• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی وسط مدتی انتخابات کا منظرنامہ

Updated: October 25, 2026, 3:50 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

ڈونالڈ ٹرمپ نے ان انتخابات کو جیتنے کیلئے کافی زور لگا رکھا ہے جس کی دھمک ہندوستان میں بھی سنائی دے رہی ہے مگر امکانات کم ہیں کہ اُن کے اُمیدوار جیت جائیں۔ ٹرمپ کی مقبولیت کم ہوچکی ہے۔ نتائج دلچسپ ہوسکتے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اگلے ہفتے، ۳؍ نومبر کو، امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہونگے۔ یہ اس لئے وسط مدتی کہلاتے ہیں کہ صدر کی چار سالہ مدت کے وسط میں ہوتے ہیں۔ امریکی اراکین پارلیمنٹ، جنہیں کانگریس مین کہا جاتا ہے، ہر دو سال بعد انتخابات کا سامنا کرتے ہیں۔ وہاں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے: ’’لیم ڈک‘‘ یعنی لنگڑی بطخ۔ کسی لیڈر کے، اقتدار میں پہلے دو سال ہو جاتے ہیں تو اسے لیم ڈک کہا جاتا ہے جیسا کہ ٹرمپ ۳؍ نومبر کے بعد ہونگے۔ لنگڑی بطخ تب کہا جاتا ہے جب پارٹی تسلیم کرے کہ وہ ڈھلتی دھوپ کی طرح ہے، اس کے لئے اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنا آسان نہیں ہے۔ 
ڈونالڈ ٹرمپ خاص طور پر لنگڑے ہونگے اگر ان کی پارٹی ریپبلکن پارلیمنٹ کے ایک یا دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھو دیتی ہے۔ وہ جن قوانین کو نافذ کرنا چاہتا ہے اُنہیں منظور نہیں کروا پائے گا نیز ججوں کی تقرری یا عہدیداروں کی تصدیق نہیں کروا سکے گا۔ اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ اپوزیشن تحقیقات شروع کر کے اور پھر مواخذہ اور دیگر قسم کی سماعتوں کے ذریعے اس کیلئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ 
یہ انتخاب اس لئے دلچسپ ہے کیونکہ یہ انسانی فطرت کے بارے میں کچھ حقائق سامنے لائے گا۔ جمہوری نظاموں کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ افراد عقلی بنیادوں پر ووٹ دیتے ہیں، نہ کہ کسی ’قبائلی‘ انداز میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹر اپنے تصورات کے بجائے ٹھوس پالیسیوں کی حمایت میں ووٹ ڈالتے ہیں خاص طور پر تب، جب کوئی شخص اقتدار میں رہتے ہوئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کررہا ہو۔ اوپنین پولس (Opinion Polls) کہلانے والے رائے عامہ کے تازہ جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ حالیہ تاریخ کے سب سے غیر مقبول صدر ہیں۔ امریکیوں کی اکثریت بشمول وہ لوگ جنہوں نے انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا تھا، یہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھانے میں ناکام ہیں۔ اس کا اندازہ ’اپروول ریٹنگ‘ (Approval Rating) سے ہوتا ہے، جسے کئی معتبر پولنگ ادارے باقاعدگی سے جاری کرتے ہیں۔ اس میں ایک سوال پوچھا جاتا ہے: ’کیا آپ صدر ٹرمپ کے کام کرنے کے انداز سے مطمئن ہیں یا نہیں ؟‘ جواب دینے والے ’ہاں ‘، ’نہیں ‘، یا ’کچھ کہا نہیں جا سکتا‘ کہہ کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی ’اپروول ریٹنگ‘ ۴۰؍ فیصد سے کم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکیوں کی بڑی اکثریت ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ 
معیشت کے حوالے سے ان کی کارکردگی پر عوام کی رائے زیادہ خراب ہے۔ اس بات کو تسلیم کرنا مشکل نہیں ہے، کیونکہ فروری میں ایران میں ہونے والی جنگ کے بعد سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ہر چیز کو مہنگا کر دیا ہے۔ امریکہ میں جنگ سے پہلے پیٹرول کی قیمت ۷۵؍ روپے فی لیٹر تھی جو آج ۱۰۷؍ روپے ہے۔ ڈیزل کی قیمت ۹۰؍ روپے سے بڑھ کر ۱۶۰؍ روپے ہو گئی ہے۔ مہنگائی کی شرح اس سطح سے کہیں زیادہ ہے جتنی ’فیڈرل ریزرو‘ (جو کہ بھارت کے ’آر بی آئی‘ یا پاکستان کے ’اسٹیٹ بینک‘ جیسا ادارہ ہے) چاہتا ہے؛ اور اس کی ایک وجہ وہ ’ٹیرف وار‘ بھی ہے جسے ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے بعد بلاوجہ شروع کیا۔ ہوم لون پر سود کی شرح میں پورے ایک فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 
اب، چونکہ وہ گزشتہ سال جنوری سے اقتدار میں ہیں اور کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ان کی جماعت کا کنٹرول ہے (نیز سپریم کورٹ پر بھی ان کا اثر ہے، جس کے ججوں کو صدر ہی نامزد کرتاہے)، لہٰذا اگر ووٹرز کو یہ محسوس ہوا کہ حالات ان کی توقعات کے مطابق نہیں رہے، تو اس کا ذمہ دار ٹرمپ کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ ٹرمپ نے ان موجودہ امیدواروں کی حمایت کی ہے جو میدان میں اتارے گئے ہیں اس لئے ان کو جو ووٹ ملے گا وہ ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کے حق میں ووٹ مانا جائے گا۔ 
اس بنا پر، اگلے ہفتے ہونے والے انتخابات کے نتائج دلچسپ ہوں گے اور ہمیں اس بات کی جھلک دکھائیں گے کہ لوگ کس طرح ووٹ دیتے ہیں۔ اگر ٹرمپ کے زیادہ تر امیدوار، ان کی جانب سے لوگوں کی روزمرہ زندگیوں کو پہنچنے والے واضح نقصانات کے باوجود کامیاب ہوئے، تو یہ ’قبائلی ذہنیت‘ (Tribalism) کے حق میں ووٹ ہوگا یعنی، ایسے عوامل کی بنیاد پر ووٹ دینا جو مادی مفادات کے برعکس ہیں۔ ایک اور انتہائی دلچسپ پہلو جو اس الیکشن سے سامنے آئے گا، یہ ہے کہ امریکی عوام میں اسرائیل کی بڑھتی غیر مقبولیت کس طرح اس کی غیر مشروط حمایت کے خاتمے کا باعث بنتی ہے۔ 
اس انتخابی عمل میں حصہ لینے والے ڈیموکریٹس میں سے کئی اسرائیل کے سخت مخالف ہیں، جو امریکہ میں پائی جانے والی اس فضا کے عین مطابق ہے جو اب صہیونیت کے خلاف شدت اختیار کر چکی ہے۔ اس کی بڑی وجہ گزشتہ برس نیویارک کے (ریاستی اسمبلی کے) رکن ظہران ممدانی کی جانب سے چلائی گئی جرأت مندانہ مہم ہے؛ وہ پہلے نمایاں امریکی سیاستداں تھے جنہوں نے فلسطینیوں کی حمایت کی اور اس کے باوجود کامیابی حاصل کی۔ 
امریکہ میں ’اے آئی پی اے سی‘ (AIPAC) نامی لابی، جس میں اسرائیل مخالف اُمیدواروں کو ہرانے کی صلاحیت تھی، اب اس قدر بدنام اور بے اثر ہو چکی ہے کہ اس نے امیدواروں کی حمایت کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ اگر ڈیموکریٹس کامیاب ہوئے، تو کیا وہ اس ’ساختی حمایت‘ (Structural Support) کو ختم کر سکیں گے جو اسرائیل کو طویل عرصے سے حاصل رہی ہے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، اور امید کی جانی چاہیے کہ اس کا جواب ’ہاں ‘ میں ہو۔ اسرائیلیوں کی جانب سے انسانیت کو پہلے ہی بہت زیادہ نقصان پہنچایا جا چکا ہے؛ لہٰذا انہیں ہتھیاروں کی فراہمی اور سفارتی حمایت کو روکنے یا کم کرنے سے دنیا یقیناً بہتر ہو سکتی ہے۔ 
ٹرمپ کو اس لئے ہارنا چاہئے کہ یہ ’پاگل پن پر مبنی جنگ‘ ہم سب کو متاثر کر رہی ہے، خاص طور پر خلیجی ممالک میں مقیم ایک کروڑ ہندوستانیوں اور یہاں ان کے اہل خانہ کو۔ اس کے باوجود واشنگٹن اور تل ابیب میں ایران اور خلیجی خطے کے بنیادی ڈھانچے میں مزید تباہی پھیلانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ٹرمپ کی ہار موسم بہار ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK