ناگالینڈ کا سانحہ

Updated: December 07, 2021, 8:40 AM IST | Mumbai

شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ میں ’’جنگجوؤں کے دھوکے میں‘‘ ۱۴؍ عام شہریوں کا قتل نہایت افسوسناک ہے۔ اس پر اُٹھنے والے سوالات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

The killing of 14 civilians in Nagaland "in the guise of militants" is very sad.Picture:INN
ناگالینڈ میں ’’جنگجوؤں کے دھوکے میں‘‘ ۱۴؍ عام شہریوں کا قتل نہایت افسوسناک ہے۔ تصویر آئی این این

شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ میں ’’جنگجوؤں کے دھوکے میں‘‘ ۱۴؍ عام شہریوں کا قتل نہایت افسوسناک ہے۔ اس پر اُٹھنے والے سوالات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر، پہلا سوال یہ کہ سلامتی دستوں کو ملنے والی اطلاع اتنی خام کیوں تھی کہ اِس کی بنیاد پر عام شہریوں کو جنگجو سمجھ لیا گیا؟ دوسرا سوال یہ کہ جن لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں اُنہیں گرفتار کرنے کی کوشش کیو ںنہیں کی گئی؟ گرفتاری ترجیح ہوتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔ تیسرا سوال یہ کہ کیا متعلقہ علاقے میں اس سطح پر اور اتنی شدومد کے ساتھ جنگجوئیت جاری ہے کہ حالات سخت کشیدہ ہوں اور سلامتی دستوں کے پاس دیکھتے ہی گولی مارنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو؟
 موصولہ تفصیل اور اطلاعات کے مطالعے سے ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ اس لئے یہ تحقیق ضروری ہے کہ سلامتی دستوں نے فائرنگ کو ترجیح کیوں دی۔ ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے ایس آئی ٹی کی تشکیل کے ذریعہ حقائق کو سمجھنے کی جانب ہی قدم اُٹھایا ہے اس لئے یہ قابل ستائش ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اُنہوں نے چوطرفہ مطالبہ کے بعد ایسا نہیں کیا بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے۔ آگے بڑھنے سےقبل بتادیں کہ وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے مہلوکین کی آخری رسومات میں شرکت کی اور اُن کے ورثاء کو ۵۔۵؍ لاکھ روپے بطور امداد ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔اعلان کا خیرمقدم مگر یہ رقم ناکافی ہے۔ 
 اس دوران مقامی پولیس نے سلامتی دستوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کا مقصد ’’قتل اور زخمی کرنا ‘‘ تھا۔ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ گولی چلانا اتنا آسان کیوں ہو گیا ہے؟ اسے پہلی ترجیح کیوں بنادیا گیا ہے؟ اسی سے ملتا جلتا سوال یہ ہے کہ جب شورش زدہ علاقوں میں فوجی دستوں کو دیئے گئے خصوصی اختیارات کے قانون ’’افسپا‘‘ کی بہت زیادہ ضرورت نہیں رہ گئی ہے تو اسے منسوخ کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟
  قارئین کو یاد ہوگا کہ منی پور کی جس بہادر خاتون ایروم شرمیلا نے ۱۶؍ سال بھوک ہڑتال کی، ان کا مطالبہ یہی تھا کہ افسپا کو ہٹایا جائے۔ مگر حکومت نے اُن کی ایک نہ سنی۔ نہ تو مرکز کی سابقہ کانگریس حکومت نے اسے قابل اعتناء سمجھا نہ ہی گزشتہ سات سال سے جاری بی جے پی (این ڈی اے) حکومت اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے تیار ہے۔ ایروم شرمیلا نے بھی آسام رائفلس کے ذریعہ ۱۰؍ افراد کے گولیوں سے بھون دیئے جانے کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ 
 جس طرح ۲۰۱۵ء میں تری پورہ سے اور ۲۰۱۸ء میں میگھالیہ سے افسپا ہٹایا گیا، اُسی طرح یہ قانون ہر اُس جگہ سے کیوں نہیں ہٹایا جارہا ہے جہاں یہ نافذ ہے؟ ہماری اطلاع کے مطابق فی الحال اس کا نفاذ جموں، کشمیر، ناگالینڈ، آسام، منی پورکے کچھ علاقوں اور اروناچل پردیش کے کچھ علاقوں میں ہے جبکہ ان ریاستوں میں حالات بڑی حد تک قابو میں آچکے ہیں اور جنگبازی یا علاحدگی پسندی کے جو باقیماندہ اثرات ہیں اُن سے ریاستی پولیس بآسانی نمٹ سکتی ہے۔ ناگالینڈ اور میگھالیہ کے وزرائے اعلیٰ نے افسپا کو ہٹانے کی مانگ کی ہے۔ اچھی بات ہے مگر یہی مانگ پہلے کی گئی ہوتی اور اسے مرکزی حکومت سے گفتگو کا یک نکاتی ایجنڈا بنایا گیا ہوتا تو ممکن تھا کہ صورتحال مختلف ہوگی۔ 
 ضـرورت اب بھی ہے کہ مرکز پر دباؤ ڈال کر افسپا ہٹانے پر آمادہ کیا جائے، اس سے مقامی آبادیوں کوراحت ملے گی اور ناگالینڈ جیسے واقعات کو ٹالا جاسکے گا۔n

nagaland Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK