• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: ڈھلتی شام

Updated: October 14, 2026, 9:41 PM IST | Tayyaba Asrar Ahmed | Mumbai

شام کے ڈھلتے سورج، لوٹتے پرندوں، کھیلتے بچوں اور بھنی ہوئی مکئی کی خوشبو کے درمیان ایک پُرسکون سفر، جو زندگی کے اختتام، جدائی اور نئی امیدوں کے معنی سمجھاتا ہے۔ یہ افسانہ یاد دلاتا ہے کہ ہر غروب اختتام نہیں ہوتا، کچھ شامیں انسان کے اندر ہمیشہ روشن رہتی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہوا میں دن بھر کی گرمی کی جگہ ہلکی سی خنکی اتر آئی تھی۔ درختوں کی شاخیں مدھم ہوا کے ساتھ جھوم رہی تھیں اور پتّے ایک دوسرے سے یوں سرگوشیاں کر رہے تھے جیسے دن بھر کے راز بانٹ رہے ہوں۔ سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت بدستور جاری تھی، مگر شور کی شدت میں کمی آگئی تھی۔ شہر جاگ رہا تھا، لیکن اس کی پیشانی پر دن بھر کی تھکن صاف دکھائی دے رہی تھی۔

مَیں دوبارہ چل پڑی تھی۔ نہ منزل کی جلدی تھی، نہ کسی خاص جگہ پہنچنے کی خواہش۔ شاید کبھی کبھی انسان کو بس چلتے رہنا چاہئے، تاکہ اپنے اندر کے شور سے کچھ دیر کے لئے دور ہوسکے۔

اچانک میری نگاہ آسمان کی طرف اٹھ گئی۔ دن کی تیزی کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ مغرب کی سمت ہلکی سنہری روشنی پھیل رہی تھی اور سورج افق کے قریب پہنچ کر ایک بڑے سنہری سکّے کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی کرنوں میں دوپہر جیسی تیزی نہیں تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے دن بھر کی مسافت کے بعد وہ بھی کچھ دیر ٹھہر کر سانس لینا چاہتا ہو۔

مَیں رک گئی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: بابا

کچھ بادل سورج کے قریب سے گزرے تو ان کے کنارے روشن ہو اٹھے۔ چند لمحوں کیلئے آسمان ایسا معلوم ہوا جیسے کسی نامعلوم مصور نے دن کے اختتام سے پہلے اپنی آخری تصویر مکمل کی ہو۔

قریب ہی نیم کا ایک پرانا درخت تھا۔ اس کی شاخوں پر پرندے واپس لوٹ رہے تھے۔ کوئی دور سے سیدھا گھونسلے کی طرف لپکتا، کوئی شاخ پر بیٹھ کر اپنے پَر جھاڑتا اور کوئی چند لمحوں تک خاموش رہنے کے بعد اچانک چہچہانے لگتا۔

ایک ننھی سی چڑیا اپنی چونچ میں تنکا دبائے آئی اور ایک جھکے ہوئے گھونسلے کے کنارے بیٹھ گئی۔

مَیں اسے دیکھتی رہی۔ دن بھر کی اُڑان، تلاش اور بھٹکنے کے بعد ہر پرندے کو معلوم تھا کہ اسے کہاں واپس جانا ہے۔ اپنے آشیانے میں۔

یہ خیال میرے دل میں ٹھہر گیا۔

آگے پارک تھا۔ شام کے وقت اس کی رونق دن سے مختلف ہوتی تھی۔ گھاس پر دن کی آخری روشنی ٹھہری ہوئی تھی اور درختوں کے سائے لمبے ہو کر راستوں تک پھیل گئے تھے۔ جھولے ابھی آباد تھے۔

بچے اپنی چھوٹی چھوٹی دنیاؤں میں مصروف تھے۔ ایک بچہ گیند کے پیچھے بھاگتے ہوئے اچانک گر پڑا۔ اس کے گھٹنے پر معمولی سی خراش آئی، مگر اس نے آنکھوں میں آئے آنسو ہاتھ کی پشت سے پونچھے اور اگلے ہی لمحے دوبارہ گیند کے پیچھے دوڑنے لگا۔

دوسری طرف ایک بچہ جھولے پر بیٹھا مسلسل چیخ رہا تھا۔ ’’دیکھو! مَیں سب سے اونچا جاؤں گا!‘‘

قریب کھڑے بچوں کے قہقہے بلند ہوئے۔

ایک بچی گھاس پر بیٹھی اپنی گڑیا کے بال سنوار رہی تھی۔ کچھ فاصلے پر دو بچے مٹی سے گھر بنا رہے تھے اور اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ دروازہ کہاں ہونا چاہئے۔

مَیں جالی کے پاس کھڑی انہیں دیکھتی رہی۔

بچوں کی دُنیا کتنی عجیب ہوتی ہے۔ ان کے لئے چھوٹی سی چیز بھی بڑی خوشی بن جاتی ہے۔ گیند گم ہو جائے تو نئی خوشی تلاش کر لیتے ہیں، گھٹنے پر خراش آئے تو کچھ دیر بعد کھیل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ انہیں آنے والے کل کی فکر نہیں ہوتی۔ شاید اسی لئے ان کی ہنسی میں اتنی بے فکری ہوتی ہے۔

اچانک ایک تتلی میرے سامنے سے گزری۔ ڈوبتی ہوئی روشنی اس کے پروں پر پڑی تو وہ چند لمحوں کے لئے سنہری دکھائی دی۔ وہ ایک پھول پر بیٹھی، پَروں کو سمیٹا اور پھر اچانک اُڑ گئی۔

مَیں اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ شاید خوبصورت چیزیں اسی لئے خوبصورت ہوتی ہیں کہ وہ ٹھہرتی نہیں۔

مَیں دوبارہ چل پڑی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ہمسفر

سڑک کے کنارے ایک مکئی والا اپنی ریڑھی کے پاس کھڑا آخری بھٹے سینک رہا تھا۔ کوئلوں کی آنچ پر دانے چٹخ رہے تھے اور دھوئیں میں بھنی ہوئی مکئی کی خوشبو گھل رہی تھی۔

میرے قدم خودبخود رک گئے۔

’’ایک بھٹا دینا۔‘‘

اس نے بھٹا اٹھاتے ہوئے پوچھا،

’’نمک مرچ؟‘‘

’’ہاں، ذرا زیادہ۔‘‘

وہ مسکرایا، لیموں رگڑا اور اوپر سے نمک مرچ چھڑکتے ہوئے بھٹا میری طرف بڑھا دیا۔

’’لیجئے۔ شام کا ذائقہ تیز ہونا چاہئے۔‘‘

مَیں بے اختیار مسکرا دی۔

بھٹا ہاتھ میں لیا تو اس کی گرمی ہتھیلیوں میں اتر گئی۔ سامنے سورج اب درختوں اور عمارتوں کے پیچھے چھپنے کو تھا۔

مکئی والا بھی ایک لمحے کو آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔

’’آج سورج بڑا خوبصورت ہے۔‘‘

مَیں نے مغرب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

’’ہاں، بہت۔‘‘

وہ دوبارہ اپنی ریڑھی کی طرف متوجہ ہوگیا اور مَیں آگے بڑھ گئی۔

ہاتھ میں گرم بھٹا تھا، ہوا میں دھوئیں کی خوشبو اور سامنے آہستہ آہستہ ڈوبتی ہوئی روشنی۔

کچھ ہی دیر میں دن رخصت ہوگیا۔

سڑک پر اب بھی گاڑیاں چل رہی تھیں، لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے، دکانوں کی روشنیاں ایک ایک کرکے جل رہی تھیں۔ شہر ختم نہیں ہوا تھا، صرف اس کا ایک دن ختم ہوا تھا۔

مَیں چلتی رہی۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ شام کا سکوت شہر کے شور سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ دن بھر ہم اتنی آوازوں میں گھرے رہتے ہیں کہ اپنے اندر کی آواز سنائی ہی نہیں دیتی۔ سورج کے ڈوبتے ہی جیسے باہر کی روشنی مدھم ہوئی اور اندر کہیں ایک خاموش سا چراغ روشن ہوگیا۔

مجھے خیال آیا، ہم زندگی میں بھی کتنی چیزوں کے ڈوبنے سے گھبرا جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: خشک آنسو

بچپن ڈوبتا ہے، کچھ رشتے وقت کے ساتھ دور ہو جاتے ہیں، کچھ لوگ ہماری زندگی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

کچھ خواب، جنہیں ہم برسوں اپنے اندر لئے پھرتے ہیں، ایک دن خاموشی سے دم توڑ دیتے ہیں۔

ہم انہیں اختتام سمجھ لیتے ہیں۔ مگر شاید ہر غروب اختتام نہیں ہوتا۔

پرندے دن کے اختتام سے نہیں گھبراتے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ رات کے بعد ایک نئی صبح آئے گی۔ بچے بھی گرنے کے بعد دوبارہ دوڑنا جانتے ہیں۔ درخت اپنے پتّے کھوتے ہیں، مگر نئی کونپلوں کا انتظار بھی کرتے ہیں۔

مَیں نے چلتے چلتے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

وہی پارک تھا۔ وہی نیم کا درخت۔ جھولے اب تقریباً خالی ہو چکے تھے۔ پرندوں کی آوازیں بھی مدھم پڑ گئی تھیں۔ مکئی والے کی ریڑھی پر آخری دھواں اُٹھ رہا تھا۔

شام مکمل طور پر اتر چکی تھی۔

مَیں نے آخری بار مغرب کی طرف دیکھا۔ سورج کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا، مگر اس کی سنہری روشنی ابھی آسمان کے کناروں پر باقی تھی۔

تب مجھے احساس ہوا کہ شاید رخصت ہونے والی چیزیں واقعی ختم نہیں ہوتیں۔ کچھ لوگ یاد بن جاتے ہیں۔

کچھ لمحے خوشبو بن جاتے ہیں۔ کچھ آوازیں برسوں بعد بھی اچانک سنائی دینے لگتی ہیں۔

اور کچھ شامیں.... وہ انسان کے اندر کہیں ٹھہر جاتی ہیں۔

مَیں گھر کی طرف چل پڑی۔ رات آہستہ آہستہ شہر پر اتر رہی تھی، مگر میرے اندر وہ ڈھلتی ہوئی شام اب بھی روشن تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK