یکم مارچ ۲۰۲۶ء کو انتقال کر جانے والی مشہور ادیبہ، پدم شری یافتہ جیلانی بانو کی خود کے بارے میں یہ تحریر ملاحظہ کیجئے جو انہو ں نے تقریباً ۳۰؍سال قبل ’نقوش‘ کے آپ بیتی نمبر کے لئے لکھی تھی۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 12:21 PM IST | Mumbai
یکم مارچ ۲۰۲۶ء کو انتقال کر جانے والی مشہور ادیبہ، پدم شری یافتہ جیلانی بانو کی خود کے بارے میں یہ تحریر ملاحظہ کیجئے جو انہو ں نے تقریباً ۳۰؍سال قبل ’نقوش‘ کے آپ بیتی نمبر کے لئے لکھی تھی۔
یہ بانو کون ہے!
شاید آپ اس سے بالکل واقف نہ ہوں کیونکہ جس افسانہ نگار جیلانی بانو نے آپ پر رعب جمانے کی کوشش کی ہے وہ میں تو نہیں ہوں۔ میں تو ایک نہایت کاہل ٹھس قسم کی عورت ہوں جس کی ہر بات بے تکی، ہر کام بے موقع۔ کبھی سلیقہ سے بات کرنے کا ڈھنگ تو آیا نہیں تب بھلا افسانے لکھنے کا دعویٰ کون کرے! شاید یہی وجہ ہے کہ مجھ سے پہلی ملاقات پر سب بڑے تعجب سے کہتے ہیں:
’’بھئی آپ کا ہم نے بڑا لحیم شحیم قسم کا تصور کیا تھا۔ آپ تو نہایت مختصر سی نکلیں !‘‘
اور پھر اسلوب انصاری صاحب کی طرح اس بات بات پر بھی تعجب کا اظہار ہوتا ہے: ’’آپ ویسی تو نہیں ہیں جیسی افسانوں میں نظر آتی ہیں۔ ‘‘
اس وقت مجھ پر سچ مچ ندامت سی چھا جاتی ہے۔ تھوڑی دیر تک کوشش کرتی ہوں کہ کوئی اچھا سا پوز بنا کر بھائیوں کو ذرا باوقار سی افسانہ نگار نظر آؤں۔ کچھ علمیت بگھارنے کی لوشش کرتی ہوں اور پھر بے حد تکلف کے ساتھ بے تکلفی کا انداز بناتے بناتے گھپلا ہوجاتا ہے۔ جانے یہ دھاگہ کہاں الجھ جاتا ہے کہ میں پھر تکلف کے جال سے نکل کر نہایت زناٹے کے ساتھ بے تکلفی کے میدان میں دوڑنے لگتی ہوں۔ ہوش اس وقت آتا ہےجب ملازم کی چوری کا قصہ سنا چکتی ہوں۔ ہت تیرے کی۔ ارے بھئی بڑے افسانہ نگار تو بہت بڑے دل کے ہوتے ہیں۔ ارے وہ تو نوکروں کو چور ہی نہیں مانتے بلکہ ان کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی حالت کا تجزیہ کر کے افسانہ لکھ ڈالتے ہیں۔ اپنی کمائی ان کی جیب میں ڈال آتے ہیں۔ اور بس اسی وقت اپنے چھوٹے بہت چھوٹے ہونے کا احساس چھا جاتا ہے۔ لوگ سچ ہی تو کہتے ہیں، سچ مچ کے افسانہ نگار تو کچھ اور ہی طرح کے ہوتے ہیں ۔ ہمارے قریب ہی ایک افسانہ نگار رہتی تھیں۔ بچپن میں (جب میں بچوں کے لئے کہانیاں لکھ لکھ کر بہن بھائیوں پہ خوب رعب جمایا کرتی تھی) وہ افسانہ نگار خاتون میری آئیڈیل تھیں۔ میں دل ہی دل میں منصو بے باندھتی کہ جب بڑی ہو جاؤں گی تو میں بھی ان کی طرح بڑے بڑے افسانے لکھوں گی۔ پبلک میٹنگوں میں جاؤں گی۔ چہرے پر سرخ، نارنجی، سیاہ، ہرے او دے رنگ کی دھنک بنایا کروں گی اور پھر اردو کے سارے روزمرہ الفاظ کے مبدل انگلش لفظوں کی پریکٹس بھی تو بڑا جان جوکھوں کا کام تھا۔ لیکن ان کی کاپی کرنے کے لئے جو سب سے ناممکن کام تھا وہ ان کا اپنے بارے میں ہر وقت کہتے رہنا …میں …میں …میں
پھر جب میں افسا نے لکھنے لگی تو کسی کے احوال پوچھنے پر جی چاہتا ہے کہ طویل مختصرافسانے کا انداز اختیار کروں ۔ لیکن چھوٹی سی کہانیاں لکھتے لکھتے اپنے بارے میں کہنا ہو تو بالکل نقادوں کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہاں سے وہاں تک کہیں ڈھونڈو زندگی کا کوئی شاندار کارنامہ یاد ہی نہیں آتا۔ بڑے فرسودہ انداز میں پالے گئے کہ غیر معمولی انسان بننے کا کوئی اندیشہ نہ رہے اتنی ہی خاموشی سے افسانہ تاکار بن گئے کہ وہ ہرے اودے پیلے رنگ جو دور ہی دور سے جھلملایا کرتے ہیں ، کبھی انہیں منہ پر ملنے کی فرصت ہی نہ ملی۔
میں ہائی اسکول میں تھی جب گورکی، موپاساں ، چیخوف، میرامن، عصمت چغتائی، بیدی، کرشن چندر، فیض، مجاز، قرۃ العین حیدر، منٹو اور احمد ندیم قاسمی کو پڑھ چکی تھی۔ ان ادیبوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا بلکہ یہ سب میرے استاد رہے ہیں جنہوں نے مجھے فن کی نزاکتیں اور خامیاں سمجھائی ہیں ۔ بعد میں بھی بہت سے عظیم فنکاروں کے شاہ پارے میں نے پڑھے اور ان کی بڑائی کے آگے جھکی ہوں مگر ان ادیبوں کا جو پہلا تاثر مجھ پر چھایا تھا وہ آج بھی ہے۔ یہ سب وہ ادیب ہیں جنہوں نے مجھے کہانیاں پڑھنے اور لکھنے کا شوق دلایا ہے۔
یہ وہ ہنگامہ پرور دور تھا جب حیدر آباد ابھی ابھی ایک بڑے سیاسی انتشار سے گزرا تھا۔ اس لئے ہر طرف ایک غیر یقینی کیفیت تھی۔ حیدر آباد کی وہ مخصوص تہذیب اور روا یتیں دم توڑ رہی تھیں۔ جاگیرداری دور ختم ہو چکا تھا اور بڑی بڑی ڈیوڑھیوں کے مالک رکشائیں پکڑے چوراہے پر لوگوں سے راستے پوچھتے تھے۔ ان لوگوں کا گناہ کیا تھا اور یہ کس سزا کے مستحق تھے اس پر مجھے اس وقت بحث نہیں کرنا ہے۔ لیکن جب ایک بہت بڑے کاروں میں گھومنے والے جاگیردار شام کو کھانا مانگنے آتے تھے تو یہ حادثہ مجھے کچھ کرنے پر اکساتا تھا۔ ادب میں وہ ہنگامہ پر دور دور تھا جب بڑے لکھنے والے ٹھٹک سے گئے تھے۔ نئے ادیب سامنے نظر نہیں آرہے تھے اور نقاد جمائیاں لے لے کر ادب میں جمود کا نعرہ بلند کر رہے تھے۔ کچھ زیادہ چوکنے قسم کے حضرات ادب میں شدید قسم کی حد بندیاں قائم کر رہے تھے اور ترقی پسند ادب کو چھانٹ چھانٹ کر الگ کیا جا رہا تھا۔
اس وقت اپنے خاموش کمرے میں بیٹھے بیٹھے میں نے لکھنا شروع کیا تو یہ سارے مناظر میرے سامنے تھے۔ ایک نئے لکھنے والے کے فطری تجسس نے مجھے بھی ان باتوں پر غور کرنے کی دعوت دی۔ لیکن میں اس وقت کسی کانفرنس میں بٹنے والے نعرے پر لکھنے کی مشق کر سکی اور نہ کسی ادبی یا سیاسی کلیے کو سامنے رکھ کر کہانی لکھنے میں کامیابی حاصل کی حالانکہ میرا نو خیز ذہن ایسی خبروں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ ایک کمیونسٹ لڑکی نے اپنی رائفل سے پچاس سپاہیوں کا مقابلہ کیا۔ میں نے اس وقت تک باقاعدہ مارکسزم کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ دنیا کے دو واضح سیاسی عقائد کے بارے میں میری کوئی رائے نہیں تھی۔ میں نے مزدور کو پسینہ بہا کے روٹی کماتے دیکھا تھا اور نہ سرمایہ داروں کے ظلم وستم سے واقف تھی۔ اس کے باوجود جاگیر داری دور میں عورت کی سماجی حالت میرے سامنے تھی۔ حیدرآباد کی عورت اونچے طبقے میں جتنی مظلوم تھی محنت کش طبقے میں اتنی ہی خود مختار تھی۔ کیونکہ بڑی بڑی ڈیوڑھیوں میں سوکنوں کا جلاپا، شوہر کاتحکم اوربچوں کی خود سری اس کی قسمت تھی تو ان ڈیوڑھیوں کو بناتے وقت وہ خود پتھر پھوڑتی تھی، خود کدال چلاتی اور اس نے مرد کا غرور اتار پھینکا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسپینش ادب سے ایک کہانی: جہاں گرد
شاید اسی لئے میرے دل میں اس لڑکی کے لئے بڑی عقیدت تھی جو پہاڑوں کی کھوہ میں چھپی اپنے حقوق کی لڑائی جیت رہی تھی۔ میرے آس پاس جب کوئی باپ بیٹی کو جہیز نہ دینے پر خود کشی کر لیتا، جب کوئی ماں بیٹی کی پیدائش پر آنسوؤں کی دھار نہ روک سکتی، جب کوئی شوہر تین بار زبان ہلا کر بیوی پر موت و زندگی حرام کر دیتا ہے تو وہ لڑکی میرے سامنے آکھڑی ہوتی ہے۔ وہ جواں ہمت کنواری لڑکی جو رسموں روایتوں ، سماج اور مذہب کے سپاہیوں سے بیک وقت نپٹ رہی تھی۔ وہ آئیڈیل لڑکی میرے خیالوں میں بس گئی تھی۔ میں جانے کتنی بار عزم اور جرأت مانگنے اس کے سامنے گئی ہوں اور ہر بار اس نے میرے سامنے ایک نیا چراغ جلایا ہے۔ ایک باربس کے ایک چھوٹے سے سفر میں مجھے وہ سچ مچ مل گئی اور تین گھنٹے کے سفر میں اس نے مجھے تجربوں کی صدیاں سونپ دیں ۔ تب میں نے ’’روشنی کا مینار‘‘ لکھی۔ مگر لکھ کر اور پچھتائی کہ اس لڑکی کی عظمت کو میرا قلم چھو بھی نہ پایا۔ حالانکہ میں نے اپنی کہانیوں میں عورت کی عظمت اور جرأت کو ہمیشہ اسی عورت سے مستعار لیا ہے۔ ایک بار کسی نقاد نے میرے بارے میں لکھاکہ میں اپنی ہی صنف کی نمائندگی کرتی ہوں لیکن میں نےصرف اسی پہلو کو سامنے نہیں رکھا۔ اگر ادب شعوری طور پر زندگی کو سمجھنے کا نام ہے تو میں نے بھی اپنے آس پاس ہی سے متاثر ہو کر لکھا ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے اس میں عورت کے احساسات اور اس کے مسائل سے میں زیادہ قریب ہوں۔
چند کہانیاں لکھنے کے بعد ہی جب ادبی حلقے میرے بارے میں سنجیدہ ہوگئے تو میں گھبرا گئی کیونکہ ابھی تک بنیادی طور پر میں اپنے آپ کو مصور کہلوانے پرپھر تھی۔ انٹر میڈیٹ میں پڑھ رہی تھی اور افسانہ نگار کہلوانے میں خاصی وحشت ہو رہی تھی۔ ان دنوں میری دنیا محدود تھی۔ صرف کتا ہیں ہی میری دوست تھیں۔ میری ساتھی تھیں۔ مجھے مشورے دیتیں۔ لکھنے پر اکساتیں ۔ بعض وقت دشمنی پر اتر آئیں اور میری سمجھ میں نہ آتا کہ ان دوستوں دشمنوں سے کیسے پناہ مل سکتی ہے۔ مگر ان کتابوں نے مجھے اتنا سہارا دیا کہ میں اپنی راہ ڈھونڈ سکوں، طے کر سکوں کہ کیا لکھوں گی۔ کیسے لکھوں گی !
ایسے ماحول میں لکھتے وقت مجھے ذرا سی بات، معمولی سا حادثہ بھی غیر معمولی نظر آتا۔ انسانی جذبات، احساسات اور ان کے تہہ در تہہ پہلوؤں کو میں نے پڑھا اور یہ ہزار داستان کی طر ح طویل اور دلچسپ کہانی نظر آئی۔ ویسے رنگوں اور برش کے شوق نے مجھے چہرے پڑھنا سکھا ہی دیا تھا۔ رنگوں نے مجھ سے زیادہ کھل کر بات کی تھی۔ رنگوں سے منظر نگاری اور احساسات کو واضح کر نا زیادہ آسان تھا۔ شاید اسی لئے میری کہانیوں میں کردار اور ماحول کی عکاسی زیادہ تفصیل سے ہوتی ہے، منظر نگاری کو جگہ کم ملی ہے۔ حالانکہ شعوری طور پر تو میں نے کوئی بھی کوشش نہیں کی۔ نہ چھپوانے کی اور نہ کسی قسم کا صلہ پانے کی۔ اس بات پر مجھے ہمیشہ اطمینان رہے گا کہ اپنے بارے میں کبھی مجھے خوش فہمی کا شکار نہ ہونا پڑا اور نہ شہرت کے لئے انوکھے اور حیرت انگیز ہتھکنڈے آزمائے بلکہ میری تنہائی اور کم گوئی نے میرے بارے میں بڑی غلط فہمیاں پھیلائیں ۔ ترقی پسندوں نے مجھے قدامت پسندوں میں گنا تو کمیونسٹوں نے قدامت پرستوں کی طرف دھکیلا مجھ سے جواب طلب ہوئے کہ آپ کو ن سے گروپ کی ہیں۔ لکھنے سے پہلے اس کی وضاحت کیجئے کہ کس حلقے سے وابستہ ہیں۔ یوپی کی ہیں یا حیدر آباد کی …قوم پرست ہیں یا غدار …؟ ان سارے سوالو ں کے جواب میں بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی کہانیوں میں دیتی رہی اور آئندہ بھی دیتی رہوں گی لیکن بڑا نقصان ہوا کہ ہر طرف سے حد درجہ سرد مہری کا سلوک ہوا۔
(طویل مضمون سے)