• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: بابا

Updated: October 13, 2026, 4:39 PM IST | Sofiya Tariq | Mumbai

’’بابا مَیں پڑھنے جاؤں گا....!‘‘ سعد نے آس بھری نظروں سے اپنے باپ کی طرف دیکھ کر کہا، ’’بابا مَیں بھی بڑا آدمی بنوں گا.... مجھے بھی سعید کے ساتھ جانا ہے.... مجھے بھی دوست چاہئے بابا.... جو میرے ساتھ کھیلیں.... مَیں بھی ان کے ساتھ کھیلوں گا.... مجھے بھی اسکول ڈریس پہننی ہے بابا.... بالکل سعید جیسی.... مجھے بھی جانا ہے اسکول بابا.... پلیز بابا!‘‘ سعد نے ایک بار اور منانے کی کوشش کی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

’’بابا مَیں پڑھنے جاؤں گا....!‘‘ سعد نے آس بھری نظروں سے اپنے باپ کی طرف دیکھ کر کہا، ’’بابا مَیں بھی بڑا آدمی بنوں گا.... مجھے بھی سعید کے ساتھ جانا ہے.... مجھے بھی دوست چاہئے بابا.... جو میرے ساتھ کھیلیں.... مَیں بھی ان کے ساتھ کھیلوں گا.... مجھے بھی اسکول ڈریس پہننی ہے بابا.... بالکل سعید جیسی.... مجھے بھی جانا ہے اسکول بابا.... پلیز بابا!‘‘ سعد نے ایک بار اور منانے کی کوشش کی۔

’’ارے واہ آج تو میرے بیٹے نے میری دلی تمنا پوری کر دی! کیوں نہیں میرے بچے کل ہی آپ کا داخلہ کرواتے ہیں.... آپ بھی سعید کے ساتھ جانا.... کل آپ کی کتابیں کاپیاں ڈریس سب کر لے آئیں گے باقی رہا ٹفن، پینسل باکس اور کلرز، ہم آج شام بازار جا کر لے آئیں گے۔‘‘ ادریس نے پیار سے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا اور باہر نکل گئے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ہمسفر

سعد جب پیدا ہوا تھا تو ایک دم ٹھیک ٹھاک تھا۔ نارمل بچوں کی طرح کھیلتا، اس کی پیاری پیاری باتوں سے پورا گھر خوشیوں سے بھر جاتا تھا، اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو چلا چلا کر بات کرنے کے انداز سے سب کو اپنی جانب متوجہ کرائے رکھتا، اپنے بڑے بھائی سعید اور چھوٹی بہن سعیدہ کے ساتھ پارک گھومنے بھی جاتا تھا۔

ادریس اور آمنہ کا یہ چھوٹا سا گھر بچوں کے کلکاریوں ان کی شرارتوں کا آمجگاہ تھا۔ لیکن پتہ نہیں اس پیارے سے گھر کو کس کی نظر لگ گئی۔

ایک دن سعد جب کھیل کر آیا تو اس نے اپنی ماں سے سَر میں درد کی شکایت کی، آمنہ نے معمولی درد سمجھ کر سَر میں تیل لگا دیا اور اچھے سے سَر کی مالش کرکے سلا دیا۔ سعد جب سو کر اُٹھا تو اس کا سَر ایسا لگ رہا تھا جیسے سَر نہیں کوئی بھاری پتھر اس کی جگہ رکھ دیا ہو.... ساتھ ہی پیروں میں عجیب سی اکڑن ہو رہی تھی....

آمنہ اور ادریس فوراً اس کو لے کر اسپتال بھاگے۔ ڈاکٹرز نے پورا معائنہ کرنے کے بعد آگے ریفر کر دیا۔ بڑے اسپتال میں ڈاکٹرز نے مل کر کافی گھنٹوں تک چیک کیا اور چار بڑے ٹیسٹ بھی کروانے کو کہا۔ مسئلہ اس لئے اور زیادہ پیچیدہ تھا کیونکہ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ویسے ویسے سعدکے پیر بے جان ہوتے جا رہے تھے۔ وہ صحیح سے بات بھی نہیں کر پا رہا تھا۔ سَر میں درد کی شدت سے آنکھیں ایک دم لال ہو چکی تھیں۔ نہ کچھ کھایا تھا نہ ہی پیا تھا۔

ڈاکٹرز نے سعد کی رپورٹ آنے تک اور اس کی بگڑتی حالت کو دیکھ کر فوراً ایڈمٹ کر لیا۔ دو تین دن اسپتال کے چکّر لگانے میں ہی گزر گئے۔

آج سعد کی رپورٹ آنی تھی صبح ہی سے ادریس اور آمنہ بے چین تھے۔ نانا نانی دادا دادی چچا سبھی دونوں کو بھرپور تسلی دے رہے تھے۔ اِدھر سعد کی حالت سدھرنے کے بجائے روز بروز اور خراب ہوتی جا رہی تھی۔

ڈاکٹرز کسی طرح پائپ کے ذریعے کھانا پینا اس کے پیٹ تک پہنچا رہے تھے جو اس کے لئے زندگی کی نوید بن رہا تھا۔

سب لوگ رپورٹس اچھی آنے کے انتظار میں دعائیں مانگ رہے تھے۔ ٹیسٹ لیب والے نے دروازہ کھولا اور ادریس کے ہاتھ میں رپورٹس پکڑا دیں۔ آمنہ لپک کر ادریس کے پاس آئی اور رپورٹس ہاتھ میں لے کر پڑھنے کی کوشش کرنے لگی.... کچھ سمجھ میں تو نہیں آیا لیکن ساری رپورٹس میں رزلٹ پوزیٹو دیکھ کر دل میں عجیب سا درد ہوا۔

’’کیا ہوا بیٹا؟ سب خیریت ہے نا....‘‘ سعد کے دادا نے آمنہ کی اڑتی ہوئی رنگت دیکھ کر دریافت کیا۔ آمنہ نے خالی خالی نظروں سے اپنے سسر کی طرف دیکھا اور وہیں بیٹھ گئی ’’ادریس بیٹے چلو پہلے ڈاکٹر سے ملاقات کر لیں.... ان شاء اللہ سب ٹھیک ہی ہوگا۔‘‘ صالح صاحب (سعد کے دادا) نے کہا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: خشک آنسو

’’دیکھئے آپ سب کو ہماری بات بہت ہی تحمل سے سننی ہوگی....‘‘ ڈاکٹرز نے اپنی بات جاری رکھی۔ ادریس، صالح صاحب، سعد کے دونوں چچا اصغر اور ارحم ڈاکٹر کے کہنے پر تھوڑے پریشان ہوگئے، ’’دیکھئے گھبرانے سے یہ مسئلہ بجائے سلجھنے کے اور الجھ جائے گا۔ آپ لوگوں کو بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے.... اصل میں سعد کے دماغ کی ایک نس پوری طریقے سے دب گئی ہے جس کا اثر اس کے دونوں پیروں پر پڑ رہا ہے جس سے اس کے پیر بے جان ہو رہے ہیں.... اگر ہم نے صحیح وقت پر اس کا علاج نہ کروایا تو شاید ہمیشہ کیلئے سعد معذور ہو جائیگا۔ اور چونکہ دماغ کی بہت ہی اہم نس متاثر ہے اس لئے جہاں تک ہمارے علم میں یہ بات ہے ایسے مریضوں کی زندگی صرف چند برسوں کی ہوتی ہے.... باقی اللہ جب تک سعد کو زندگی بخشے.... وہ اللہ کی مرضی ہے۔‘‘ ڈاکٹرز اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے۔

ادریس اور آمنہ کے سَر پر تو گویا آسمان گر پڑا تھا دونوں کو سانپ سونگھ چکا تھا۔ دادا دادی، نانا نانی سب سکتے کے عالم میں چلے گئے۔

اتنا پیارا بچہ ابھی تو اس نے زندگی کی شروعات ہی کی تھی.... ایک سال بھی پورا نہیں ہوا تھا اسکول میں داخلہ لئے ہوئے.... گھر میں لاڈلا ہونے کی وجہ سے تھوڑی دیر سے داخلہ ہوا تھا۔

’’کوئی بات نہیں میرے بھائی پریشان کیوں ہوتے ہیں.... ہم سب ساتھ ہیں نا ہم مل کر سعد بچے کا علاج کروائیں گے.... ان شاء اللہ دیکھنا جلد ہی وہ اپنے پیروں پر واپس چلنا شروع کر دے گا۔‘‘ اصغر چاچو نے کہا۔

یہ سننا تھاکہ ادریس کا سکتہ ٹوٹا اور وہ اصغر کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: وہ جو زمین اوڑھ کے بے وقت سوگیا

آج تین سال ہوگئے تھے سعد کو بیمار ہوئے۔ یہ سال آمنہ اور ادریس کے لئے پہاڑ جیسے تھے۔ اس بیچ سعد کو بار بار اسپتال جانے کی وجہ سے ادریس کو مستقل جاب سے چھٹی لینی پڑتی تھی، شروع شروع میں تو باس نے ادریس کے حالات کو سمجھتے ہوئے چھٹی دے دی۔ لیکن کام سے مسلسل ناغہ کمپنی کی ساکھ کو متاثر کر رہا تھا۔ جس کی وجہ سے باس سے وقتاً فوقتاً ڈانٹ بھی کھانی پڑتی تھی۔ وہ تو ادریس چونکہ ہائی پوسٹ پر تھا اور کمپنی اس کی محنت اور لگن سے کافی اونچے مقام پر آگئی تھی۔ لیکن ہر تیسرے چوتھے دن اس کی غیر حاضری نہ صرف اس کی پرفارمنس کو متاثر کر رہی تھی بلکہ کمپنی کے دوسرے ملازمین بھی جو ادریس کی کامیابی سے کہیں نہ کہیں خار کھاتے تھے وہ باس کی نظر میں خود کو قابل ثابت کرنے میں لگے ہوئے تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دن اس کے باس نے اسے کمپنی سے نکال دیا۔

یہ وقت ادریس کی فیملی کیلئے دوسرا صدمہ تھا جو سعد کی بیماری کے بعد ملنے والے جھٹکوں میں سے ایک بڑا جھٹکا تھا۔

اب ادر یس کے سامنے پہاڑ جیسی مشکل زندگی تھی۔ سب سے بڑا مسئلہ گھر میں کھانے پینے کا تھا۔ سارے بچائے گئے پیسے سعد کی بیماری میں لگ چکے تھے۔ دوسری کمپنیوں میں انٹرویوز دیئے لیکن کہیں سے بھی کوئی مثبت جواب نہ آیا۔ تھک ہار کر خود کچھ کرنے کا سوچا، لیکن کچھ کرنے کیلئے بڑی رقم کی ضرورت تھی جو فی الحال ادریس کے پاس نہیں تھی۔

کچھ دنوں کیلئے ایک بڑی دکان میں سیلس مین کی نوکری کی۔ لیکن ادریس کا سعد کو لے کر مستقل اسپتال کا چکّر لگانا ہی دکان مالک کو نہ بھایا اور وہاں سے بھی ادریس کو مایوسی ہی ہاتھ لگی۔

گھر میں فاقے کی نوبت آنے کو تھی، اپنی غیرت اور سفید پوشی کے باعث ادریس کو بھائیوں سے مانگنا اچھا نہیں لگا۔

اصغر اور ارحم جو بھی رقم دیتے تھے وہ سعد کی مہنگی دوائیوں میں چلی جاتی تھی، لیکن اس کے باوجود سعد کی حالت میں کوئی بھی سدھار نہ تھا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ سعد کو اب بیٹھنے میں بھی تکلیف ہوتی تھی، زیادہ تر وقت سعد کا لیٹے ہی گزرتا تھا۔ سعد کی حالت دیکھ کر ادریس اور آمنہ کا دل کٹتا، کہاں ان کا معصوم بچہ پابندی سے اسکول جاتا تھا، محلے کے بچوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا تھا، اب دیکھو، بے چارہ گھر میں بیڈ پر یا تو اپنے کھلونے سے کھیلتا یا اپنی پرانی کتابوں کو نکال کر پڑھنے کی کوشش کرتا یا پھر سوتا رہتا تھا۔

انہی حالات میں ادریس نے اپنے ایک پرانے دوست سے جو خود کا تھری ویلر شو روم چلاتا تھا، ماہانہ قسط پر آٹو خرید لی۔ صادق نے بھی اپنے اتنے قابل دوست کی مالی حالت کے پیش نظر نہ صرف تھری ویلر گاڑی اپنے شوروم سے دی بلکہ اس کی ماہانہ قسط بھی بالکل نہ کے برابر کر دی، ساتھ ہی ایک موٹی رقم یوں ہی ادریس کے حوالے کر دی۔ ادریس کی اپنے دوست کی دریا دلی پر آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔

’’یار کچھ نہیں ہوتا.... تو اپنا یار ہے نا.... اتنا کیا سوچنا تو نے بھی تو میرے مشکل وقت میں میری مدد کی تھی.... جس وقت کوئی مجھے ایک روپیہ دینے کو تیار نہ تھا اس وقت تو نے مجھ پر بھروسہ رکھا مجھے اپنی کمائی کی ایک گاڑھی رقم بنا مجھ سے کوئی سوال کئے میرے ہاتھوں میں تھما دی تھی۔ وہ دیکھ تیری پُر خلوص دل سے دی ہوئی رقم اور میری محنت نے تیرے بھائی کو کتنے اونچے مقام پر پہنچا دیا ہے.... سب اللہ کا فضل ہے میرے بھائی تیرے اوپر بھی اور میرے اوپر بھی.... یہ اسی کے نرالے کھیل ہیں۔ ہمیں بس اس کا شکر ادا کرنا ہے ہر حال میں.... بس اس سے راضی رہنا ہے۔‘‘

’’اچھا چل بتا سعد کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘

’’ٹھیک ہے میرے بھائی، وہ....‘‘ ادریس نے آنسو پونچھ کر کہا، ’’اور مَیں سوچ رہا ہوں کل ہی اس کا داخلہ اسکول میں کروا دوں۔‘‘ ’’اچھا!‘‘ صادق نے چونک کر ادریس کو دیکھا۔

’’ہاں، بھائی کافی دنوں سے اسکول جانے کی رٹ لگائے ہوئے ہے اور مَیں بھی کیوں اسے اس کے حق سے محروم کروں۔ میرے پاس اس کے داخلے کے لئے پیسے نہیں تھے اس لئے مَیں اس کی بات ٹال رہا تھا۔ لیکن دیکھ میرے بھائی تجھے اللہ نے میرے لئے بہترین ذریعہ بنا دیا جب تک اللہ نے اس کی زندگی رکھی ہے مَیں تب تک اسے تعلیم دینے کی کوشش کروں گا۔‘‘ صادق کو اپنے دوست کی سوچ پر بڑا ہی رشک آیا....‘‘ ’’ہاں، بھائی تو کل ہی جا اور سعد بیٹے کا داخلہ کروا دے۔‘‘

ادریس وہاں سے اُٹھا سیدھا سبزی منڈی آیا سبزیاں خریدیں پھل خریدے۔ کافی دنوں سے اچھا کھانا نہیں کھایا تھا۔ گھر کیلئے کچھ اور ضروریات کا سامان لیا اورگھر کی طرف چل پڑا۔

اگلے دن سب سے پہلے ادریس نے آٹو نکالی، سعد کو گود میں اٹھایا اور قریب کے ہی ایک اسکول میں لے گیا۔ سعد کی حالت کے پیش نظر پہلے تو پرنسپل نے داخلے سے انکار کیا لیکن ادریس کے بہت زیادہ درخواست کرنے پر انہوں نے سعد کا داخلہ لے لیا۔

اب ادریس کا روٹین تھا صبح اٹھ کر سعد کا ہاتھ منہ دھلانا، اس کو ڈریس پہنانا، بالوں میں کنگھی کرنا، پھر ناشتہ کروا کر آٹو سے اسکول پہنچانا، اسکول پہنچنے پر سعد کو گود میں اٹھا کر اسے کلاس کی بینچ پر بٹھانا اور پورے دن آٹو چلانا۔ اسکول کی چھٹی ہونے پر سعد کو کلاس سے اٹھانا اور گھر لے آنا۔

آس پاس کے لوگ ادریس کے اس عمل پر اسے بہت سراہتے، کبھی کبھی ادریس کی غیر موجودگی میں پڑوس میں رہنے والے بچوں کے والد بھی سعد کو اسکول سے لے آتے تھے۔ یونہی وقت گزرتا جا رہا تھا۔

ایک دن ادریس جب سعد کو صبح اُٹھانے گیا تو اسے سعد کا بدن بہت گرم لگا، ’’آمنہ.... آمنہ اِدھر آؤ، دیکھو ذرا سعد کو! اس کا بدن کتنا گرم ہے.... اور یہ آنکھیں بھی نہیں کھول رہا ہے۔‘‘ آمنہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ سعد کے ماتھے پر رکھا.... اس کا بدن بہت ہی زیادہ گرم ہو رہا تھا ساتھ ہی وہ بھاری بھاری سانسیں بھی لے رہا تھا۔ جلدی جلدی ماتھے پر پٹیاں کیں.... کچھ فرق نہ دیکھ کر ادریس نے فوراً سعد کو اُٹھایا اور اسے لے کر پاس کے ہی بڑے اسپتال میں لے گیا۔ ڈاکٹرز نے چیک کرنے کے بعد دوسرے شہر ریفر کر دیا۔

سعد کے دادا چونکہ ادریس کے چھوٹے چاچو کے ساتھ رہتے تھے۔ ادریس نے فوراً انہیں اطلاع کی اور اپنے بھائیوں کو بھی اطلاع کر دی۔ فوراً سب لوگ سعد کو لے کر شہر کے سب سے بڑے اسپتال لے گئے۔ وہاں کے ڈاکٹرز نے سعد کو اچھے طریقے سے جانچا، اور گھر والوں کو بلا کر سعد کے کچھ ہی گھنٹے اس دنیا کے مہمان ہونے کا بتایا، یہ سن کر آمنہ کو چپی لگ گئی۔ اس نے ڈاکٹر سے دوبارہ جانچ کو کہا، اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جس بچے کو اس نے اتنی محنت کرکے زندگی کی طرف واپس موڑا تھا وہ یوں ہی اچانک ان سے دور جا رہا ہے۔ اب تو سعد دس سال کا ہونے والا تھا ماشاءاللہ اچھی اٹھان ہونے کی وجہ سے پورے پندرہ، سولہ سال کا لگتا تھا۔ ہر روز اٹھانا منہ ہاتھ دھلا کر ڈریس پہنا کر اپنی گود میں اٹھا کر اسکول لے جانا جیسے اب ادریس کی عادت بن چکی تھی۔ اور چونکہ سعید اور سعد ماشاءاللہ دونوں بچپن سے ہی بہت ذہین تھے اس لئے سعد نے بھی پوری لگن اور محنت سے پڑھائی کی، بلکہ اپنے شوق سے اپنے دوستوں کا بھی ہوم ورک کر دیتا تھا۔ جس پر کبھی کبھی ٹیچرز کی ڈانٹ بھی پڑ جاتی۔ اسکول میں سارے بچے سعد سے دوستی کے خواہاں تھے.... سعد بھی سب کے ساتھ باتیں کرتا کھیلتا اور شرارتیں کرتا تھا، لیکن کبھی کبھی اپنی معذوری کو دیکھ کر مایوس بھی ہو جاتا، جس پر اس کے ٹیچرز اور آمنہ ادریس اسے خوب سمجھاتے تھے۔

ہر گزرتے وقت کے ساتھ سعد کی حالت اور بگڑتی جا رہی تھی۔ ساری رات ڈاکٹرز نے اس کو وینٹی لیٹر پر رکھا۔

صبح ہونے سے پہلے ڈاکٹرز نے ادریس اور آمنہ کو اندر بلایا.... اور اخری بار سعد کو زندہ دکھایا، اس وقت سعد کی نبض بہت آہستہ بلکہ یوں کہئے کہ چل ہی نہیں رہی تھی۔ دونوں نے سعد کے ماتھے کو چوما اور بھاری قدموں سے باہر آگئے۔

صبح آٹھ بجے سعد نے آخری سانس لی اور مالک حقیقی سے جا ملا۔ شام تک سعد کی تدفین ہوگئی۔ اور پورے گھر میں بھیانک سناٹے کا راج ہوگیا۔ آج سعد کو گئے پورے ایک مہینہ ہونے کو تھا، ان دنوں میں ادریس کو لگ رہا تھا جیسے اسے کوئی کام ہی نہیں۔ صبح آٹو لے کر نکل جاتا اور شام کو جلد ہی لوٹ آتا۔ ادریس جس پرانی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا اس کے مالک کو جب ادریس کے بیٹے کے انتقال کا پتہ چلا تو ادریس کے گھر تعزیت کرنے آیا اور ساتھ ہی ادریس کو دوبارہ کمپنی جوائن کرنے کا بھی افر دیا، جسے ادریس نے بڑی خوش اسلوبی سے قبول بھی کر لیا۔

اللہ نے سعد کے جانے کے بعد ادریس کو ایک خوبصورت گڑیا عطا کی جس کا نام انہوں نے فائزہ رکھا جو بالکل سعد کی کاپی تھی۔

سعد کی کمی کو تو کوئی پورا نہیں کرسکتا تھا، لیکن جو اللہ کی مرضی۔ اس کے جانے کے بعد اس کے کھلونے اس کی کتابیں، آج بھی ادریس نے سنبھال کر رکھی تھیں، جب بھی سعد کی یاد آتی تو وہ اور آمنہ ان چیزوں کو کھول لیتے، دل بھر کر آنسو بہا لیتے اور پھر واپس ویسے ہی سنبھال کر رکھ دیتے۔ لیکن ادریس اور آمنہ کو اس بات کا اطمینان تھا کہ انہوں نے سعد کو اس کے حق سے محروم نہیں رکھا جس کی ستائش پورا خاندان محلے والے اور رشتہ دار کرتے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK