُن کے اشعار کی تفہیم کیلئے کلاسیں چلائی جاتی ہیں تو غیر اُردو حلقوں کے بہت سے لوگ وہاں نہ صرف داخلہ لیتے ہیں بلکہ کلاسوں میں بلاناغہ حاضر بھی رہتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر یونس اگاسکر نے اپنی کتاب ’’غالب: ایک بازدید‘‘ میں کئی طلبہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے ذوق اور تجسس نے اُنہیں غالب کی شخصیت اور شاعری کو نئے زاویوں سے دیکھنے کی تحریک دی۔  اس پس منظر سے یہ سوال اُبھرتا ہے کہ غالب کی اس بے مثال مقبولیت کا رازکیا ہے؟ اس کا جواب مجنوں گورکھپوری کے ایک مضمون سے ملتا ہے جس میں انہوں نے عظیم شخصیتوں کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو خود کوئی کارِ نمایاں انجام نہیں دیتے لیکن اپنی نسل اور اس کے توسط سے بعد کی نسلوں کیلئے مؤثر قوت ثابت ہوتے ہیں ......الخ۔ کچھ بڑے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود اپنی جگہ ایک قوت ہوتے ہیں لیکن دوسروں کیلئے مؤثر نہیں ہوتے ......الخ۔ تیسری قسم کے لوگ بڑی جید اور مؤثر شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ خود تو اپنی جگہ تخلیقی یا اختراعی توانائی رکھتے ہیں لیکن ان کے اندر یہ قوت بھی ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے معاصرین کی قابلیتوں کو نئے انداز سے متاثر کریں بلکہ نسلاً بعد نسل ٍہر زمانہ میں ہونہار نوجوان ذہنوں میں اپنے یادگار کارناموں کے اثر سے فکر و بصیرت کو نئی جلا دیتے رہیں اور اختراع و اکتساب کے میدان میں نئے امکانات اور نئی سمتوں کا احساس پیدا کرتے رہیں۔ ان عظیم شخصیتوں کو ہر عہد کا جدید ذہن اپنا ہمدم اور ہمقدم پاتا ہے اور ہر نوجوان صاحب فکر و تخیل ان کی طرف اپنے کو کھنچتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ غالب اکابر کی اسی تیسری برادری میں سے ہیں اور اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔‘‘ (غالب اور ہم)۔  غالب کی مقبولیت کا راز اُن کی ہمہ گیریت، آفاقیت، معنوی تہ داری، مضمون آفرینی، تخلیقی قوت اور جدت پسندی میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اُن کا شعر برصغیر ہندوپاک ہی میں نہیں، چین، امریکہ، برطانیہ اور افریقہ میں بھی پڑھا اور سمجھا جاسکتا ہے اور اس کے پڑھنے والوں میں معلم و مدرس ہی نہیں،فلکیات و طبیعیات،  انجینئرنگ اور میڈیکل کے طلبہ و اساتذہ بھی ہوسکتے ہیں۔کون جانتا ہے کہ کلام ِ غالب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کا بھی اشارہ مل جائے جبکہ ا س میں قوت نامیہ، کیموس، ریزۂ الماس، کشتہ، عرق بید وغیرہ کا ذکر ملتا ہے! غالب چونکہ ایسی خالص طبی اصطلاحات سے واقف ہیں اس لئے اُن کے تخلیقی استعمال پر بھی قادر ہیں! سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ غالب بقید حیات ہوتے تو اپنے کلام کے شائقین کی خدمت میں آموں کا تحفہ بھجواتے اور بے اعتنائی برتنے والوں سے اپنا ایک ایک  شعر چھین لیتے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK