Updated: October 25, 2026, 3:48 PM IST
| Mumbai
وہ طلبہ جو سول سروسیز کو کریئر کے طور پر اپنانے کے خواہش مند ہیں اور اس کیلئے سخت محنت کر رہے ہیں انہیں بیورو کریسی کا کوئی ایک چہرہ دیکھ کر پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ انہیں اس شعبے کے اُن افسران کو اپنا آئیڈیل بنانے کی کوشش کرنا چاہئے جنہوں نے فرض شناسی کو اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کا وصف ِخاص بنایا۔
گیانیش کمار اور تُکا رام منڈے۔ تصویر: آئی این این
اعلیٰ سرکاری افسر تکا رام منڈے اپنے محکمے ایف ڈی اے کے ذریعے جس کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ وہی ہے جس کی کسی فرض شناس افسر سے امید کی جاتی ہے۔ اپنی کارگزاریوں کے ذریعے وہ اشیائے خوردنی کی صحت کا معائنہ ہی نہیں کر رہے ہیں جس سے عوامی صحت کا براہ راست تعلق ہے بلکہ وہ اپنے جیسے بیوروکریٹس کو بھی ایک پیغام دے رہے ہیں کہ کس طرح اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور ان کی بہترین انجام دہی کی مثال قائم کرنا ان پر لازم ہے۔ آپ محسوس کر رہے ہیں کہ تکارام منڈے اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ یہ ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کر کے ان کی کارروائیوں کو روکنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ایسے افسران سیاسی مداخلت کے اندیشے کے پیش نظر اپنی کارکردگی کو متاثر نہیں کرتے۔ پورے ملک میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف لگاتار احتجاج جاری ہے۔ گیانیش بھی آئی اے ایس افسر ہیں مگر جیسا کہ الزام ہے ان کے اقدامات پر حکمراں سیاسی جماعت کی مداخلت کا سایہ اس قدر دراز اور اتنا دبیز ہے کہ پورے ملک میں ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ اگرتکارام منڈے فرض شناسی کی مثال ہیں تو گیانیش کمار چشم پوشی کی مثال۔ اس تقابل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اعلیٰ افسران کو کس طرح عوام کے مفاد اور اپنے ادارے کے مفاد میں کام کرنا چاہئے۔ بلاشبہ جن تجارتی و صنعتی اکائیوں کے خلاف منڈے نے کارروائی کی ہے وہ اندر سے ناراض ہونگے مگر کسی نہ کسی سطح پر یہ محسوس بھی کرتے ہوں گے کہ غلطی ان کی ہے اور جو اعلیٰ افسر اُن سے بہتری کی امید کرتا ہے وہ غلط نہیں ہے۔ گیانیش اورتکارام کے موازنے سے ہم بیوروکریسی کو بہتر طور پر سمجھ بھی سکتے ہیں کہ اس شعبے میں تکارام جیسے لوگ بھی ہیں اور گیانیش جیسے لوگ بھی۔
وہ طلبہ جو سول سروسیز کو کریئر کے طور پر اپنانے کے خواہش مند ہیں اور اس کیلئے سخت محنت کر رہے ہیں انہیں بیورو کریسی کا کوئی ایک چہرہ دیکھ کر پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ انہیں اس شعبے کے اُن افسران کو اپنا آئیڈیل بنانے کی کوشش کرنا چاہئے جنہوں نے فرض شناسی کو اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کا وصف ِخاص بنایا۔ سول سروسیز کے ذریعے اعلیٰ افسران کی بھاری جمعیت کا حصہ بننے کی خواہش بلا شبہ قابل ذکر اور قابل ستائش ہوگی کیونکہ یہ لوگ اپنے فیصلوں اور اپنے دستخط کے ذریعے عوامی زندگی پر گہرے نقوش ثبت کرتے ہیں۔
سول سروسیز کی راہ اختیار کر کے طلبہ جس بہتر مستقبل کی خواہش کرتے ہیں اس میں خدمت ِ قوم اور خدمت ِخلق کا جذبہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اچھی تنخواہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی مل سکتی ہے مگر سول سروسیز کے ذریعے اعلیٰ سرکاری مناصب تک پہنچنا طالب علموں کو اختیار بھی عطا کرتا ہے، فیصلے کرنے کا اختیار۔ اگر ایسے افسران کو جو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور اس کی انجام دہی میں کوئی کسر نہیں رکھتے آئیڈیل مان کر آگے بڑھا جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایسے افسران کی کمی نہیں ہے جو ان کے آئیڈیل بن سکتے ہیں۔ کچھ مثالیں ماضی سے مل سکتی ہیں اور کچھ مثالیں حال کی ہیں۔ ان سے روشنی حاصل کرنا عزم کو مستحکم کریگا۔