یوم اُردو

Updated: November 09, 2021, 12:55 PM IST

آج شاعر مشرق اور حکیم الامت ڈاکٹر سر محمد اقبال المعروف بہ علامہ اقبال کا یوم ولادت ہے۔ اس دن علامہ کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خدمات اور ان کے پیغام کو بھی یاد کیا جاتا ہے۔

Muhammad Iqbal.Picture:INN
علامہ اقبال۔ تصویر: آئی این این

آج شاعر مشرق اور حکیم الامت ڈاکٹر سر محمد اقبال المعروف بہ علامہ اقبال کا یوم ولادت ہے۔ اس دن علامہ کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خدمات اور ان کے پیغام کو بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے اور ہم چند رسمی اور روایتی پروگراموں کے علاوہ کچھ نہیں کرتے ہیں تو ہمارا مشورہ ہے کہ ایسا ہونا چاہئے۔ اس دنیا کو اقبال کی ضرورت جتنی کل تھی اتنی ہی آج بھی ہے کیونکہ اقبال نے جن جن چیزوں کے خلاف متنبہ کیا تھا وہ سب آج ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں۔ ’’مشینوں کی حکومت بڑھ رہی ہے‘‘، ’’فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں‘‘ آج بھی ہے اور ’’یہاں ساقی نہیں پیدا، وہاں بے ذوق ہے صہبا‘‘کی کیفیت آج بھی برقرار ہے۔ ہماری کوشش یہ بھی ہونی چاہئے کہ اقبال کے نظریات و تعلیمات سے نئی نسل کو آگاہ کیا جائے جن کی شاعری کا براہ راست مخاطب نوجوانوں کا طبقہ ہے۔ افسوس کہ ہمارے نوجوانوں کی بڑی تعداد فکر ِاقبال سے نابلد ہے جنہوں نے رب العالمین سے دعا کی تھی کہ ’’جوانوں کو مری آہ سحر دے= پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے‘‘۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ نوجوان ہی بے اعتنائی کا شکار نہیں، اُن کی پیش رو نسل بھی اقبال سے اپنے تعلق کو نبھانے میں ناکام ہے۔ بانگ درا کا ایک نسخہ برسوں سے گھر میں تھا، اب نہیں رہا۔ اقبال پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ الماری سے ’’پتہ نہیں کون لے گیا!‘‘۔ یہ حال ہے ہمارا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کل تک لوگوں کو اقبال کی مشہور نظموں کے بند کے بند زبانی یاد ہوا کرتے تھے، اب خال خال ہی ایسے لوگ ملیں گے۔ اس لئے یہ اندیشہ دامن گیر ہے کہ ہم جو فکر و فلسفہ ٔ اقبال سے محروم ہوچکے تھے، اب کہیں اقبال ہی سے محروم نہ ہوجائیں۔  چونکہ اس دن کو ’’یوم اُردو‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اہل اُردو اس دن اپنا محاسبہ کریں کہ ہمارے دلوں میں اپنی پیاری زبان کی کتنی محبت ہے اور اس محبت کا عملی ثبوت کیا ہے۔ کیا ہم اُردو کو اپنا شناخت نامہ بناتے ہیں؟ کیا اُردو کی ترویج و اشاعت میں ہمارا کوئی حصہ ہے؟ کیا زبان کو سمجھنے اور سمجھانے میں ہمارا کوئی کردار ہے؟ کیا ہم اُردو کے اُن الفاظ کو، جو آنجہانی ہوچکے ہیں یا لب مرگ ہیں، نئی زندگی عطا کررہے ہیں؟ کیا ہم مردم شماری میں اپنی مادری زبان اُردو لکھواتے ہیں؟ کیا بچوں کو اسکول میں داخل کرواتے وقت ہماری اولین ترجیح اُردو ذریعۂ تعلیم ہوتی ہے؟ کیا ہم گھروں میں اپنے بچوں سے اُردو میں گفتگو کرتے ہیں (یا کسی ایسی زبان میں جسے اُردو سمجھنا اپنی خام خیالی کے علاوہ کچھ نہیں ہے)؟  جس طرح خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے اسی طرح، کوشش کردیکھئے، زبان بھی ’بانٹنے‘ سے بڑھتی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ ایک لفظ گھر میں یا دوستوں میں ایک سے زائد بار استعمال کیجئے، چند ہی دنوں میں وہ لفظ کسی اور کی زبان سے آپ تک پہنچے گا۔ چونکہ اُردو مہذب، شائستہ اور شیریں زبان کے طور کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے اس لئے لوگ اُردو الفاظ کے استعمال میں تکلف نہیں کرتے۔ آج کل نیوز چینلوں کی ہندی میں کتنی اُردو (غلط یا صحیح) ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُردو کی قبولیت کا امکان ہنوز کافی وسیع ہے، ضرورت یہ ہے کہ اہل اُردو شعوری کوشش کے ذریعہ اُردو کو عام کرتے رہیں کہ یہ، اپنی زبان کی ترویج کا بہت آسان، مجرب اور تیر بہدف نسخہ ہے۔یہی نہیں، اگر ’’بعض وجوہات کی بناء پر‘‘ ہم نے اپنے بچوں کو کسی اور میڈیم کے اسکول میں داخل کیا ہے تو کم از کم اتنا کیجئے کہ ایک معلم کو بلا کر اُسے گھر کے بچوں کو اُردو پڑھانے پر مامور کریں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK