• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پانچ دس نہیں، اقبال ؔکی بہت سی نظمیں معرکۃ الآراء ہیں

Updated: November 08, 2026, 12:28 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai

معراج تو خیر اور ہی چیز ہے ، اور آپؐ کے سوا کسی کو یہ رتبہ حاصل نہیں ہوسکا۔ لیکن بعض مسلمان صوفیوں اور شاعروں نے بھی اسی انداز میں اپنی اپنی سیر کا حال لکھا ہے اور اس انداز میں بہت سی باتوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کردیئے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اقبال نےبہت سی اچھی اچھی نظمیں لکھی ہیں لیکن ’’شکوہ‘‘ سے زیادہ اُن کی کوئی نظم مقبول نہیںہوئی۔ یہ نظم لاکھوں کی تعداد میں چھپ کر بک چکی ہے اور آج بھی (یعنی اُس وقت جب یہ کتاب لکھی گئی، کم و بیش ۷۰۔۸۰؍ برس قبل) اس کا چرچا گھر گھر ہے۔ بوڑھے، بچے، عورتیں، مرد سب پڑھتے،  سنتے اور اس کے لفظ لفظ پر سر دھنتے ہیں۔
اسی سال اکتوبر کے مہینے میں انہوں نے (اقبال نے)  لاہور کی شاہی مسجد میں ایک چھوٹی سی نظم پڑھی۔ نظم یوں شروع ہوتی ہے:
گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہوا
جہاں سے باندھ کے رخت ِ سفر روانہ ہوا
فرشتے بزم ِ رسالتؐ میں لے گئے مجھ کو
حضور ِ آیۂ رحمت میں لے گئے مجھ کو
حضورؐ نے پوچھا:
نکل کے باغ ِ جہاں سے برنگ ِ بو آیا
ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تو آیا
شاعر نے عرض کیا:
حضور دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بو وہ کلی نہیں ملتی
مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
اس نظم  نے لوگوں پر ’’شکوہ ‘‘ سے بھی زیادہ اثر کیا۔ شاہی مسجد میں اس وقت ہزاروں انسان موجود تھے۔ بہت سے لوگ آس پاس کے دیہات سے چل کر آئے تھے لیکن اتنے لوگوں میں ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جس کی آنکھوں میں آنسو نہ بھر آئے ہوں۔ ۱۹۳۲ء میں ڈاکٹر (اقبال) صاحب کی ایک اور کتاب شائع ہوئی۔ اس کتاب کا نام انہو ںنے اپنے فرزند جاوید اقبال کے نام پر ’’جاوید نامہ‘‘ رکھا تھا۔ ’’جاویدنامہ‘‘ ایک لمبی فارسی نظم ہے۔ اس میں شاعر نے آسمان کی سیر کے حالات بیان کئے ہیں۔ نظم یوں شروع ہوتی ہے کہ شاعر ایک پہاڑ کے پاس کھڑا  مولوی رومی کی ایک غزل گا رہا ہے۔ اتنے میں مولوی رومی پہاڑ کے پیچھے سے نکل کر اقبال کے سامنے آجاتے ہیں اور انہیں اپنے ساتھ مختلف سیاروں کی سیرکراتے ہیں۔ ان سیارو ںمیں دنیا کے بہت سے مشہور لوگوں کی روحوں سے اُن کی ملاقات ہوتی ہے جن میں اچھے برے ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان سے سوال و جواب ہوتے ہیں اور بڑے بڑے بھید کھلتے ہیں۔ سید جمال الدین افغانی دین اور وطن کا مطلب سمجھاتے ہیں۔ مصر کے مشہور رہنما سعید حلیم پاشا ترکوں کے نام پیغام دیتے ہیں اور اُنہیں قرآن پر چلنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ نادرشاہ ایرانی ایران کے حالات پوچھتا ہے۔ سلطان ٹیپو پوچھتا ہے کہ دکن کا کیا حال ہے؟ شاعر کو دکن کا سفر یاد آجاتا ہے۔ کہتا ہے کہ میں دکن  میں آنسوؤں کے بیج بو آیا ہوں۔ اُس سے لالہ کے چمن اگیں گے۔ سلطان یہ سن کر کہتا ہے کہ دریائے  کاویری کو جو میرے محل کے نیچے بہہ رہا ہے ، میرا پیغام دے دینا۔ پھر وہ زندگی اور موت کے متعلق ایسی باتیں کہتا ہے جنہیں پڑھ کر انسان کا خون جوش مارنے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: زندگی اور فن میں ذہنی تنہائی کا کوئی بدل نہیں

کشمیر کے مشہور شاعر غنی اور میرزا غالب سے بھی ملاقات ہوتی ہے۔ اقبال، غالب سے ایک شعر کا معنی پوچھتے ہیں۔ غنی سے کشمیر کی نسبت بات چیت ہوتی ہے۔ وہ اقبال  سے کہتا ہے کہ ناامید نہ ہو، میری سوئی ہوئی قوم ضرور جاگے گی۔
نظم ’’جاوید نامہ‘‘ کے اخیر میں شاعر نے نئی نسل کے نوجوانوں کو نصیحتیں کی ہیں اور ایسی ایسی کام کی باتیں بیان کی ہیں جو ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہیں۔یاد رہے کہ اٹلی کے مشہور شاعر دانتے نے آج سے کوئی چھ سو سال پہلے ایک کتاب لکھی تھی جس کا انداز جاویدنامہ سے بہت ملتا جلتا ہے۔ اُس نے بھی نظم میں آسمان کی سیر کا حال بیان کیا ہے اور جنت اور دوزخ کے نقشے کھینچے ہیں، چنانچہ اس کتاب کی وجہ سے دانتے کا شمار دنیا کے بڑے بڑے شاعروں میں کیا جاتا ہے۔
پہلے تو  یہ سمجھا جاتا تھا کہ دانتے سے پہلے کسی کو یہ خیال نہیں سوجھا۔ مگر اس زمانے کے عالموں نے بڑی چھان بین کے بعد یہ معلوم کیا ہے کہ دانتے کو مسلمانوں کی کتابیں پڑھ کر اس انداز کی کتاب لکھنے کا خیال آیا کیونکہ آپؐ کی معراج کا ذکر قرآن کریم میں موجود  ہے اور حدیثوں میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔
معراج تو خیر اور ہی چیز ہے ، اور آپؐ کے سوا کسی کو یہ رتبہ حاصل نہیں ہوسکا۔ لیکن بعض مسلمان صوفیوں اور شاعروں نے بھی اسی انداز میں اپنی اپنی سیر کا حال لکھا ہے اور اس انداز میں بہت سی باتوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کردیئے ہیں۔ دانتے نے یہ خیال انہیں کتابوں سے لیا ہے۔ اگر یورپ کا کوئی شاعر اس قسم کی کوئی کتاب لکھتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اس نے دانتے کی پیروی کی ہے، لیکن ایک مسلمان شاعر اور خاص کر علامہ اقبال جیسے مسلمان شاعر کے لئے یہ انداز نیا نہیں۔
اقبال کو اگرچہ  اپنے وطن سے بڑی محبت تھی چنانچہ یورپ جانے سے پہلے انہوں نے جو نظمیں کہی تھیں  ان میں یہ جذبہ جگہ جگہ نمایاں نظر آتا ہے لیکن یورپ جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہاں وطن کی محبت نے لوگوں کی آنکھوں پر کچھ ایسی خودغرضی کی پٹی باندھ رکھی ہے کہ انہیں دوسری قوموں کے دکھ درد سے کوئی غرض نہیں۔ رات دن اسی فکر میں ہیں کہ دنیا بھر کی دولت سمیٹ کر اپنا گھر بھر لیں۔ یورپ والوں کی اس آپا دھاپی سے اُن کے دل پر بری چوٹ لگی اور انہیں خیال آیا کہ اگر سب انسان ایک ہی کنبے کے لوگ ہیں تو پھر ان میں اتنا فرق کیوں ہے؟ یہ لوٹ کھسوٹ کب تک جاری رہے گی ؟ کیا انسان کی زندگی کا مقصد یہی ہونا چاہئے جو یورپ کی قوموں کے سامنے ہے؟ 
ان کی طبیعت کی یہ بے چینی اور بے کلی اس زمانے کی کئی نظموں میں نظر آتی ہے ، مثلاً وہ ایک نظم میں کہتے ہیں:
قدرت کا عجیب یہ ستم ہے
انسان کو راز جُو بنایا
راز اُس کی نگاہ سے چھپایا
بے تاب ہے ذوق آگہی کا
کھلتا نہیں بھید  زندگی کا
اس زمانے کی اخیری نظموں میں ان سوالوں کا پورا پورا جواب تو نہیں ملتا لیکن کہیں ہلکے ہلکے اشارے ضرور ہیں۔

(بحوالہ: حیاتِ اقبال)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK