ایک انٹرویو میں مرکزی وزیر جے شنکر نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے ہندوستانی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے حوالے سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ہر جہاز کیلئے انفرادی معاہدہ ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 4:05 PM IST | Mumbai
ایک انٹرویو میں مرکزی وزیر جے شنکر نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے ہندوستانی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے حوالے سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ہر جہاز کیلئے انفرادی معاہدہ ہوا ہے۔
ہندوستان کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہندوستانی پرچم والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے کوئی جامع یا عمومی انتظام موجود نہیں ہے اور ہر جہاز کی نقل و حرکت ایک الگ معاملہ ہوتا ہے۔ اتوار کو برسلز میں فائنانشیل کو دئیے گئے انٹرویو میں جے شنکر نے کہا کہ اس اہم آبی راستے سے ہندوستانی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے بارے میں ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ہفتہ کے روز دو ہندوستانی پرچم بردار گیس ٹینکر آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، جو اس بات کی مثال ہے کہ سفارت کاری کیا حاصل کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ میں اس وقت ان سے بات چیت میں مصروف ہوں اور میری بات چیت کے کچھ نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ عمل جاری ہے۔ اگر اس سے نتائج مل رہے ہیں تو ظاہر ہے میں اسے جاری رکھوں گا۔ جے شنکر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ہندوستانی پرچم والے جہازوں کے لیے آبنائے سے گزرنے کا کوئی جامع انتظام موجود نہیں ہے اور ہر جہاز کی نقل و حرکت ایک الگ واقعہ ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ایران کو اس کے بدلے میں کچھ دیا گیا ہے اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ایک تاریخ موجود ہے، جس کی بنیاد پر میں نے بات چیت کی۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’یہ کسی تبادلے کا معاملہ نہیں ہے۔‘‘
جے شنکر نے کہا کہ ’’ ہندوستان اور ایران کے درمیان تعلقات ہیں اور ہم اس تنازع کو ایک نہایت افسوسناک صورتحال سمجھتے ہیں۔ ابھی یہ ابتدائی دن ہیں۔ ہمارے مزید کئی جہاز وہاں موجود ہیں۔ اس لیے اگرچہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن بات چیت جاری ہے کیونکہ اس معاملے پر مزید کام کرنا باقی ہے۔‘‘
جے شنکر کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ڈونالڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ دیگر ممالک جیسے چین، فرانس اور برطانیہ عظمیٰ بھی جنگی جہاز بھیجیں تاکہ امریکہ کے ساتھ مل کر اس اہم آبی گزرگاہ کو کھولنے میں مدد کریں۔ اس دوران ایران کی جانب سے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے:ایل پی جی بحران کے بعد کیا دودھ کی صنعت بھی متاثر ہوگی؟
دو ہندوستانی پرچم بردار ایل پی جی بردار جہاز شیوالک اور نندا دیوی ہفتہ کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد۹۲۷۱۲؍ میٹرک ٹن ایل پی جی لے کر ہندوستانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کے بالترتیب ۱۶؍مارچ کو مندرا پورٹ اور ۱۷؍مارچ کو کاندلا پورٹ پہنچنے کی توقع ہے۔ ہندوستانی حکام کے مطابق مزید ۲۲؍ ہندوستانی پرچم بردار جہاز اب بھی آبنائے کے مغرب میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:قطر میں شیڈول اسپین اور ارجنٹائنا کا فائنليسيما میچ منسوخ
عراغچی نے برکس (جس کی اس وقت قیادت ہندوستان کر رہا ہے) سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔ اس کے بعد ہندوستان کی جانب سے کہا گیا کہ تنازع کے بارے میں مشترکہ برکس موقف بنانے کی نئی دہلی کی کوششیں واضح طور پر متاثر ہوئی ہیںکیونکہ اس گروپ کے کچھ اراکین براہ راست اس صورتحال میں شامل ہیں۔‘‘