بجٹ میں غیر روایتی تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے

Updated: January 11, 2021, 11:42 AM IST | Bharat Jhunjhunwala

رواں مالی سال کسی بھی زاویئے سے اطمینان بخش نہیں تھا۔ ایسے میں آنے والے بجٹ کو روایت سے ہٹ کر ہونا چاہئے جو خستہ حال معیشت کو حیات نو بخشنے میں کامیاب ہو۔

Petrol Station - Pic : INN
پیٹرول اسٹیشن ۔ تصویر : آئی این این

موجودہ مالی سال ۲۱۔۲۰۲۰ء قطعی خلاف معمول تھا جس کیلئے مَیں انگریزی لفظ ’’ابنارمل‘‘ استعمال کرنا چاہوں گا۔ اس مضمون میں میری کوشش ہوگی کہ آنے والے بجٹ کے بارے میں اپنی رائے ( ۲۰۔۲۰۱۹ء کے اعدادوشمار کی بنیاد پر) دوں۔ محصولات کے باب میں میرا پہلا مشورہ یہ ہے کہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے۔ ۲۰۔۲۰۱۹ء میں کارپوریٹ ٹیکس کے ذریعہ مرکزی حکومت نے ۳ء۲؍ لاکھ کروڑ روپے حاصل کئے۔ اس مد میں ملنے والی رقم کو ۴؍ لاکھ کروڑ روپے ہونا چاہئے۔  بلاشبہ اس کی وجہ سے کارپوریٹ کمپنیاں اپنا صدر دفتر بیرونی ملکوں میں منتقل کرنا چاہیں گی تاکہ ٹیکس کی بڑی رقم ادا کرنے سے بچ جائیں چنانچہ ضروری ہوگا کہ حکومت ’’ڈبل ٹیکس اوائیڈنس ایگریمنٹس‘‘ میں ترمیم کرے۔ 
 میرا دوسرا مشورہ یہ ہے کہ آمدنی ٹیکس میں اضافہ ہو۔ حکومت کو آمدنی ٹیکس سے ملنے والی رقم ۲۰۔۲۰۱۹ء میں ۲ء۸؍ لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اسے بھی ۴؍ لاکھ کروڑ ہونا چاہئے۔ چونکہ اس صورت میں ٹیکس دہندگان کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا اس لئے اُن کے پاس خرچ کرنے کی رقم کم ہوجائیگی اور اس کا براہ راست اثر مارکیٹ میں ڈیمانڈ پر پڑے گا۔ ڈیمانڈ کم ہوجائے گی۔ ٹھیک ہے، اس کا بھی مداوا کیا جاسکتا ہے اور میری رائے میں اِدھر ڈیمانڈ کم ہوئی تو اُدھر ہیلی کاپٹر منی سے ڈیمانڈمیں اضافہ ممکن ہوگا۔ ہیلی کاپٹر منی کیا ہے، یہ مَیں کچھ دیر بعد آپ کے گوش گزار کروں گا۔
 میرا تیسرا مشورہ ہے کہ جی ایس ٹی کی شرح کم کی جائے۔ مالی سال ۲۰۔۲۰۱۹ء میں جی ایس ٹی سے حاصل شدہ رقم ۶ء۱؍ لاکھ کروڑ روپے تھی۔ ۲۲۔۲۰۲۱ء میں اسے کم کرکے ۴؍ لاکھ کروڑ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اشیاء سستی ہوں گی چنانچہ مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور اس کے ساتھ ہی فروخت بڑھے گی۔ 
 میرا چوتھا مشورہ ہے کہ کسٹم ڈیوٹی میں تین گنا اضافہ کیا جائے۔ ۲۰۔۲۰۱۹ء میں حکومت کو کسٹم ڈیوٹی سے جو رقم حاصل ہوئی تھی وہ صفر اعشاریہ ۶؍ لاکھ کروڑ رپے تھی۔ اسے ۲۲۔۲۰۲۱ء میں ۲؍ لاکھ کروڑ تک پہنچنا چاہئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ دیسی پیداوار میں حیرت انگیز اضافہ ہوگا او رجو دیسی کمپنیاں متعلقہ مصنوعات اور اشیاء تیار کرتی ہیں اُنہیں بیرونی ملکوں سے درآمد ہونے والی مصنوعات اور اشیاء کا مقابلہ نہیں کرنا پڑے گا۔ 
 پانچواں مشورہ پٹرولیم مصنوعات پر سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں اضافے کا ہے۔ ۲۰۔۲۰۱۹ء میں مرکزی حکومت کو  ایکسائز کے ذریعہ ۲ء۵؍ لاکھ کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی۔ ۲۲۔۲۰۲۱ء میں اسے ۴؍ لاکھ کروڑ تک پہنچانا چاہئے۔ بے شک اس سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائیگا اور عام آدمی پریشان ہوگا مگر اس کی تلافی ہیلی کاپٹر منی سے ممکن ہوگی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ 
 چھٹا مشورہ یہ ہے کہ مالیاتی خسارہ جو ۲۱۔۲۰۲۰ء کے جاری مالی سال میں متوقع طور پر ۷؍ فیصد سے زائد ہوگا اسے کم کرکے جی ڈی پی کا ۳ء۸؍ فیصد کیا جائے جیسا کہ ۲۰۔۲۰۱۹ء میں تھا۔ اس کی وجہ سے ۷ء۶؍ لاکھ کروڑ کے قرض کی سہولت میسر آئے گی۔ اس کی وجہ سے مرکزی حکومت کا مجموعی بجٹ ۳۰؍ لاکھ کروڑ روپے کا ہوگا۔ 
 اخراجات کی بات کریں تو اس باب میں میرا پہلا مشورہ یہ ہے کہ دفاع کیلئے مختص کی جانے والی رقم میں اضافہ کیا جائے۔ مرکزی حکومت نے ۲۰۔۲۰۱۹ء میں ۴ء۴؍ لاکھ کروڑ روپے اس مد میں خرچ کئے۔ ۲۲۔۲۰۲۱ء میں اسے ۷؍ لاکھ کروڑ روپے کیا جائے کیونکہ ہمیں چین سے خطرہ ہے اور تسلسل کے ساتھ انتباہات مل رہے ہیں۔ دوسرا مشورہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن پر خرچ ہونے والی رقم بڑھائی جائے۔ مرکز نے صفر اعشاریہ ۳؍ لاکھ کروڑ روپے ان میں سے ہر مد میں خرچ کئے۔ اس میں پانچ گنا اضافہ کرکے دونوں مدوں کی رقم کو ۱ء۵؍ لاکھ کروڑ تک لانے کی ضرورت ہے۔ یہ اقدام مستقبل کی ہماری ٹیکنالوجیکل ترقی کی بنیاد بنے گا۔ 
 تیسرا مشورہ یہ ہے کہ ہوم اور ہیلتھ منسٹری کا بجٹ جو ۱ء۴؍ لاکھ کروڑ روپے ہے اسے برقرار رکھا جائے۔ 
 چوتھا مشورہ یہ ہے کہ انفراسٹرکچر پر خرچ ہونے والی رقم کو کچھ عرصہ کیلئے کم کیا جائے اور عوامی فلاح کی اسکیموں نیز عوامی تقسیم کاری نظام، منریگا، تعلیم وغیرہ کے خرچ کو کم کیا جائے۔ سال مذکور یعنی ۲۰۔۲۰۱۹ء میں حکومت نے ان مدوں میں ۲۰؍ لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے جسے ۲۲۔۲۱ء میں ۱۰؍ لاکھ کروڑ کیا جانا چاہئے۔متذکرہ بالا ترمیمات کے ساتھ ان تمام اخراجات کیلئے ۲۲؍ لاکھ کروڑ روپے درکار ہوں گے چنانچہ ۳۰؍ لاکھ کروڑ کے مجموعی بجٹ میں حکومت کے پاس ۸؍ لاکھ کروڑ روپے پس انداز ہوسکیں گے ۔ اس رقم کو ’’ہیلی کاپٹر منی‘‘ کے طور پر ملک کے ۱۴۰؍ کروڑ شہریوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ہر شہری کو ۵؍ سو روپے ملیں گے۔ عوام کے کھاتوں میں پہنچنے والی اس رقم سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہونے والے نقصان کی تلافی اور عوامی اسکیموں پر رقوم کے کم کئے جانے سے ہونے والی دشواری سے نمٹا جاسکے گا۔ اس سے بازار میں اشیاء کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ اُدھر امپورٹ ڈیوٹی میں اضافہ کی وجہ سے بھی گھریلو صنعتوں کی بن آئے گی جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ پورا دائرہ حرکت میں آئے گا جو معاشی بہتری کیلئے ازحد ضروری سمجھا جاتا ہے یعنی مانگ میںہونے والا اضافہ پیداوار کے اضافے کو یقینی بنائے گا، اس کی وجہ سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے، لوگوں کے پاس خرچ کرنے کیلئے رقم ہوگی اور اس کی وجہ سے پھر مانگ میں اضافہ ہوگا۔ اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ٹیکسوں میں اضافے اور ہیلی کاپٹر منی کی وجہ سے گھریلو مانگ میں اضافہ ممکن ہے تو اسی مقصد کے حصول کیلئے قرض کیوں لیا جائے؟ 
 اخیر میں یہ جان لیجئے کہ ہیلی کاپٹر منی کیا ہے۔ غیر روایتی مالیاتی پالیسی کو ہیلی کاپٹر منی کہا جاتا ہے جس کو معاشی خستہ حالی کے دور میں بروئے کار لانے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے مگر اوپر دیئے گئے مشوروں کے مطالعے کے بعد آپ جان گئے ہونگے کہ یہ تجاویز بھی غیر روایتی ہیں۔ کاش ان پر عمل ہو

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK