Updated: November 07, 2026, 8:30 PM IST
| Amsterdam
ایمسٹرڈیم میں مظاہرین نے مائیکروسافٹ کے منصوبہ بند ڈیٹا سینٹر پر قبضہ کر لیا، ساتھ ہی یورپ میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف مہم چلانے والے کئی ممالک میں احتجاج کرنے کی توقع ہے، ڈیٹا سینٹر منصوبوں کے گرد سماجی اور ماحولیاتی خدشات کو دور کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اس کی تعمیر پر پابندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
مظاہرین نے جمعہ کو ایمسٹرڈیم میں مائیکروسافٹ کے نئے ڈیٹا سینٹر کی تعمیراتی سائٹ میں گھس کر قبضہ کر لیا، کچھ نے کرین پر چڑھ کر شعلے جلائے جبکہ دیگر کی پولیس سے جھڑپ ہوئی، یہ یورپ بھر میں پھیلتی ہوئی ڈیٹا سینٹر مخالف تحریک کی تازہ ترین کارروائی ہے۔احتجاجی گروپ Geef Tegengas کے ناتھن ٹمر، جس کا ترجمہ’’ واپس لو‘‘ ہے، نے مقامی براڈکاسٹر AT5 کو بتایا کہ مظاہرین نے تعمیر کو روکنے کی کوشش میں سائٹ پر قبضہ کر لیا۔یورپ میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف مہم چلانے والےکئی ممالک میں احتجاج اور دیگر اقدامات کرنے کی توقع ہے، جس میں بڑے پیمانے پر اس کی تعمیر پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ توانائی کے بھوکے ان دیوہیکل منصوبوں کے گرد سماجی اور ماحولیاتی خدشات کو دور کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: لندن کا ۱۰۰؍ سالہ ہندوستانی ریسٹورنٹ بے دخلی کے خلاف عدالت پہنچ گیا
بعد ازاں ٹمر نے کہا، ’’ہم نہیں چاہتے کہ یہ بنے۔ کسی کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے تعمیر روکے جانے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے، مزید کہا، ’’یہ صرف AI سلاپ کے لیے استعمال ہوگا۔ AI جنگ، ڈیٹا نگرانی اور نسل کشی کے ارتکاب کے لیے۔ ہم یہ نہیں چاہتے۔فلسطین کے حامی کارکنوں نے بھی ڈچ دارالحکومت میں مظاہروں میں شمولیت اختیار کی۔ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ دوپہر کے آخر تک پولیس کارکنوں کو تعمیراتی سائٹ سے باہر لے جا رہی تھی، اگرچہ کچھ ابھی بھی موجود تھے۔ڈچ پولیس نے جمعہ کی شام کہا کہ انہوں نے احتجاج کے دوران تجاوز کے شبہ میں ڈیڑھ سو سے دو سو افراد کو حراست میں لیا۔جبکہ مائیکروسافٹ نے کہا کہ وہ ایمسٹرڈیم کے مظاہرے سے آگاہ ہے۔ ایک ترجمان نے کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ لوگ اس منصوبے کے بارے میں شدت سے محسوس کرتے ہیں، اور ہم ان کے پرامن طریقے سے ان خیالات کا اظہار کرنے کے حق کا احترام کرتے ہیں۔تاہم، ہم کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرتے جو غیر قانونی ہو یا لوگوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالے۔‘‘
واضح رہے کہ یہ مظاہرے امریکی وسط مدتی انتخابات کے چند دن بعد ہوئے ہیں جس میں ڈیموکریٹس کی لہر آئی ہے جو ڈیٹا سینٹرز پر کریک ڈاؤن کا وعدہ کر رہے ہیں، جنہیں دنیا بھر میں کمپیوٹنگ پاور اور پانی کے بڑے پیمانے پر استعمال کی وجہ سے مزاحمت کا سامنا ہے۔منتظمین نے کہا کہ درجنوں سول سوسائٹی اور نچلی سطح کے گروپوں نے کہا ہے کہ وہ ۱۵؍ یورپی ممالک میں’’ Stop Dirty Data Centres‘‘ تقریبات میں شامل ہوں گے، جن میں آئرلینڈ، پولینڈ، ڈنمارک، فن لینڈ، اسپین، اٹلی، نیدرلینڈز، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔StopDirtyDataCentres.eu کے کوآرڈینیٹر اوون ایسپلے نے کہا، ’’منتخب لیڈروں کے AI کے بارے میں ہائپ کو خریدنے اور لوگوں کے موقف کے درمیان ایک خلیج ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کینیا: بھوک سے ہلاکتوں کے ذمہ دار فرقے کے سربراہ کو۲؍سو سال قید کی سزا
مزید برآں جرمنی میں، جمعہ کو برلن کے مضافات میں ایک ڈیٹا سینٹر کے سامنے ایک درجن مظاہرین جمع ہوئے۔احتجاج کی ترجمان کیرو ویبر نے کہا، ’’ہم جرمنی بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی اس اندھی تعمیر کو روکنا چاہتے ہیں، قطع نظر کسی بھی ماحولیاتی خدشات کے۔یہ ہمارے مستقبل کے لیے واقعی، واقعی خطرناک ہے۔‘‘علاوہ ازیں جمعہ کو پولش پارلیمنٹ کے سامنے تقریباً۱۰۰؍ افراد نے بھی ڈیٹا سینٹرکے خلاف احتجاج کیا، جو وارسا کے آس پاس کی کمیونٹیز کی نمائندگی کر رہے تھے جہاں نئے سینٹرز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔جبکہ اٹلی میں، تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیٹا سینٹر انڈسٹری کو نچلی سطح کی مخالفت میں اتنی ہی تیزی سے اضافے کا سامنا ہے، خاص طور پر شمالی لومبارڈی کے علاقے میں، جو ملک کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مرکز ہے۔کارکنوں کا استدلال ہے کہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کی خدمت کرنے والی سہولیات میں تیزی عوامی مشاورت اور ماحولیاتی نگرانی سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔تاہم تحریک۱۰؍ اکتوبر کو ایک سنگ میل تک پہنچی، جب۱۰۰۰؍ سے زیادہ افراد اور تقریباً۴۰؍ مقامی کمیٹیوں کے نمائندے میلان کے پیازا ڈیلا اسکالا میں جمع ہوئے جسے منتظمین نے ڈیٹا سینٹرز کے خلاف اٹلی کا پہلا قومی مظاہرہ قرار دیا۔مظاہرین نے نئے منصوبوں پر پابندی اور صنعت کی ترقی کو کنٹرول کرنے والی قومی حکمت عملی کا مطالبہ کیا۔ یہ مظاہرہ میلان کے آس پاس کے قصبوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اجتماعات کے سلسلے کے بعد ہوا۔
واضح رہے کہ PwC کے گلوبل ڈیٹا سینٹر آؤٹ لک۲۰۲۶ء-۵۰ء کے مطابق، یورپ۲۰۲۶ء سے۲۰۵۰ء تک مجموعی ڈیٹا سینٹر کیپٹل اخراجات میں۶؍اعشاریہ ۵؍ ٹریلین ڈالر کو راغب کرنے کا امکان ہے، جو عالمی سرمایہ کاری کا تقریباً۱۸؍ فیصد ہے۔مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ میں اس عرصے کے دوران ڈیٹا سینٹرز پر کیپٹل اخراجات میں۱۵؍ اعشاریہ ایک ٹریلین ڈالر کو راغب کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔