Inquilab Logo Happiest Places to Work

مٹھی میں بند انقلاب

Updated: August 24, 2026, 1:32 PM IST | Mumbai

بارش رم جھم ہوتی رہی ، بوندیں زمین پر گرتی رہی ، بجلی کڑک رہی تھی اور سرسراتی سرد ہوا موسیقی کی طرح فضا میں بکھر تی جارہی تھی۔ میں گھنے برگد کے نیچے کھڑا دور تک پھیلی سڑک کو تک رہا تھا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بارش رم جھم ہوتی رہی ، بوندیں زمین پر گرتی رہی ، بجلی کڑک رہی تھی اور سرسراتی سرد ہوا موسیقی کی طرح فضا میں بکھر تی جارہی تھی۔ میں گھنے برگد کے نیچے کھڑا دور تک پھیلی سڑک کو تک رہا تھا۔ یہ درخت شہر خموشاں کے باہر داہنی طرف ہے ، اِس سے تھوڑی دور پر جامن اور نیم کے درخت بھی  ہیں۔

نیم کے درخت کے نیچے دو کتے جو اپنے وجود کو الگ کرنے کی جدو جہد کر رہے تھے۔ ادھر رم جھم بارش میں میرا وجود جلنے لگا تھا ۔کئی روز قبل اسی طرح برسات ہورہی تھی ، رات اونگھ رہی تھی، زمین پھیلی ہوئی تھی۔ میرے اندر کا جانور لمبی ریس کے گھوڑے کی طرح دوڑ رہا تھا، زمین نے آہستہ سے پوچھا، ’’تمہارے ہاتھ کہاں ہیں ‘‘؟میں نے کہا ،’’تمہارے شانوں پر‘‘تب زمین نے نرمی سے کہا ،’’ نہیں ! اس وقت میرے جسم کے جنگل میں کوئی جنگلی جانور دوڑ رہا ہے ۔‘‘مجھے پہلی بار اپنے ہاتھ کھونے کا احساس ہوا، میری نگاہ دائیں جانب تھی، تبھی بارش کی ایک بوند میرے گال پر آ گری ، ایک پل کے لئے میں کانپ سا گیا۔ اس روز میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو دیر تک دیکھتا رہا، انگلیاں کھولتا رہا مٹھی باندھتا رہا، ہتھیلی کی لکیروں پر انگوٹھا پھیرتا رہا۔ وقت تیزی سے گزرتا رہا اور میں اپنا کھویا ہوا ہاتھ تلاش کرتا رہا۔

میں اب بھی برگد کے پیڑ کے نیچے کھڑا ہوں ، ایسا لگتا ہے اس برس خزاں کچھ پہلے ہی اتر آئی ہے ، برگد کے پتے ابھی پوری طرح زرد بھی نہ ہو پائے تھے کہ پرندوں نے اس کی شاخوں سے منہ موڑ لیا تھا ۔ بڑے بوڑھے کہتے ہیں ، ’’جب پرندے شاخوں سے رشتہ توڑ لیں تو سمجھ لینا، کسی آدمی نے امانت میں خیانت کی ہے مگر یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ امانت کیا تھی اور وہ آدمی کون تھا۔ پرندوں نے خبردار کیا تھا ، پھر بھی لوگ خواب غفلت میں پڑے ہوئے تھے اور مجھے میرا کھویا ہوا ہاتھ بےچین کئے ہوئے تھا، بظاہر میرا ہاتھ  میرے جسم سے گوشت کے لتھڑے کی طرح لٹک رہا تھا۔ 

ایک روز کی بات ہے میں وضو بنانے کے لئے بیٹھا، حوض کے پانی میں اپنا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔جو دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ ایک چہرہ موجود تھا لیکن وہ میرا چہرہ نہیں تھا ، پھر میں نے ایک نگاہ اپنے وجود پر ڈالی اور میں اپنے پورے وجود سے کانپ گیا ۔ میرے ہاتھ میرے کاندھے پر نہیں تھے میں نے گھبرا کر اپنے کاندھوں کو ٹٹولا ، میرے ہاتھ اپنی جگہ پر تھے، مٹھی باندھی ، پھر پانی کو چھوا ، پانی میں لہر بنی ، مگر میرے عکس میں میرے ہاتھ نہیں تھے ، میں اسی اضطراب میں مسجد کے صحن تک پہنچ گیا ، وہاں ایک سفید ریش بزرگ کبوتروں کو دانہ دے رہے تھے ،ان کے چہرے سے نور ٹپک رہا تھا ۔ یہ بزرگ پہلے کبھی دکھائی نہیں دئیے تھے ۔ بزرگ نے  بڑبڑایا ، ’’ جسے پانی چھپا لے اسے آئینہ ظاہر نہیں کرتا‘‘ ، میں چونک پڑا ، اور بزرگ سے پوچھا ’’کیا آپ مجھ سے مخاطب ہیں ؟‘  وہ مسکرائے، کبوتروں کی سمت دانے اچھالے اور کہنے لگے،’’میں اس سے مخاطب ہوں جو اپنے کھوئے ہوئے ہاتھ تلاش کر رہا ہے ‘‘، میں نے اپنے ایک ہاتھ کو دیکھا۔ وہ پھر بولے ’’ ہتھیلی دیکھ کر مطمئن نہ ہو ، بعض ہاتھ جسم پر رہتے ہیں لیکن روح سے الگ ہو چکے ہوتے ہیں۔‘‘میں ان کے اور قریب ہوا ہی تھا کہ سارے کبوتر اڑنے لگے ان کے پھڑپھڑانے سے ایک سفید پَر میرے قدموں میں آ گرا ، میں نے اسے اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ ہوا میں اڑنے لگا ، جیسے وہ جانتا ہو کہ میں اب اس قابل نہیں۔

بزرگ نے آہستہ سے کہا’’انسان اپنا ہاتھ کسی حادثے میں نہیں کھوتا بلکہ اس لمحے کھوتا ہے ،جب وہ اپنے اختیار کو اپنے حق کے بجائے ، خوف لالچ یا خاموشی کے حوالے کر دیتا ہے ۔‘‘میں نے دیکھا میرے دائیں ہاتھ کی لکیریں غائب تھیں۔ بزرگ نے پھر کہا ’’ہاتھوں کی لکیریں تقدیریں نہیں بناتیں ، یہ تو گواہ ہوتی ہیں اور تم نے اپنے سارے گواہ مٹا دئیے۔ ہر گمشدہ چیز مل سکتی ہے۔ لوگ اپنی گمشدہ چیزیں بازاروں میں ، راستوں پر اور کبھی ویرانوں میں ڈھونڈتے ہیں، تم اب بھی نہیں سمجھے ؟ بعض امانتیں زمین پر نہیں اپنے باطن سے گر جاتی ہیں۔ ‘‘

’’کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ میرا ہاتھ کہاں ملے گا ؟‘‘میں نے سوال کیا ، بزرگ نے ایک آہ بھری اور بولے ’’اسی بھیڑ میں جہاں تم نے کھویا ہے !‘‘ دوسرے پل میں نے خود کو برگد کے پیڑ کے نیچے پایا ، ایک وقت تھا جب لوگ مجھ سے آنکھ ملانے ڈرتے تھے ، کیوں کہ میں ظلم برداشت نہیں کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ میں اپنے کھوئے ہوئے ہاتھ کی تلاش میں بہت دور تک نکل آیا ۔یہ شہر تھا اور شاید شہر کا درمیانی حصہ تھا، جہاں ہجوم تھا ، ہر طرف شور ہی شور سنائی دے رہا تھا ۔ ایک طرف موجودہ حکومت سے اپنا حق مانگتے لوگ تھے اور دوسری طرف سپاہی ۔ ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پہلے سپاہیوں نے لاٹھی چلائی ، دوڑتے بھاگتے لوگوں میں سے کچھ نے پتھر پھینکا۔ ہر سمت چیخ پکار اٹھ رہی تھی ۔ کہیں لاٹھیاں برس رہی تھیں تو کہیں پتھر پھینکے جار ہے تھے ،تبھی ایک آواز فضا میں بلند ہوئی ۔’’ سچائی سے تم جھوٹ کی بنیاد ہلا دو، ظلم و ستم اپنا لہو دے کے مٹا دو ،اس ہاتھ سے اس ہاتھ کو تم ساتھ ملا لو۔‘‘میری نظر میرے ہاتھ پر پڑی ، میرے دونوں ہاتھ بیدار سے لگے ۔ یہ کوئی ہندو مسلم فساد نہیں تھا ، یہاں ہر مذہب کے لوگ لاٹھیاں کھا رہے تھے ۔ میں اسی بھیڑ میں بہت آگے نکل گیا ، اب لڑائی سامنے کی ہونے لگی ، ادھر سے لاٹھی چلتی ادھر پکڑ کر لات گھونسے چلتے، کبھی کبھی کوئی بولتا ،’’جھکیںگے نہیں رکیں گے نہیں ، حق کی راہ سے مڑیں گے نہیں ، قید جسم ہوں گے ارادے نہیں ، چراغ بجھیں گے اجالے نہیں۔ ‘‘

دوسری طرف کچھ بغیر وردی کے سپاہی لاٹھیاں چلانے لگے، کچھ زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ، پھر آنسو گیس کے گولے گرے ، آنکھیں جلنے لگیں ، لوگ دور بھاگنے لگے میں آگے بڑھا اور ایک آنسو گیس کا گولا اٹھا کر اسی سمت پھینک دیا جدھر سے آیا تھا۔میں نے حیرت سے اپنے ہاتھ کو دیکھا ، جو میرے بازوؤں سے لگا تھا، میری بند مٹھی سے انقلاب کی صدا بلند ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ، ظلم کے خلاف میرے ہاتھ اٹھے تھے، گمشدہ ہتھیلی کی لکیریں واپس آگئی تھیں اور امانت میں خیانت کرنے والا بے نقاب ہوگیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK