Updated: March 16, 2026, 4:06 PM IST
| Vatican City
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے دوران عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ویٹیکن کے سربراہ پوپ لیو نے تمام فریقوں سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے فرانسیسی صدر سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
(۱) پوپ لیو نے تمام فریقوں سے جنگ بندی اور بات چیت پر زور دیا
ویٹیکن کے سربراہ پوپ لیو نے مشرق وسطیٰ میں جاری ایران، اسرائیل اور امریکہ کے تنازع پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’’تشدد کا سلسلہ فوری طور پر روکنا ضروری ہے کیونکہ جنگ صرف تباہی اور انسانی نقصان کا باعث بنتی ہے۔‘‘ پوپ لیو نے عالمی لیڈروں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کیلئے عملی اقدامات کریں اور سفارتی راستہ اختیار کریں۔ ان کے مطابق ’’مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ہیں جو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ کے نتیجے میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے بقول ’’ہمیں ان لاکھوں لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہئے جو اس تنازع کے باعث خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران کی جدید میزائلوں سے اسرائیل میں تباہی
(۲) پیزشکیان کا فرانسیسی صدر کو فون، ایران اپنی سرزمین کا دفاع کرے گا
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے فرانسیسی صدر سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس گفتگو میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پیزشکیان نے کہا کہ حالیہ امریکی حملے بعض خلیجی ممالک کی سرزمین سے کیے گئے تھے جس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایران کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے اور اپنی قومی سلامتی کا بھرپور دفاع کرے گا۔‘‘ فرانسیسی صدر کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بحران کے حل کیلئے سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۲۵۰؍ ویں سالگرہ پر نئے سکے کا اجرا، امن کی علامت زیتون کی شاخ غائب
(۳) ایران نے حملوں کی مشترکہ علاقائی تحقیقات کی تجویز دی
ایران نے حالیہ حملوں کی مشترکہ علاقائی تحقیقات کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کے اہداف امریکہ سے منسلک تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایک آزاد اور شفاف تحقیقات سے یہ واضح ہو سکے گا کہ حملوں کی اصل نوعیت اور ذمہ دار کون ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ علاقائی ممالک مل کر اس معاملے کی تحقیقات کریں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔‘‘ ان کے مطابق ایران اس معاملے میں تعاون کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت کرے گا جو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو۔