مہک نے اس پُر رونق کمرے میں موجود ہر شخص کو باری باری دیکھا، اس کی مسکراہٹ اور خوشی دیکھ کر سب بے حد مطمئن نظر آرہے تھے۔ وہ کمرہ رنگ برنگی روشنیوں میں نہایا ہوا تھا، مہک کے پیچھے کی دیوار پر غبارے سجے ہوئے تھے، اور ساتھ ہی خوبصورتی سے گلابوں کی مدد سے ’ہیپی برتھ ڈے‘ لکھا ہوا تھا۔
مہک نے اس پُر رونق کمرے میں موجود ہر شخص کو باری باری دیکھا، اس کی مسکراہٹ اور خوشی دیکھ کر سب بے حد مطمئن نظر آرہے تھے۔ وہ کمرہ رنگ برنگی روشنیوں میں نہایا ہوا تھا، مہک کے پیچھے کی دیوار پر غبارے سجے ہوئے تھے، اور ساتھ ہی خوبصورتی سے گلابوں کی مدد سے ’ہیپی برتھ ڈے‘ لکھا ہوا تھا۔ سارے ہی افراد خوبصورت لباس میں ملبوس ہاتھوں میں بڑے بڑے گفٹس تھامے کھڑے تھے۔ سب منتظر تھےکہ مہک موم بتیوں کو بجھائے اور کیک کاٹے۔ جیسے ہی مہک نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کیں اور پھونک ماری، ہر طرف اندھیرا پھیل گیا۔
دور سے آتی امی کی آواز اسے خواب سے حقیقت کی دُنیا میں لے آئی،’’مہک اب اُٹھ بھی جاؤ! جلدی تیار ہوجاؤ، ورنہ اسکول کی بس چھوٹ جائے گی۔ پیدل چل کر جانا پڑے پھر، ابو کی گاڑی میں پیٹرول نہیں ہے آج۔‘‘
مہک آنکھوں کو رگڑتے ہوئے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ خواب میں سب کچھ کتنا حسین لگ رہا تھا، لیکن انسان رہتا تو حقیقت میں ہی ہے۔ خواب چاہے کتنا ہی حسین کیوں نہ ہو، بیدار ہو کر جینا تو حقیقی دنیا میں ہی ہوتا ہے، اور مہک کی حقیقت تلخیوں سے لبریز تھی۔
اس کے ابو ایک کلرک تھے، جن کی تنخواہ سے بمشکل ہی ان کا گزارا اور تعلیم کا خرچ پورا ہوتا تھا۔ مہک بستر سے نہ چاہتے ہوئے بھی اُٹھی اور تیار ہونے چل دی، کیونکہ آج چھٹی بھی نہیں کرسکتی تھی، اس کے دسویں جماعت کے مڈ ٹرم کا آخری پیپر جو تھا۔ امی نے تیار ہوتے وقت اس سے کہا، ’’بیٹا، کوئی رنگ کا جوڑا پہن لو۔ آج تمہارا....‘‘ مہک نے اسکارف پہنتے ہوئے غصے میں ٹیبل سے اپنا اسکول بیگ اُٹھایا۔ ’’اگر ایسے کپڑے پہن کر جاؤں گی جو میرے پاس ہیں، تو پورا اسکول مجھ پر ہنسے گا، مذاق اڑائے گا، اور ویسے بھی مجھے جوکر نظر آنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘ وہ بد تمیزی سے کہتی دروازہ عبور کر گئی۔
پیچھے اس کی دادی اس کی امی کو باتیں سنانے لگیں کہ بچی کو تمہارے بے جا لاڈ نے بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ باہر نکلتے ہوئے مہک نے یہ جملہ سن لیا تھا۔ غریبی کا لاڈ بھی کوئی لاڈ ہوتا ہے جہاں ایک چھوٹا سا برتھ ڈے منانے کی استطاعت تک نہیں ہوتی؟ یہ شکایت اس کی آنکھوں سے گرم سیال بن کر گالوں پر بہہ نکلا۔
اکتوبر کی وہ سرد صبح اس لڑکی کی معصوم سی خواہش اور شکایت پر مسکرا کر رہ گئی۔
ز ز ز
اس دن مہک اسکول میں بھی اداس ہی رہی تھی، اس کا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا۔ آخری پیپر ڈرائنگ اور کرافٹ کا تھا جو اس کا پسندیدہ مضمون تھا، لیکن آج نہ جانے کیوں ہر رنگ اسے پھیکا دکھائی دے رہا تھا، باہر کا سرد موسم اور اس پر نرم دھوپ بھی اسے اپنی طرف مائل نہیں کرسکی تھی۔ اس کی دونوں قریبی سہیلیوں کو اس کی مالی حالت کا علم تھا، انہوں نے تو اس بارے میں کوئی تذکرہ نہیں چھیڑا، مگر کچھ لڑکیوں نے اس کو اپنے برتھ ڈے پر طنز کا نشانہ ضرور بنایا۔
ایک بولی، ’’یار کم از کم اپنی پاکٹ منی سے کوئی چاکلیٹ ہی بانٹ دیتی اسکول میں....‘‘ دوسری اسے ٹوک کر کہنے والے انداز میں بولی، ’’تم بھی نا، اسے پاکٹ منی تھوڑی ملتی ہوگی، ہے نا مہک؟‘‘ جملے بھلے ہی جسم پر کوئی زخم نہیں چھوڑتے، مگر ان کا تیر سیدھے دل کو زخمی کرتا ہے۔ مہک نے ہاتھ میں پکڑی بوتل پر گرفت اتنی مضبوط کرلی کہ اس کی انگلیاں گہری گلابی ہوگئی تھیں۔ مہک کی سہیلی آمنہ ہی مہک کے بچاؤ کو آگے آئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کاریڈور میں لے آئی۔ وہاں آتے ہی مہک غصے اور بے بسی سے بولی، ’’یار میرے پاس تو کوئی چیز بھی ڈھنگ کی نہیں ہے، میرے سارے کپڑے بڑی باجی کے ہیں، میرے پاس کوئی چیز ختم ہوجائے تو امی سے کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے مجھے۔ ساری ناانصافیاں میرے ساتھ ہی ہوئی ہیں۔‘‘ مہک کا شکوہ بجا تھا۔
اتنا سب ہونے کے بعد اس دن بس کا ٹائر بھی خراب ہوگیا، مہک اور اس کی سہیلی پورا راستہ پیدل چل کر گھر پہنچے۔ مہک گھر آتے ہی سیدھے اپنے کمرے میں گئی، جو وہ اپنی بہنوں کے ساتھ شیئر کرتی تھی۔ بیگ ٹیبل پر رکھ کر وہ پلنگ پر لیٹ گئی، اور اپنے سامنے والی دیوار کو گھورتی رہی، جس کی چھت برسوں کی برسات کی وجہ سے سیلن زدہ ہوچکی تھی، ان ہی دیواروں کو گھورتے، اور ڈھیر سارے شکوہ شکایات کا انبار کھولے کب اس کی آنکھ لگی اسے خبر نہ ہوئی۔ امی اسے کھانے کے لئے اٹھانے آئیں مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ اس کے روم کی کھڑکی سے باہر سورج غروب ہوچکا تھا اور رات کی کالی چادر آسمان کو دھیرے دھیرے اپنی آغوش میں لے رہی تھی۔
ز ز ز
جانے کس پہر مہک کی آنکھ کھلی۔ سارے گھر کی لائٹس بند تھیں۔ وہ اٹھی، اپنا دوپٹہ گلے میں لپیٹا اور باہر نکلی۔ باہر نکلتے ہی اسے گمان ہوا کہ وہ پھر سے کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔ اس نے خواب سے بیدار ہونے کے لئے اپنی آنکھیں بند کیں اور پھر کھولیں۔ لیکن پھر بھی وہ منظر اس کے سامنے تھا: دیواریں سیلن زدہ ہی تھیں، لیکن ان پر سجاوٹ کے لئے چنبیلی کی بیل لگی ہوئی تھی۔ بد رنگ سے کارپٹ پر جگہ جگہ گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں۔ اس کے سامنے والی دیوار جس میں برسوں برستے پانی نے انمٹ نشان چھوڑ دیئے تھے، اس پر سستے والے کاغذ کے ذریعہ کچھ آرائش کی ایک چھوٹی سی کوشش کی گئی تھی۔ سامنے ہی ایک لکڑی کا ٹیبل رکھا تھا، جس پر ایک چھوٹا سا کیک رکھا ہوا تھا۔ امی، ابو، دادی، اس کی دونوں سہیلیاں اور ان کی امیاں، مہک کی دونوں چھوٹی بہنیں، بڑی بہن اپنے دونوں بچوں کے ساتھ، اس کے دونوں بھائی، سب وہیں کھڑے تھے۔ مہک کی آنکھوں سے آنسو کی ایک لمبی قطار نکل کر اس کے دوپٹے میں جذب ہوگئی۔ چھوٹا سا کمرہ اتنے لوگوں سے بھر چکا تھا۔ اسے اندازہ ہوا کہ وہ لوگ اس کے کچھ کہنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس چھوٹے سے ہجوم میں ایک چہرہ اسے حیران کن لگا۔ اس نے منہ کھولا مگر کوئی الفاظ باہر نہ آسکا۔ بمشکل اس نے کہا، ’’مس، آ.... آپ؟‘‘ اس کی اسکول کی ٹیچر سامنے آئیں۔ اور اسے گلے سے لگا لیا۔
’’جب تم تینوں آج کاریڈور میں کھڑی باتیں کر رہی تھیں، تو مَیں نے سن لی تھیں۔ اپنی زندگی کے بارے میں اتنا نا امید ہونا، اور اس سے اتنے گلے کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ اس بات کا لیکچر مَیں تمہیں کل کلاس میں دوں گی۔ اب چلو کیک کاٹتے ہیں۔‘‘ مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر ٹیبل تک لاتی مس رخسار نے اس کے ہاتھ میں چھری پکڑائی۔
اس نے ایک نظر کمرے میں موجود ہر شخص پر دوڑائی، جیسا اس نے اپنے خواب میں کیا تھا۔ پھر اپنی آنکھیں بند کیں اور موم بتیوں کو بجھا دیا۔ اسے ایک عجیب سا خوف محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں یہ منظر بھی آنکھیں کھولتے ہی غائب نہ ہوجائے۔ ڈرتے ڈرتے اس نے آنکھیں کھولیں۔ اور اس بار، اس بار اس کے سامنے سے منظر غائب نہیں ہوا تھا، بلکہ تالیوں کی آواز سے کمرہ گونج اٹھا تھا۔
مہک اپنے صبح والے رویہ کی وجہ سے شرمندہ تھی۔ مگر اس وقت وہ ان خستہ حال دیواروں کے بیچ، اپنوں کے درمیان ان خوبصورت اور یادگار لمحوں کو محفوظ کرلینا چاہتی تھی۔ سو معافی مانگنے والے سلسلے کو کل صبح پر ٹال کر وہ کیک کٹ کرنے لگی۔ بازو میں کھڑکی سے اندر آتی اخیر اکتوبر کی سرد ہوائیں کھڑکی سے اندر گھسی، گلابوں اور چنبیلی کی خوشبوؤں سے پورا کمرہ معطر ہوگیا۔ سب کی ہنستی اور چہکتی آواز جن میں مہک کی آواز واضح تھی، کمرہ میں گونج رہی تھی۔ اور یوں ایک عام سی خزاں زدہ اکتوبر کی رات میں بہار اتر آئی۔