لفظوں کی زندگی میں جھانک کر دیکھئے، ان کی داستان انسانی زندگی کی داستان سے کچھ کم دلچسپ نہیں!
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 12:55 PM IST | Sayed Hamid Hussain | Mumbai
لفظوں کی زندگی میں جھانک کر دیکھئے، ان کی داستان انسانی زندگی کی داستان سے کچھ کم دلچسپ نہیں!
لفظوں کی اپنی زندگی ہوتی ہے۔ اس زندگی کے نشیب و فراز ہوتے ہیں۔ اُن میں اپنی قسم کی ڈرامائیت اور ان کا اپنا رومان ہوتا ہے۔ وہ الفاظ جو اوپر سے روکھے پھیکے، کھوکھلے اور رسمی معلوم ہوتے ہیں ان میں سے بعض کے پیچھے حیرت انگیز کہانیاں، رسم و رواج اور تاریخی حقیقتیں چھپی ہوتی ہیں۔ ان کے پس پردہ حقیقتوں کی تلاش اور ان کی بابت جان کر ہم کو ایک الگ ہی قسم کا لطف آتا ہے، کچھ ایسا ہی جیسے روزنِ در میں آنکھ لگا کر چوری چھپے کے نظارے میں آتا ہے۔ آئیے لغت کی دفتی میں پڑی درازوں میں آنکھ لگا کر دیکھیں کہ کس لفظ کے آنگن میں کیا ڈراما چل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں فلموں سے پہلے تھیٹر کی دُنیا میں آغا حشر کا طوطی بول رہا تھا
اب سائرن کے لفظ کو ہی لیجئے۔ یہ خشک، غیرشاعرانہ سا نام جس کے بھدے پن کو ہم بعض اوقات ’’بھونپو‘‘ کہہ کر ظاہر کرتے ہیں، آج کی صنعتی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ بڑے بڑے شہروں کی بھاگم بھاگ اور بھیڑ والی مشینی زندگی کا ایک حصہ وہ فیکٹریاں ہیں جن کی دھواں اگلتی چمنیاں ان شہروں کی افقی شناخت بن چکی ہیں۔ انہی فیکٹریوں سے سائرن کی وہ آوازیں سننے کو ملتی ہیں جن کے ساتھ فیکٹریوں کے آہنی پھاٹک تھکے ہوئے انسانوں کی ایک بھیڑ کو اگل دیتے ہیں اور مزدوروں کی ایک دوسری بھیڑ کو اپنے اندر بند کرلیتے ہیں، لیکن اس غیرشاعرانہ منظر کو حرکت بخشنے والے لفظ ’’سائرن‘‘ کو صدیوں پہلے شاعرانہ تخیل نے جنم دیا تھا۔ قدیم یونانی شاعروں نے ’’سائرن‘‘ کا ایک عجیب پراسرار مخلوق کی شکل میں تصور کیا تھا۔ ایک ایسی مخلوق کی شکل میں جس کا چہرہ، زلفیں، گردن اور سینہ حسین عورتوں جیسا اور باقی جسم پرندوں کی طرح ہوتا تھا۔ جب سائرنس گاتیں تو آس پاس کی دنیا ان کے شیریں نغمے میں محو ہوجاتی، لوگ بے قابو ہوجاتے، سمندروں میں چلتے جہاز رک جاتے، ملاح سمندر میں کود کر سائرنس کے جزیروں کی طرف مجنونانہ انداز سے تیرنے لگتے اور کنارے پر پہنچ کر چٹانوں پر بیٹھ کر سائرنس کے نغمے سنتے رہتے۔ ان کو تن بدن کا، کھانے پینے کا ہوش نہیں رہتا یہاں تک کہ وہ وہیں چٹانوں پر بیٹھے بیٹھے دم توڑ دیتے۔ اس جزیرے سے کوئی زندہ لوَٹ کر نہیں آتا لیکن ایک بار ایک انہونی ہوئی۔ جب یونانی ارگوناٹس کا جہاز بحیرۂ روم میں سائرنس کے جزیرے کے پاس سے گزرا تو ان کے ساتھ دیوتاؤں کا چہیتا موسیقار آرفیس بھی تھا۔ آرفیس کے کان میں جیسے ہی سائرنس کی آواز پڑی تو اس نے اپنا رباب اٹھایا اور اپنا بہترین نغمہ اپنے سروں میں چھیڑ دیا۔ سائرنس کی آواز دب گئی۔ صرف ایک ایسا بدقسمت ملاح تھا جس کا ان پر جادو چل گیا ۔ وہ بے قابو ہوکر سمندر میں کود پڑا اور پھر واپس نہ آیا لیکن سائرنس کو سب سے زیادہ مایوسی اس وقت ہوئی جب یونانی ہیرو اوڈیسیس ان کے جزیرے کے پاس سے گزرا۔ اس نے پہلے ہی اپنے ساتھیوں اور ملاحوں کے کانوں میں موم بھروا دیا تھا لیکن خود اسے یہ اشتیاق تھا کہ وہ یہ سنے کہ سائرنس کیا گاتی ہیں۔ اس لئے اس نے حکم دیا کہ خود اس کو رسیوں سے مستول کے ساتھ کس کر باندھ دیا جائے۔ اس نے سنا کہ وہ گارہی ہیں کہ وہ کیا ہے جو انسان کو دائمی سکون دے سکتا ہے اور لافانی خوشی بخش سکتا ہے، وہ کیا ہے جسے لافانی حسن کا نظارہ ہوسکتا ہے، وہ کیا ہے جو موت کے تصور سے نجات دلا سکتا ہے، ان سب کا راز ان کے پاس ہے، ان کے ان نغموں میں ہے جو وہ سنانے والی ہیں، ان نغموں میں وہ مٹھاس ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی، وہ لطف ہے جو کبھی کم نہ ہوگا، وہ مسرت ہے جس کو کبھی زوال نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کیفیؔ ایک باغی شاعر تھے اور ہمیشہ باغی شاعر رہے
ان نغموں کو سن کر اوڈیسس بے تابانہ خود کو رسیوں سے آزاد کرانے کے لئے جدوجہد کرتا رہا۔ اس کا جسم لہولہان ہوگیا، اس کی فوق الانسانی طاقت جواب دے گئی۔ سائرنس کی طلسمی کشش نے اس کے فولادی ارادے کو موم سے بھی زیادہ نرم کردیا۔ بہرحال اس کی دانشمندی کی وجہ سے اس پر اور اس کے ساتھیوں پر سائرنس کا جادو نہ چل سکا اور وہ سب صحیح سلامت ان کے نغموں کی زد سے باہر نکل گئے۔ کہا جاتا ہے کہ اوڈیسس کے اس طرح بچ نکل جانے سے سائرنس کو شدید جھنجھلاہٹ ہوئی اور انہوں نے غصے میں آکر سمندر میں کود کر جان دے دی۔ اس طرح سائرنس کو اس کے ہی خالق یونانی شاعروں نے مارڈالا لیکن انیسویں صدی میں ایک فرانسیسی موسیقار نے انہیں پھر سے زندہ کیا اور اسی کے فیض سے سائرنس سے ہم آج بھی واقف ہیں۔ ۱۸۱۹ء میں ’’کانیاردیلاتور‘‘ نامی اس موسیقار نے موسیقی کے سر پیدا کرنے اور ان کے ارتعاش کی پیمائش کے لئے ایک آلہ بنایا اور اس کا نام سائرن رکھا۔ ظاہر ہے یہ قدیم یونانی شاعروں کے تخیل کو اس کا خراج عقیدت تھا لیکن دورِ حاضر نے انسان کے رومانی تخیل کو بار بار صدمہ پہنچایا ہے اور یہی عمل اس نے سائرن کے لفظ کے ساتھ کیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک جگہ جگہ فیکٹریاں قائم ہوگئیں اور ان میں یکساں بھرائی ہوئی آواز میں اطلاع دینے والی سیٹیوں کا رواج عام ہوا تو اس کے لئے کسی لفظ کی ضرورت ہوئی اور دیلاتور کے آلے کی مناسبت سے اسے سائرن کہنے لگے۔ سوچئے، کہاں وہ دائمی مسرت کی بشارت سنانے والے سائرنس کے نغمے اور کہاں فیکٹری کے بھونپو کی سامعہ خراش ناگوار آواز!
آئیے، ایک اور لفظ ’’پمفلٹ‘‘ کا اتار چڑھاؤ دیکھیں۔ یہ بھی ایک ایسا لفظ ہے جس کی دلچسپی کو ہماری موجودہ میکانیکی زندگی نے بھلا دیا ہے۔ آج پمفلٹ کسی روکھے سوکھے موضوع پر نظریاتی بحث کرنے والا پروپیگنڈے کی غرض سے چھاپا گیا کتابچہ ہے اور ہم یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ سات آٹھ صدی قبل پمفلٹ کے نام سے لوگوں کے منہ سے کس قسم کی رال ٹپکنے لگتی تھی۔ بارہویں صدی میں اٹلی میں پمفلٹ نے ایک نہایت چٹ پٹی کہانی والی نظم کی حیثیت سے جنم لیا تھا۔ اس کہانی کا ہیرو ایک بوڑھا ہوتا تھا جس کو پیم فیلس کا نام دیا گیا۔ پیم فیلس کے لفظی معنی ہر ایک کے شیدائی یا دل پھینک ہوتے ہیں۔ یہ نظم ایک ایسے دل پھینک بوڑھے کی رنگ رلیوں کی کہانی تھی جو اپنی مطلب برآری کے لئے طرح طرح کے حیلے کرتا ہے اور انتہائی معزز اور باعفت خواتین کو ساری چوکیداری اور پہروں کے باوجود جُل دینے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یہ بدمعاشیوں کی کہانی لوگوں میں بے حد مقبول تھی اور اسے لوگ چھپا چھپا کر پڑھا کرتے تھے یہاں تک کہ اٹلی کی خانقاہوں میں راہب بھی اسے اپنے چغوں میں چھپا کر لے جاتے اور تکیوں میں چھپا کر رکھتے۔ چونکہ اس وقت تک چھاپے کا رواج نہیں ہوا تھا اس لئے گنی چنی ہاتھ سے لکھی ہوئی نقلیں ہی لوگوں میں گردش کرتیں۔ اس غرض سے کہ انہیں چھپا کر رکھنے میں آسانی ہو، یہ نقلیں چھوٹے سائز کے کاغذ پر کی جاتیں۔ چھاپے کی ایجاد کے بعد تو اس قسم کے قصوں کہانیوں کی نقلوں کو آسانی کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا جانے لگا لیکن پمفلٹ کا لفظ زندہ رہا اور چھوٹے سائز کی کسی بھی کتاب کو پمفلٹ کہنے لگے۔
یہ بھی پڑھئے: باقی سب خیریت ہے
اب آئیے، ان جوبلی منانے والوں سے پوچھیں کہ یہ جوبلی کیوں مناتے ہیں۔ پہلے تو صرف پچاس سالہ ہی جوبلی منائی جاتی تھی لیکن اب تو پچیس سالہ، پچاس سالہ، ساٹھ سالہ، پچھہتر سالہ جوبلیاں ہی نہیں بلکہ کبھی بھی منائی جانے لگی ہیں۔ دراصل جوبلی یہودیوں کا ایک تہوار ہے جسے وہ پچاس سال میں ایک بار مصر سے اپنے اخراج کی یاد میں منایا کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں عہدنامۂ عتیق (اولڈ ٹیسٹامنٹ) کی دوسری کتاب میں واضح طور پر احکامات موجود ہیں۔ یہ موقع پوری چھٹی کا ہوتا ہے۔ زمین کو دوسال کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ زمین کو آرام ملے۔ کھیتوں کو جوتا نہیں جاتا۔ باغوں کے پودوں کی چھٹائی نہیں کی جاتی۔ پھل دار درختوں کے پھل نہیں چنے جاتے، زمین سے اپنے آپ نکلنے والے پھلوں کو غریبوں، غلاموں، اجنبیوں اور مویشی کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لوگ مچھلی پکڑ کر شکار کرکے شہد کی مکھیوں سے حاصل کئے ہوئے شہد اور مویشیوں سے حاصل ہونے والے دودھ دہی وغیرہ پر اپنی گزربسر کرتے ہیں۔ اس موقع پر لوگ بگل اور مینڈھے کے سینگوں سے بنے ہارن بجا بجا کر خوشیاں مناتے ہیں، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ لفظ جس سے جوبلی نکلا ہے اس کا مطلب ہی مینڈھے کا سینگ ہوتا ہے۔
عیسائیوں نے جوبلی کا لفظ تقریب کے معنی میں اختیار کیا اور کسی واقعے کی پچاسویں سالگرہ کو جوبلی کی حیثیت سے منایا جانے والا مثلاً شادی یا تخت نشینی کی اس قسم کی سالگرہ کو گولڈن جوبلی کا نام دیاگیا۔ ملکہ وکٹوریہ نے ۱۸۹۷ء میں اپنی تخت نشینی کی ساٹھویں سالگرہ ڈائمنڈ جوبلی کے طور پر منائی اور اس کے بعد ڈائمنڈ جوبلی کا فیشن ہوگیا۔ ملکہ وکٹوریہ کے پوتے جارج پنجم نے پچیسویں سال سلور جوبلی منانے کا رواج ڈالا۔ اب تو جوبلیاں کسی وقت بھی منائی جانے لگی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: وے صورتیں الٰہی… امتیاز علی تاج کی ۵۶؍ ویں برسی (۱۹؍ اپریل ۱۹۷۰ء) پر
جوبلی کا تو سینگ سے تعلق ہے لیکن کیا کبھی آپ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ شاہ اور بادشاہ کا بھی سینگ سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ جس زمانے میں انسان جنگلوں میں گزربسر کرتا تھا اس وقت وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے جنگلی جانوروں کو مارا کرتا تھا لیکن سینگ والے جانوروں کو مارنے کیلئے اسے بڑی ہوشیاری اور پھرتی کی ضرورت ہوتی تھی چنانچہ جب وہ شکار کرلیتا تو جانور کے سینگ اپنے سر پر لگا کر خوشیاں مناتا تھا۔ آج بھی مدھیہ پردیش کے بستر علاقے میں رہنے والے قبائلی لوگوں میں سر پر سینگ پہن کر ناچنے کا رواج ہے۔ قدیم ایران میں یہ رواج تھا کہ سردار سر پر سینگ پہنا کرتا تھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعد میں تاج پہننے کا رواج بھی اسی قسم کی کسی رسم سے پڑا ہو۔ فارسی میں سینگ کو شاخ کہتے ہیں چنانچہ شاخ پہن کر بیٹھنے والے سردار کو بھی شاخ کہنے کا چلن عام ہوا جس نے دھیرے دھیرے ’’شاہ‘‘ کی شکل اختیار کرلی۔
شاخ سے شاخسانہ یاد آتا ہے۔ کسی ایسے مسئلے کو جو کسی قسم کے فتنے و فساد کا سبب بنے ، اسے بعض اوقات شاخسانہ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ بھی سینگ کی ہی کارستانی ہے۔ کیسے؟ شاخسانہ دراصل شاخ شانہ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایران میں ایک قسم کے اڑیل فقیر ایسے بھی ہوتے تھے جو چاہے کچھ ہوجائے، کچھ نہ کچھ لے کر ٹلتے تھے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ بکری کا سینگ اور بکری کے شانے کی ہڈی کا ٹکڑا رکھتے تھے اور انہیں رگڑرگڑ کر ایسی مکروہ آواز پیدا کرتے تھے کہ لوگ ان سے پیچھا چھڑانے کے لئے جلدی سے کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کردیا کرتے تھے ، لیکن اگر کوئی شخص اتنی آسانی سے انہیں پیسہ دینے پر راضی نہ ہوتا تو یہ لوگ اس نکیلے سینگ سے خود اپنے جسم کو لہولہان کرتے اور خوب شوروغل مچاتے یہاں تک کہ سامنے والا مجبور ہوکر انہیں کچھ نہ کچھ دے کر ٹالتا۔ اسی بنا پر جب کوئی شخص کسی طرح کی حجت کرکے کوئی فتنہ کھڑا کرتا ہے تو اسے بھی شاخسانہ کہنے لگے۔
لفظوں کی اپنی دنیا ہے۔ اُن کی آپ بیتی میں حیرت انگیز موڑ ہیں، عجیب عجیب اسرار ہیں اور انوکھا رومان ہے۔ ان کی زندگی میں جھانک کر دیکھئے، ان کی داستان انسانی زندگی کی داستان سے کچھ کم دلچسپ نہیں!