معروف ادباء اور مدیران کے مطابق ہر شعبۂ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اردو افسانہ بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 1:35 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
معروف ادباء اور مدیران کے مطابق ہر شعبۂ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اردو افسانہ بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے۔
جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے بھی وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبۂ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عالمی افسانہ اور اردو افسانہ بھی جنگوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ اس وقت ایران کے خلاف جنگ جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ جنگ بھی ہمارے افسانہ نگاروں کو متاثر کرے گی اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس موضوع پر بھی نئے افسانہ نگار قلم اٹھائیں گے اور نئے دور کی اس جنگ کی پرتیں اپنے افسانوں میں کھولیں گے۔ ہم نے جنگ کے موضوع پر لکھے گئے افسانوں اور ادب کے تعلق سے معروف افسانہ نگاروں اور ادبی رسائل کے مدیران سے گفتگو کی۔ پیش ہیں اقتباسات :
سینئر افسانہ نگار اورمہاراشٹر اردو اکیڈمی سے باوقار’’ولی دکنی ایوارڈ‘‘ حاصل کرنے والے ایم مبین نے جنگ کے موضوع پر لکھے گئے ادب کے تعلق سے کہا کہ’’ اردو ادب کبھی بھی ’آئیور ی ٹاور‘(گوشۂ خلوت) کی چیز نہیں رہا بلکہ یہ ہمیشہ برصغیر کے سماجی اور سیاسی انقلابات کا ایک حساس آئینہ رہا ہے۔ بیسویں صدی، جو دو عالمی جنگوں اورعلاقائی جنگوں سے عبارت تھی، نے اردو تخلیقی شعور کو گہرائی سے متاثر کیا۔ ‘‘ ایم مبین کے مطابق قرۃ العین حیدر کا آگ کا دریا بڑی مہارت سے دکھاتا ہے کہ کس طرح عالمی جنگوں نے پرانے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کو تیز کیا ۔ اس کے علاوہ حیات اللہ انصاری کے ناول ’’ لہو کے پھول‘‘میں بھی عالمی جنگوں کے ہولناکیاں بیان کی گئی ہے۔ ترقی پسند تحریک کے ستون کرشن چندر نے ان جنگوں کی انسانی قیمت پر توجہ مرکوز کی۔ ان کا افسانہ ’’آدھے گھنٹے کا خدا‘‘ ایک سپاہی کی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔
ایم مبین کے مطابق سعادت حسن منٹو اس موضوع سے بھلا کس طرح مبرا رہ سکتا ہے۔ اس کے دو افسانے ’’تماشا‘‘ اور ’’ ٹیٹوال کا کتا‘‘ جنگ کے موضوع پر ہی ہے۔ قرۃالعین حیدر کا افسانہ ’’یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے‘‘ عرب اسرائیل جنگ کے پس منظر میں لکھا گیا شاہکار افسانہ ہے۔ انور قمر کا افسانہ’’ کابلی والے کی واپسی‘‘ افغانستان جنگ کے پس منظر میں لکھا یادگار افسانہ ہے۔ نور الحسنین کا افسانہ ’’ بسلامت روی‘‘ افغانستان روس جنگ کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ ایم مبین نے کہا کہ اشفاق احمد کا ’’شہرِ فسوں ‘‘ ۶۵ء کی جنگ کے ماحول کو قید کرتا ہوا افسانہ ہے جس میں سائرن اور بلیک آؤٹ کے سائے تلے شہری آبادی کے اضطراب اور نفسیاتی تبدیلیوں کو دکھایا گیا ہے۔ جہاں نثر نے واقعات کو ریکارڈ کیا وہیں شاعری میں ساحر لدھیانوی امن کی سب سے توانا آواز بن کر ابھرے۔ ان کی نظم پرچھائیاں ایک شاہکار امن پسند نظم ہے۔
معروف شاعر، ممبئی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مدیر اردو چینل ڈاکٹر قمر صدیقی نےکہا کہ ’’جنگ انسانی تاریخ کا ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہمیشہ ادب کو متاثر کیا ہے۔ اردو افسانے میں اگرچہ جنگ براہِ راست کثرت سے برتا جانے والا موضوع نہیں رہا، تاہم بعض اہم افسانہ نگاروں نے جنگ کے انسانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات کو نہایت گہرائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مثالوں کے ذریعہ واضح کیا کہ سعادت حسن منٹو کا مشہور افسانہ ’’ٹیٹوال کا کتا‘‘ میں نفرت اور تعصب کی نفسیات، جنگ کے دنوں میں کس طرح کارفرما ہوتی ہے اس کا بیان ملتا ہے۔ اسی طرح ان کا افسانہ ’’آخری سیلوٹ‘‘ اس المیے کو اجاگر کرتا ہے کہ تقسیمِ ہند سے پہلے جو سپاہی ایک ملک کیلئے لڑ رہا تھا، تقسیم کے بعد اسے اسی سرزمین کے خلاف ہتھیار اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر قمر صدیقی کے مطابق جدید اردو افسانہ نگاروں میں صدیق عالم کا افسانہ ’’دو سارس کی اوڈیسی‘‘ ہمارے عہد کی جنگی سیاست، ہتھیاروں کی تجارت اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے تناظر میں جنگ کی ہولناکی کو نمایاں کرتا ہے۔ کرشن چندر اور انتظار حسین نے اپنی کہانیوں میں جنگ اور انسانیت کے باہمی تعلق کو مختلف زاویوں سے پیش کیا ہے۔
قمر صدیقی کے مطابق اگر دیگر زبانوں کے ادب پر نظر ڈالی جائے تو وہاں جنگ ایک زیادہ نمایاں اور وسیع موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے۔ کردی زبان کے معروف فکشن نگار بختیار علی کا افسانہ ’’جعفری مغولی اور حسن طوفان کی شروعات‘‘ اور شیر کوفتح کا افسانہ ’’سرحد اور زبان‘‘ جنگی ماحول اور اس کے انسانی اثرات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ پشتو ادب میں زالمے بابا کوحی کا افسانہ ’’مورتی کی دھول‘‘ اور جواں سال افسانہ نگار محمود مرہون کا افسانہ ’’نامۂ اعمال‘‘ بھی جنگ کے انسانی اور سماجی اثرات کو نمایاں کرتے ہیں۔ اسی طرح آگستو سیپڈیس کا افسانہ ’’سوکھا کنواں ‘‘ براہِ راست جنگ کے مناظر پیش نہیں کرتا، لیکن محاذِ جنگ پر موجود فوجیوں کی ذہنی پریشانی اور اضطراب کو بڑی شدت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اس بات پر مجھے اطمینان رہے گا کہ اپنے بارے میں کبھی خوش فہمی کا شکار نہیں ہوئی
معروف شاعر و افسانہ نگار اور معلم ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے کہا کہ’’ ہمارے بعض افسانہ نگاروں نے جنگ کے ماحول، فوجی زندگی اور جنگ کے نفسیاتی اثرات کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مثال کے طور پر بتایا کہ احمد ندیم قاسمی کے بعض افسانوں میں جنگی ماحول اور اس کے نتیجے میں انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کی جھلک ملتی ہے۔ اس طرح کے افسانوں میں بطور خاص ’’ہیرو شیما سے پہلے....ہیرو شیما کے بعد‘‘ کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ اسی نہج پر ترنم ریاض کا افسانہ ’’بالکنی‘‘ ایک ایسے کشمیری نوجوان فوجی کی کہانی ہے جو ۱۵؍ سال بعد اپنے بچپن کے گھر میں واپس آتا ہے۔ حالانکہ وہ گھر اب اس کا نہیں ہے۔
ڈاکٹر ذاکر خان نے غیر ملکی ادب کے بھی حوالے دئیے اور بتایا کہ دیگر زبانوں کے افسانوں میں ہمیں حسین مرتضائیان ابکنار کا افسانہ ’’رحمان کی کہانی‘‘ میں جنگ کے بعد پیدا ہونے والاذہنی صدمہ اور خوف دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح پیرو کی ادیبہ کلاڈیا سالازار خیمنیز کا افسانہ ’’چیخ ‘‘ایک ایسی عورت کی نفسیاتی کیفیت کو پیش کرتا ہے جو جنگی تجربات کے بعد معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہے مگر ماضی کے صدمات اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ایرانی نژاد ادیبہ گولی تراغی کا افسانہ’’ پڑوسی‘‘ جلاوطنی اور وطن سے دوری کے احساس کو دردناک انداز میں بیان کرتا ہے۔ پولینڈ کی ادیبہ اولگا توکارچوک کی ’’آخری کہانیاں ‘‘ جنگ کی یادوں اور ان کے نسل در نسل منتقل ہونے والے اثرات کو موضوع بناتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ جنگ کے اثرات صرف اس دور تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگی اور ذہن پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ عراقی افسانہ نگار لوئے حمزہ عباس اور حسن بلاسم کے افسانوں میں جنگ کے دوران عام انسانوں کی زندگی، خوف اور تباہی کو نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ذاکر خان کے مطابق عراقی شاعرہ اور ادیبہ فلیحہ حسن کی تحریروں میں جنگ کے زمانے میں عورتوں اور خاندانوں کی مشکلات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ لاطینی امریکہ اور یورپ کے دیگر ادیبوں کی کہانیوں میں بھی جنگ اور سیاسی تشدد کے اثرات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
نوجوان افسانہ نگار اور ادبی مجلہ ’نیا ورق ‘ کے مدیر شاداب رشید کے مطابق ’’شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں جنگ کے اثرات نہ پائے جاتے ہوں اور وہاں کے قلم کاروں نے اِس موضوع پر قلم نہ اُٹھایا ہو۔ میں نے حال ہی میں اطالوی مصنف اتالو کال وینو کی ایک کہانی ’’ضمیر‘‘ پڑھی۔ ‘‘ شاداب نے بتایا کہ اس کہانی میں لوئیگو نامی شخص اپنے ذاتی دشمن کو مارنے کی بہت کوشش کرتا ہے مگر ناکام رہتا ہے۔ پھر جنگ شروع ہوجاتی ہے اور اُس کا ذاتی دشمن، دشمن ملک میں پناہ لے لیتا ہے۔ اُسے مارنے کیلئے لوئیگو فوج میں بھرتی ہوجاتا ہے۔ دشمن ملک کے فوجیوں کو موت کے گھاٹ اُتارتے ہوئے وہ اپنے ذاتی دشمن کی کھوج بھی جاری رکھتا ہے جو اُسے کہیں نہیں ملتا۔ لوئیگو کا ملک جنگ جیت جاتا ہے جس کیلئے دوسرے فوجیوں سمیت اُسے بھی دشمن فوجیوں کو مارنے کے عوض بہت سے تمغے ملتے ہیں۔ امن کے دنوں میں لوئیگو کو اُس کا ذاتی دشمن اچانک مل جاتا ہے جسے وہ موت کے گھاٹ اُتار دیتا ہے۔ اس حرکت پر لوئیگو کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے۔ اس کہانی کو پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ جنگ فوجیوں کے درمیان نہیں بلکہ ملک کے اُن حکمرانوں کے لئے لڑی جاتی ہیں جو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے لئے لاکھوں لوگوں کی بلی چڑھا دیتے ہیں لیکن اگر ایک عام آدمی اپنے دشمن سے بدلہ لینے کی کوشش بھی کرتا ہے تو اُسے قانوناً جرم بتا کر پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ یعنی ’جنگ‘ کے نام پر کسی بھی جان لینا جائز ہے چاہے اُس میں کتنے ہی بے گناہ کیوں نہ مارے جائیں۔ شاداب رشید کے مطابق یہ تو ایک مثال ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ادیبوں نے اس موضوع کو اپنے یہاں برتا ہے اور ان کے وہ افسانے شاہکار کہلائے ہیں۔