ہم نے اپنے ادباء سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ انہوں نے سال بھر میں ایسی کون کون سی کتابوں کا مطالعہ کیا جو دیگر قارئین کو بھی پڑھنی چاہئے۔ موجودہ دور میں اگر چہ ٹی وی، انٹرنیٹ اور موبائل نے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے لیکن مطالعے کے لئے نئے نئے ذرائع متعارف ہو چکے ہیں اور ورقی کتابوں کی جگہ لوگ پی ڈی ایف کتابوں کے اسیر ہورہے ہیں لیکن پھر بھی شائع شدہ کتابوں کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلَّم اور برقرار ہے
اس سال کون سی کتابیں زیرمطالعہ رہیں
موجودہ دور میں اگر چہ ٹی وی، انٹرنیٹ اور موبائل نے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے لیکن مطالعے کے لئے نئے نئے ذرائع متعارف ہو چکے ہیں اور ورقی کتابوں کی جگہ لوگ پی ڈی ایف کتابوں کے اسیر ہورہے ہیں لیکن پھر بھی شائع شدہ کتابوں کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلَّم اور برقرار ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے مطالعے کے ذوق کو کافی نقصان پہنچایا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کتاب کا نعم البدل ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کتابوں کے مطالعہ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ پڑھی ہوئی باتیں آدمی کے ذہن پر مرتسم ہو جاتی ہیں اور دیر پا ثابت ہوتی ہیں۔ پڑھے ہوئے مواد پربوقت ضرورت آسانی سے نگاہ ڈالی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی کتابوں کے مطالعہ سے انسان کے ذہن و دماغ کی ورزش بھی ہوتی ہے، اور اس کے سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور اپنی بات کہنے اور دوسروں کی بات سمجھنے کے نئے زاویوں سے آگاہ ہو تا ہے۔ چونکہ سال کا اختتام ہونے کو ہے اسی لئے ہم نے اپنے ادباء سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ انہوں نے سال بھر میں ایسی کون کون سی کتابوں کا مطالعہ کیا جو دیگر قارئین کو بھی پڑھنی چاہئیں۔ پیش ہیں اقتباسات
معروف تجزیہ نگار، ترجمہ نگار اور ادیب ڈاکٹر محمد اظہر حیات نے کہا کہ گزشتہ سال بھر میں ان کے زیر مطالعہ مختلف کتابیں رہیں جن میں سب سے پہلا ذکر وہ اظہر بخش اظہر کے شعری مجموعہ ’محبوب خیالی ‘ کا کرنا چاہیں گے جس میں ان کی متعدد غزلیں ہیں۔ موصوف الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے بھی کافی مقبول ہیں اور ان کا یہ شعری مجموعہ عصر حاضر کے مسائل کی بازگشت محسوس ہو تا ہے جس میں انہوں نے حقیقت پر پڑے پردے کو بڑی چابکدستی سے بے نقاب کیا ہے۔ ڈاکٹر اظہر حیات کے مطابق دوسری کتاب انہوں نے معروف ناقد ڈاکٹر غضنفر اقبال کی ’وہ ایک کہانی ‘پڑھی ہے جو مضامین کا مجموعہ ہے۔اس کتاب میں اردو فکشن پر مختلف عناوین سے مضامین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر غضنفر اقبال کے تحریر کردہ تبصرے بھی شامل کتاب ہیں۔ تمام مضامین اور تبصروں کا خاص پہلو یہ ہے کہ ان کو تنقید کی کسوٹی پر پرکھا اور دیکھا گیا ہے۔ گویا یہ کتاب تنقید کے میدان میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ڈاکٹر اظہر حیات نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ تحقیق و تنقید کے حوالے سے ڈاکٹر شمیم اختر کی ایک کتاب ’ودربھ میں بچوں کا نثری ادب اور وکیل نجیب‘ بھی زیر مطالعہ رہی ہے۔ اس کتاب میں ودربھ میں بچوں کے لئے نثر لکھنے والے بیشتر ادباء کا ذکر ہے،خصوصاً بچوں کے ادب کے حوالے سے وکیل نجیب کی خدمات پر بحث کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ دنوں ایک کتاب مراٹھی میں موصول ہوئی ہے جس کا موضوع کافی متنازع قرار دیا جاتا ہے۔ یہ کتاب ہندوتوا کے موضوع پر ہے جس کے مصنف ناگپور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ایس این پٹھان ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں ہندوتوا کے موضوع پر بحث کی ہے جسے نئے تناظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔
معروف صحافی و مصنف فرحان حنیف وارثی نے بتایا کہ’’مطالعہ کے لئے میرا کوئی بندھا ٹکا اصول نہیں ہے جو کتاب مل جائے اس کا مطالعہ میرا معمول ہے۔موضوع کی بھی کوئی قید نہیں ہے اس لئے مختلف کتابیں میرے زیر مطالعہ رہتی ہیں۔‘‘ فرحان حنیف کے مطابق اس سال انہوں نے اپنی زیادہ تر توجہ دیگر زبانوں کے تراجم پر مرکوز کر رکھی تھی اسی وجہ سے کچھ بہترین کتابیں ان کے مطالعہ میں آگئیں۔ ان میں پہلا ذکر انہوں نے مشہور اداکار نواز الدین کی سوانح ’اے آرڈنیری لائف : اے میموئر‘ کا کیا۔ اس کے علاوہ اروندھتی رائے کے ناول ’منسٹری آف اَٹ موسٹ ہیپی نیس ‘کا اردو ترجمہ’ بے پناہ شادمانی کی مملکت ‘بھی اس سال زیر مطالعہ رہا ہے۔ ارجمند آراء نے اس ناول کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ انہوں نے وبھوتی نارائن رائے کی کتاب ’’ہاشم پورہ ۲۲؍ مئی‘‘ کا بھی ترجمہ کیا ہے جو خاصے کی چیز ہے۔فرحان حنیف کے مطابق اروندھتی رائے کے مذکورہ بالا ناول کا شمار کامیاب ناولوں میں ہوتا ہے اور یہ ۴۰؍ سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ یہ ناول ایک دستاویزی حیثیت کا ناول ہے جس میں اروندھتی رائے نے ملک کی تہذیبی اور سیاسی فضا کا بالکل ٹھیک ٹھیک نقشہ کھینچا ہے۔ یہ ناول کئی ابواب پر مشتمل ہے جس میں سب سے اہم باب کشمیر کا ہے۔ اس ناول کا کینواس بہت وسیع ہے اوراروندھتی رائے نے زعفرانی ٹولے کی سازشوں کو بڑی بیباکی سے بے نقاب کیا ہے۔ ایک اور پسند آنے والی کتاب اسکرپٹ رائٹر و صحافی جاوید صدیقی کے خاکوں کا مجموعہ ’لنگر خانہ ‘ ہے۔اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ لنگر خانہ اس گلی کا نام ہے جہاں کی مٹی نے میرے پیروں کے نشانوں کو بڑا ہوتے دیکھا ہے، وہ گلی تو وہیں ہے مگر لنگر خانہ میرے ساتھ آگیا ہے۔اس مجموعے میں آٹھ خاکے یا خاکہ نما موجود ہیں ۔ فرحان حنیف کے مطابق سچ کہوں تو ان خاکوں کو پڑھتے وقت انہیںذرا بھی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ یہ ان خاکوں کی اثرپذیری اور جاوید صاحب کے قلم کا کمال ہے۔ اس کتاب میں انہیں ’کیفی صاحب لال سلام ‘ اور ’ایک بے حد شریف آدمی‘ نے کافی متاثر کیا۔ ان کتابوں کے علاوہ فہمیدہ ریاض، نیّر مسعود اور فیاص رفعت کی تخلیقات بھی ان کے زیر مطالعہ رہیں۔
معروف افسانہ نگار عزیز رحیمی نے بتایا کہ ان کے مطالعہ میں اس سال متعدد کتابیں رہیں لیکن وہ جس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں وہ امریکی مصنف ولیم سرویاں کا ناول ’ہیومن کامیڈی ‘ ہے ۔عزیز رحیمی کے مطابق ہیومن کامیڈی کا اردو ترجمہ شفیق الرحمٰن نے کیا ہے۔ یہ ناول جنگ کے پس منظر میں ہے جس کی کہانی ایک خاتون خانہ اور اس کے ۳؍ بچوں کے اردگرد گھومتی ہے۔ ناول میں خصوصی طور پر کوئی پلاٹ نہیں ہے لیکن زندگی کے مختلف واقعات کی مدد سے کہانی کاتانا بانا بنا گیا ہے۔ اس خاتون خانہ کا ایک بچہ جنگ لڑنے کے لئے فوج میں بھرتی کرلیا جاتا ہے جبکہ دوسرا بچہ ہرکارہ (ڈاکیہ)بن جاتا ہے اور وہ جن جن افراد کے خط پہنچاتا ہے کہانی انہی کے واقعات کے سہارے آگے بڑھتی ہوئی محسوس ہو تی ہے۔ عزیز رحیمی نے مزید بتایا کہ اس ایک ناول کے علاوہ معروف شاعر نظام الدین نظام کا دوسرا شعری مجموعہ ’دوسری زمین‘ جسے معروف ڈراما نگار اقبال نیازی نے شائع کروایا ہے، بھی ان کے زیر مطالعہ ہے۔ اس کتاب کی تمام غزلیںجدید لب و لہجے کی بہترین شاعری ہے اور یہ کتاب پڑھنے کے بعد محسوس ہو تا ہے کہ اگر نظام آج حیات ہوتے تو بہترین شعراء میں شمار کئے جاتے۔
ممبئی کے معروف ادبی مجلہ اردو آنگن کے مدیر امتیاز گورکھپوری نے بتایا کہ وہ ہر ماہ کتابیں خریدنے کا ایک بجٹ مختص رکھتے ہیں جس سے وہ مختلف اصناف کی کتابیں خریدتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ان کے زیر مطالعہ ساحر کی سوانح پر مبنی کتاب ’ ناکامِ محبت ‘ ہے جسے اظہر جاوید نے مرتب کیا ہے۔اس کے علاوہ جرمنی میں اردو کے معروف مصنف سید انور ظہیررہبر کے افسانوں کا مجموعہ ’عکس آواز‘ بھی ان کے زیر مطالعہ رہا ہے۔ یہ افسانہ عالمی موضوعات پر ہیں اوران کا خیال ہے کہ اردو کے قارئین کو ضرور پڑھنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ کی مصنفہ بشریٰ بختیار خان کی غزلوں کا انتخاب ’رَسین ‘ بھی مطالعہ میں رہا ہے۔ امتیاز گورکھپوری نے مزید کہا کہ فہیم اختر کے افسانوں کا انتخاب فی الحال وہ پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے قارئین سے اپیل بھی کی کہ وہ کتابوں کے سلسلے میں ماہانہ بجٹ بنائیں اور کتابیں خرید کر پڑھیں تبھی یہ زبان اور اس کا ادب زندہ رہے گا۔
نوجوان افسانہ نگاراور کونسلر عمران جمیل نے بتایا کہ’’اس سال کتابوں سے میرا تعلق ویسا نہیں بن سکا جیسا کہ ہونا چاہئے تھا لیکن اس دوران بھی کچھ اہم کتابیں مطالعہ کی میز تک آگئیں جن میں عزیز نبیل کا شعری مجموعہ ’آواز کے پَر کھلتے ہیں‘ اور ڈاکٹر ارشد جمال صارم کی ’ سخن زاد‘ شامل ہیں۔ یہ دونوں کتابیں موضوعات کے اعتبار سے شاعری میں برتی جانے والی تکنیک دلکشی، نغمگی اور بامعنی و پیغامی اشعار کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ اسی کے ساتھ سید محمد اشرف کا ’ ڈار سے بچھڑے‘ ایک طویل اور متاثر کن افسانہ ہے جو زیر مطالعہ رہا ہے۔ ڈار سے بچھڑےکے لافانی کردار غلام علی اور سلیم اللہ وغیرہ کی یہ ایک ایسی دلچسپ داستان جسے پڑھ کر قاری ناسٹلجیا کے حصار میں چلا جاتا ہے۔اس افسانہ کی نثر بہت ہی متاثرکن اور دلچسپ ہے۔ ہما فلک کا افسانوی مجموعہ’روح دیکھی ہے کبھی‘ اوررومانہ تبسم کا افسانوی مجموعہ ’صبح بہاراں ‘ مطالعہ میں رہے ہیں۔ عمران جمیل کے مطابق شاعری اورافسانوں کے چند مجموعوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اقبال برکی کی بچوں کے ادب پر مبنی ’ بادشاہ کا انتخاب‘ بھی مطالعہ میں آ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کتابوں کے علاوہ مختلف رسائل و جرائدبھی زیر مطالعہ رہے ہیں لیکن خصوصی طور پر ان کتابوں کا ذکر اس لئے کیا گیا تاکہ قارئین بھی ان کے مطالعے کی طرف متوجہ ہوں۔