اس کے باوجود تھکنا نہیں چاہتے۔ یہی اُن کی نمایاں خصوصیت ہے۔ یوم اُردو پر معدودے چند اُردو نواز اہل اُردو سے قطع نظر، ہماری اُمیدوں کا مرکز وہ طلبہ ہیں جو اسکولوں اور مدرسوں میں اُردو کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 12:40 PM IST | Mumbai
اس کے باوجود تھکنا نہیں چاہتے۔ یہی اُن کی نمایاں خصوصیت ہے۔ یوم اُردو پر معدودے چند اُردو نواز اہل اُردو سے قطع نظر، ہماری اُمیدوں کا مرکز وہ طلبہ ہیں جو اسکولوں اور مدرسوں میں اُردو کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
کل کا دن (۹؍ نومبر) عالمی یوم اُردو کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کیا ہوگا، کہاں کہاں تقریبات ہوں گی، ان میں اُردو کی بقاء کیلئے کیا منصوبہ بندی ہوگی، ان منصوبوں پر کتنا عمل ہوگا، دیگر زبانوں کے لوگوں کو شریک کیا جائیگا یا نہیں، اُن اہل اُردو کو مدعو کیا جائیگا یا نہیں جو زبان کے قریب نہیں آنا چاہتے بلکہ دور کے سلام پر اکتفا کرتے ہیں، اُن لوگوں کو تلاش کیا جائیگا یا نہیں جن کے سینے میں اُردو کا درد ہے مگر وہ نام و نمود سے دو رہتے ہیں یہ سوالات تشنہ ٔ جواب ہیں۔ ہم سمجھ رہے ہیں کہ کچھ ہوگا مگر ہوگا یا نہیں یہ بھی ایک سوال ہے۔ گمان غالب ہے کہ چند تقریبات ہی سہی، ہوں گی ضرور کیونکہ اُردو کی بستیوں میں ابھی ایسے لوگ ہیں جو زبان کی ترویج کیلئے سرگرم رہتے ہیں اور ان میں کچھ کرنے کی آرزو ہے مگر اہل اُردو سے جتنا تعاون ملنا چاہئے نہیں ملتا اس لئے کبھی کبھی نہیں بلکہ اکثر اوقات خود کو تنہا اور دل شکستہ پاتے ہیں۔ اس کے باوجود تھکنا نہیں چاہتے۔ یہی اُن کی نمایاں خصوصیت ہے۔ یوم اُردو پر معدودے چند اُردو نواز اہل اُردو سے قطع نظر، ہماری اُمیدوں کا مرکز وہ طلبہ ہیں جو اسکولوں اور مدرسوں میں اُردو کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کی مجموعی تعداد لاکھوں میں تو ضرور ہے۔ اُردو خاندانوں نے اپنے بچوں کو انگریزی ذریعۂ تعلیم کے حوالے کرکے اچھا کیا یا اچھا نہیں کیا، یہ الگ بحث ہے مگر انگریزی کے رجحان کے باوجود لاکھوں طالب علموں کا اُردو سیکھنا، اُردو پڑھنا، اُردو لکھنا، اُردو بولنا، اُردو کو اپنی شناخت کا ذریعہ بنانا، اُردو میں تقریر کرنا یا اُردو طلبہ کیلئے منعقد ہونے والے تحریری مقابلوں میں حصہ لینا فال نیک ہے۔ ان طالب علموں کی وجہ سے اُردو کے چراغ روشن رہیں گے اس میں شک نہیں ہے۔ البتہ یہ چراغ زیادہ روشنی بکھیریں گے اگر اُردو زباندانی کی تدریس پر خاص توجہ دی جائے۔ جو اساتذہ اس خدمت پر مامور ہیں اُنہیں زیادہ محنت کرنی پڑے تو وہ زیادہ محنت کریں، زیادہ وقت دینا پڑے تو وہ زیادہ وقت دیں، مگر حق تدریس ادا کریں۔ تلفظات سکھائے جائیں، ادائیگی سمجھائی جائے اور ہر ہفتے چند نئے لفظ (معنی اور محل استعمال کے ساتھ) طلبہ کو یاد کروائے جائیں (جو نصاب میں ہوں یا نہ ہوں) نیز اُن کا لب و لہجہ درست کرایا جائے تو متعلقہ اساتذہ اپنی تدریسی خدمات کا حق بھی ادا کریں گے اور سوائے انگریزی دیگر تمام زبانوں بالخصوص ہندوستانی زبانوں کی آزمائش کے اس دور میں بڑا کام بھی کریں گے۔ مشاعرہ یا نشست ہوجائے، سمینار کرلیا جائے جس میں کچھ سیاسی اور کچھ نیم سیاسی تقاریر ہوں تو یوم ِ اُردو منانے کا فریضہ تو ادا ہوجائیگا اور یہ دن مَن بھی جائیگا مگر اُردو کے دامن میں کچھ نہیں آئیگا۔ بنیاد محنت چاہتی ہے۔ ایونٹ مینجمنٹ کا دور ہے، اُردو کو بھی ایونٹ کا ذریعہ بنایا گیا تو ایونٹ تو ہوجائیگا، واہ واہی بھی بہت ہوگی اور ویڈیو کو ’’ویوز‘‘ بھی بہت ملیں گے مگر اُردو کا فائدہ نہیں ہوگا۔ بہت پہلے کسی نے کیا عمدہ کہا تھا کہ اُردو کے پتوں پر پانی چھڑکنا بے سود ہے، اس کی جڑوں میں پانی دینا ہوگا۔ یوم اُردو پر اُردو زبان جڑوں میں پانی دینے والوں کی منتظر ہے، بے وفائی کے دور میں وفا کرنے والوں کا استقبال کرنا چاہتی ہے n