ہزاروں پارتھو

Updated: August 07, 2022, 9:53 AM IST | Mumbai

مغربی بنگال کے شعبہ ٔ تعلیم میں پائی جانے والی بدعنوانی اور نوٹوں کے ذخیرہ کی برآمدگی سے پورا ملک سناٹے میں ہے مگر ہر شخص جانتا ہے کہ بدعنوانی ہر جگہ، ہر شہر اور ہر ریاست میں ہے اس کے باوجود کوئی غلط نہیں، غلط وہ ہے جو پکڑا جائے۔

partha chatterjee
پارتھو چٹرجی

مغربی بنگال کے شعبہ ٔ تعلیم میں پائی جانے والی بدعنوانی اور نوٹوں کے ذخیرہ کی برآمدگی سے پورا ملک سناٹے میں ہے مگر ہر شخص جانتا ہے کہ بدعنوانی ہر جگہ، ہر شہر اور ہر ریاست میں ہے اس کے باوجود کوئی غلط نہیں، غلط وہ ہے جو پکڑا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۱ء کے درمیان جب پارتھو چٹرجی وزیر تعلیم تھے، اساتذہ کی تقرری کے سلسلے میں ایسے ایسے فراڈ ہوئے ہیں اور اس کیلئے اتنی رقمیں وصول کی گئی ہیں کہ جتنی زیادہ تحقیقات ہوں گی اُتنے زیادہ معاملات سامنے آئیں گے۔ جو بھی ہو،  پارتھو چٹرجی کا سیاسی مستقبل تو ختم سمجھئے۔ مگر کیا یہ واقعہ شعبۂ تعلیم سے بدعنوانی کے خاتمے پر منتج ہوگا؟ دورِ حاضر میں کوئی اتنا سادہ لوح نہیں ہے کہ اس سوال کے جواب میں اُمید ظاہر کرے کہ ہاں شعبۂ تعلیم کو بدعنوانی سے پاک کیا جاسکتا ہے۔۲؍ مئی ۲۰۱۶ء کو جسٹس اے آر دوے، اے کے سیکری، آر کے اگروال، اے کے گوئل اور آر بھانومتی نے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ تعلیم ایک مقدس پیشہ ہے، اس میں بدعنوانی کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہئے چنانچہ وہ فیس جو پراسپیکٹس میں ظاہر کی گئی فیس کے علاوہ اور ماسوا ہے وہ رشوت اور بدعنوانی ہے۔ جسٹس صاحبان نے اسے غیر قانونی قرار دیا تھا مگر ہم آپ بخوبی جانتے ہیں کہ صورت ِ حال کیا ہے۔ اس کا مطالبہ کرنے والے دھڑلے سے مطالبہ کرتے ہیں اور کسی نہ کسی صورت میں داخلہ لینے والے جوں توں کرکے اس مطالبے کو پورا کرکے بے مزا نہیں ہوتے کیونکہ داخلہ لینے کا اُن کا مقصد پورا ہوچکا ہوتا ہے۔آپ بھی ایسے کئی لوگوں کو جانتے ہوں گے جنہوں نے ہنسی خوشی رشوت دے کر داخلہ حاصل کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رشوت لینے والا ہی مجرم نہیں ہے، دینے والا بھی مجرم ہے مگر نہ تو لینے والا لینے سے باز آتا ہے نہ ہی دینے والا استطاعت نہ ہونے کے باوجود اس کا گلہ کرتا ہے۔اِن حالات میں شعبۂ تعلیم کی بدعنوانی کو روکنا مشکل نہیں تقریباً ناممکن ہے کیونکہ یہاں رشوت دینےاور اس معاملے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے لوگ بیقرار رہتے ہیں۔ اُن کے خیال میں اگر اُنہوں نے مطالبہ فوراً سے پیشتر پورا نہیں کیا تو کوئی دوسرا مطلوبہ رقم دے کر داخلہ حاصل کرلے گا۔اس طرح خوشی خوشی رشوت دینے کے لئے بھی لوگ تیار ہوجاتے ہیں۔یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟
 بدعنوانی صرف داخلے کے معاملات ہی میں نہیں ہے بلکہ تعلیم کے ہرذیلی شعبے میں ہے۔خواہ وہ اساتذہ کی تقرریوں کا معاملہ ہویاامتحانات کا۔پارتھوچٹرجی کے معاملے میںموصولہ اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن اساتذہ کو دوسروں  پر فوقیت دے دی گئی جنہوں نے داخلہ امتحان میں معمولی نمبر حاصل کئے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام موٹی رقمیں حاصل کرکے ہی کیا گیاہوگا۔ اس کیس میں بدعنوانی کی اور بھی کئی شکلیں اورجہتیں پائی جاتی ہیں جن پر سے دھیرے دھیرے پردہ اٹھے گا۔ اب تک جو بھی اطلاعات ہیں ان کی حیثیت الزام ہی کی ہے۔ یہ پورا معاملہ سرکاری تقرریوںسے متعلق ہے مگر پرائیویٹ ادارے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں ہیں۔  ہم نہیں جانتے کہ اس میں کتنی صداقت ہے مگر سُنا یہی جاتا ہے کہ بہت سے ادارے اساتذہ کی تقرریوں کیلئے رشوت لیتے ہیں جو بڑی رقموں کی شکل میں ادا کی جاتی ہے۔یہاں بھی وہی معاملہ ہے کہ مطالبہ کرنے والا رقم لے کرخوش رہتا ہےاورمطالبہ پورا کرنے والا ناخوش نہیں ہوتا۔ خلاصۂ کلام یہ ہےکہ مسئلہ ایک پارتھو چٹرجی کا نہیں ہے بلکہ پورے سسٹم میں ہزاروں پارتھوموجود ہیںاور ان سب کی تفتیش ضروری ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK