Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: تکمیلِ عشق

Updated: October 24, 2023, 5:06 PM IST | Aayat Chaudhary | Mumbai

’’کہاں کھو گئی ہو منّت؟‘‘ ریحان کے ہاتھ ہلانے پر وہ خیالوں کے بھنور سے باہر آئی اور ایک بار پھر خاموش ہی رہی۔ تو ریحان بولا، ’’منّت مجھے تم سے اپنے ایک سوال کا جواب چاہئے تھا۔‘‘ وہ اسے ایک کاغذ دیتے ہوئے بولا۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

میرے زخموں کی وجہ پوچھے گی دنیا تم سے
اپنے ہر زخم کی پہچان میں رکھّا ہے تمہیں 
دل تو بیچارا دیوانہ ہے اسے ہوش نہیں 
اس لئے دل میں نہیں جان میں رکھا ہے تمہیں 
’’مجھے آپ سے محبّت ہے اور مَیں آپ کیلئے زمانے کے آہنی دیواروں سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔‘‘ وہ اس کی لرزتی ہوئی پلکوں کو دیکھ کر بولا۔
 ’’نہیں ، مجھے اپنے بابا کے سامنے سر اٹھانے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی مَیں اتنی ہمت کر سکتی ہوں۔‘‘ وہ مسلسل خوفزدہ تھی۔ ’’تو کس نے کہا ہے کہ آپ اپنے بابا کے سامنے بغاوت کا اعلان کریں ۔ کم از کم میں نے تو ایسا بالکل بھی نہیں کہا ہے۔‘‘ وہ اپنے مخصوص لب و لہجہ میں دھیرے دھیرے بولا، ’’بس آپ مجھ پر اور خود پر بھروسہ رکھیں ، ان شاالله ہمیں ہماری منزل ضرور ملے گی۔‘‘ پھر بھی وہ پریشان اور الجھی الجھی سوچوں کے زیر اثر کھڑی رہی تو وہ مکمل طور پر زِچ ہوا اور وہاں سے چلا گیا اور یہ اس کے ناراض ہونے کا خاموش اظہار تھا۔ وہ بھی بوکھلا کر اس کے پیچھے بھاگی۔
 وہ یعنی کہ منّت حرا۔ شروع ہی سے پڑھاکو قسم کی لڑکی تھی اور جب اس نے انٹر کر لیا اور اس کے اچھے رزلٹ کو دیکھتے ہوئے اس کے والد شاہ سکندر چودھری نے اسے یونیورسٹی جانے کی اجازت دے دی تھی۔ اور اب وہ بی اے کے فائنل سمسٹر میں تھی۔ ریحان احمد ملک سے اس کی پہلی ملاقات اس دن ہوئی تھی جس دن اس کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔ بابا اس کا ایڈ میشن کروا کے چلے گئے تھے انہیں کہیں کام سے جانا تھا۔
 ریحان پرنسپل سر کے آفس سے نکل رہا تھا کہ اس نے دیکھا ایک حیران پریشان لڑکی کھڑی ہے اور سب کو آتے جاتے دیکھ رہی ہے۔ لگتا ہے اسے مدد کی ضرورت ہے۔ ریحان کچھ دیر کھڑا سوچتا رہا پھر اس کے قریب آکر بولا، ’’ہیلو مس آپ کیا ڈھونڈ رہی ہیں ؟ آپ کو کس سے ملنا ہے؟‘‘ وہ چونک کر مڑی، ’’مجھ سے مخاطب ہیں آپ؟‘‘ منّت نے گھبرا کر کہا تو ریحان بولا کہ، ’’ہاں میں آپ ہی سے پوچھ رہا ہوں ۔ پریشان لگ رہی ہیں کیا بات ہے؟‘‘ اُس نے نرمی سے پوچھا تو منّت نے کہا، ’’وہ دراصل آج میرا پہلا دن ہے یونیورسٹی میں اور مجھے کمرہ نمبر ۲۳؍ میں جانا ہے۔ پلیز بتا سکتے ہیں آپ کی کہاں پر ہے؟‘‘ منّت کے کہنے پر ریحان نے اپنی بے ساختہ آنے والی مسکراہٹ کو روکا اور اوپر کی سمت اشارہ کیا۔ منّت نے دیکھا کہ وہ جس کمرے کے سامنے کھڑی تھی وہی کمرہ نمبر ۲۳؍ تھا۔ وہ ذرا سا شرمندہ ہوتے ہوئے بولی کہ، ’’اوہ میں نے دھیان نہیں دیا۔‘‘ تو وہ مسکرا دیا، ’’کوئی بات نہیں ۔ ہوتا ہے کبھی کبھی۔‘‘ وہ جانے لگا پھر رک کر بولا، ’’آپ کو آگے بھی کوئی ضرورت پڑے گی تو مجھ کو بول سکتی ہیں۔‘‘ ’’جی ضرور!‘‘ منّت نے بھی مسکرا کر اسے شکریہ بولا اور اپنے کلاس میں چلی آئی۔ یوں ریحان سے منّت کی دوستی پہلے دن ہی ہو گئی تھی۔ اور پھر جب بھی منّت کو کوئی ضرورت پڑتی وہ اس کی مدد کے لیتے حاضر رہتا اور یوں دھیرے دھیرے یہ دوستی کب محبّت میں بدل گئی منّت کو پتہ ہی نہ چلا۔

وہ چونکی تو وہ یونیورسٹی چھوڑ کر جا رہا تھا۔ اس کی پڑھائی پوری ہو چکی تھی۔ وہ میتھ میٹکس میں ایم ايس سی کرچکا تھا۔ اور اب اسے جاب کے لئے اپلائی کرنا تھا۔ اور منّت کی دل کی دنیا میں تو تہلکہ مچا ہوا تھا۔ تین سال اس کے ساتھ رہتے ہوئے اس کے دل نے پوری زندگی اس کے ساتھ رہنے کے خواب دیکھ لئے تھے۔ اور اب یہ کیا ہو رہا تھا.... پوری رات رو رو کر اس کا برا حال تھا۔ یونیورسٹی میں دوسرے دن اس کی ویران اور سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر ریحان بولا، ’’منّت کیا ہوا ہے تمہیں اتنی اداس کیوں ہو؟‘‘ وہ کچھ نہ بولی البتہ یہ ضرور ہوا کہ اس کے آنسو ضبط کی باڑھ پھلانگ کر رخساروں پر بہنے لگے۔ وہ کچھ دير تک اسے دیکھتا رہا پھر اپنا رومال نکال کر اس کی طرف بڑھایا تو منّت کو اپنی بے ساختگی کا احساس ہوا۔ اس نے جلدی سے آنسو صاف کیا اور دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی، ’’کیا سوچ رہا ہوگا ریحان میرے بارے میں ....‘‘ وہ نظریں جھکائے کھڑی رہی۔ تو وہ لمبی سانس لیتے ہوئے بولا، ’’منّت میں سمجھ رہا ہوں تم میرے جانے کا سن کر اداس ہو رہی ہو اور مجھے یہ بھی پتا ہے کہ تمہارے احساسات اور جذبات کیا ہیں میرے بارے میں ۔‘‘ وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے بول رہا تھا اور وہ زمین میں جیسے گڑی جا رہی تھی شرم سے اس کے رخسار دہکنے لگے تھے اور پیشانی پر پسینے کے ننھے منھے قطرے جھلملانے لگے تھے۔ وہ بھلے ہی ریحان سے بہت محبت کرتی تھی لیکن کہہ نہیں سکتی تھی۔ فطری شرم و حیا نے اس کے لب سی رکھے تھے۔ وہ یہ کبھی کہہ ہی نہیں سکتی تھی کہ ہاں وہ اپنے لب و لہجے کے بدولت اس کے دل میں اتر چکا ہے اور اب وہ اپنی زندگی میں ہر موڑ پر اس کا ساتھ دیکھنا چاہتی تھی۔
 ’’کہاں کھو گئی ہو منّت؟‘‘ ریحان کے ہاتھ ہلانے پر وہ خیالوں کے بھنور سے باہر آئی اور ایک بار پھر خاموش ہی رہی۔ تو ریحان بولا، ’’منّت مجھے تم سے اپنے ایک سوال کا جواب چاہئے تھا۔‘‘ وہ اسے ایک کاغذ دیتے ہوئے بولا۔ منّت نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ریحان نے اسے کاغذ پڑھنے کا اشارہ کیا اور خود درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ تو وہ پڑھنے لگی جس میں خوبصورت سے اشعار کے ذریعہ اُس نے اپنے جذبوں کو زبان بخشا تھا:
’’اگر میں تم سے کچھ مانگو
اگر میری تمنا ہو 
میرے دل کی یہ خواہش ہو
کی زندگی میں جب کبھی تم کو پکاروں میں 
تمہارا ساتھ چاہوں میں 
تو میرا ساتھ دوگے نا؟‘‘
 اس نے پڑھنے کے بعد ریحان کو دیکھا جو اپنی آنکھوں میں چاہتوں کا ایک نیا جہان آباد کئے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ پھر دفعتاً اس نے اپنا دونوں ہاتھ آگے بڑھایا تو منّت پہلے تو تھوڑا سا جھجکی پھر اسکی بانہوں میں سما گئی۔ اس کی بقراریوں کو قرار آ رہا تھا اور وہ خوش تھی کہ وہ محبت کے اِس سفر میں تنہا نہیں ہے ریحان بھی اسی راہ کا مسافر ہے۔ پھر وہ دونوں دیر تک باتیں کرتے رہے۔ وہ ریحان کے کندھے پر سر رکھ کے بیٹھی تھی۔ چھٹی ہو چکی تھی اور وہ دونوں لائبریری کے پاس ایک بینچ پر بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے۔ ’’تو پھر منّت کیا سوچا ہے کب بات کروگی گھر پر ہمارے بارے میں ؟‘‘ اچانک ریحان بولا تو وہ جو محبّت کے نشے میں مدہوش تھی چونک کر سیدھی ہو بیٹھی، ’’ریحان یہ سب ہمارے گھروں میں قبول نہیں کیا جاتا۔ تختہ دار پر لٹکا دیں گے بابا مجھے۔ آپ اُن کی فطرت سے واقف ہیں نا۔‘‘ وہ اُداسی اور یاسیت بھرے لہجے میں بول رہی تھی۔ ریحان نے اسے دیکھا جس کی آنکھیں ابھی تک زندگی سے باتیں کرتی محسوس ہو رہی تھیں ۔ اچانک ان میں سارے جہان کا درد اور محبت کو کھونے کا ملال تحریر ہو رہا تھا۔ ایک طرف اپنوں کی محبت تھی اور دوسری طرف دل کی ہارنا محبت کو ہی تھا۔
 وہ بول رہی تھی اور اس کی پلکیں لرز رہی تھیں ، ’’جانتے ہیں ریحان میں نے کبھی خواب نہیں بنے تھے محبت صرف دھوکہ لگتی تھی مجھے مگر محبت آہستگی سے آکر سما گئی مجھ میں ۔ محبت کے بعد کائنات تونکھر گئی مگر کہیں میرا وجود نہ بکھر جائے۔‘‘ ریحان نے آہستگی سے اس کے آنسو پوچھے پیشانی پر محبّت اور عقیدت بھرا بوسہ دیا پھر اسے تسلی دینے لگا، ’’گھبراؤ نہیں منّت، جیسا تم سوچ رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ ہم ایک ضرور ہوں گے بس تم حوصلہ مت ہارنا دعا کرنا۔‘‘ پھر وہ تسلی کے چند جگنو اسے تھما کر چلا گیا۔ آسٹریلیا اسے جاب مل گئی تھی چند دنوں بعد اس نے بتایا۔
 پھر دن یونہی بوریت اور بے رنگ سے گزرنے لگے۔ اس کی پڑھائی بھی پوری ہو چکی تھی اور گھر میں اس کے رشتے کی بات بھی ہونے لگی تھی۔ دو بہنیں تھیں وہ اور بڑی بہن کی شادی ہو چکی تھی۔ ایک بھائی تھا جو سب سے چھوٹا تھا اور پڑھ رہا تھا اور اب بابا چاہ رہے تھی کہ منّت کی شادی کر دیں ۔ اس کے لئے پہلے ہی سے رشتے آرہے تھے۔ فون کر کرکے منّت کے ہاتھ شل ہوچکے تھے مگر ریحان کا فون لگ ہی نہیں رہا تھا۔ منّت کا سم خراب ہو چکا دوسرا سم لینا پڑا تھا اور اب وہ اسے اپنے نئے نمبر سے فون کر رہی تھی لیکن لگ نہیں رہا تھا۔ اوہ خدا.... وہ حد درجہ پریشان ہو رہی تھی۔ اگر ریحان اسے فون کر رہا ہوگا تو اس کا فون بھی نہیں لگےگا۔ وہ اسے بتانا چاہ رہی تھی کہ اب وہ آجائے کیسے بھی کرکے ورنہ بہت دیر ہو جاےگی۔ وہ سونے کیلئے لیٹی تو طرح طرح کے وہم اسے ستانے لگے.....

کیا وہ مجھے بھول گیا ہے کیا اسے میری یاد نہیں آئی؟ اس نے مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ آنسوؤں سے اس کا تکیہ بھیگتا رہا اور وہ گھٹ گھٹ کے روتی رہی۔
ایک دکھ پر ہزار آنسو
اُف....یہ آنکھوں کی فضول خرچیاں 
 پھر دوسرے دن رات کے کھانے پر اس سے اس کی رضامندی پوچھی گئی اور اس کی خاموشی کو اثبات سمجھ کر ’ہاں ‘ کر دیا گیا۔ اکلوتا لڑکا تھا باہرکہیں جاب کررہا تھا۔ ابّو نہیں تھے ماں تھیں اور تین بہنیں ، سب کی شادی ہو چکی تھی اور اب لڑکے کی کرنی تھی۔ اس کے گھر والے منگنی نہ کرتے ہوئے نکاح کرنا چاہ رہے تھے۔ ان کے بیٹے کو دس دن کی ہی چھٹی ملی تھی یہاں بھی کسی کو اعتراض نہیں تھا۔
 پھر زور و شور سے شادی کی تیاریاں ہونے لگیں ۔ لڑکے کے گھر والے ایک بار منّت کو دیکھ کر گئے تھے اور انہیں یہ کومل سی پیاری سی لڑکی بہت پسند آئی تھی۔ لڑکے سے بھی منّت کے گھر والے مل چکے تھے۔ سب کچھ اچھا تھا سب خوش تھے۔ بس اداس تھی تو منّت جسے اپنی شادی میں نہ کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی کوئی خوشی۔ ایک طرف دل کے اجڑنے کا کرب تھا تو دوسری طرف ریحان کی بےوفائی کا دکھ۔
نہ ہی میں بےچین تھی نہ ہی دل بیقرار تھا
یہ تب کی بات تھی جب کسی سے پیار نہ تھا
 نکاح نامے پر سائن کب کیا کب اسے تیار کیا گیا کب اسے رخصت کیا گیا اسے کچھ خبر نہیں ۔ اور اب وہ پھولوں سے سجے کمرے میں دلہن بنی بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی جس کے لئے نہ تو کبھی اس کا دل دھڑکا تھا اور نہ ہی کبھی کوئی امنگ جاگی تھی، نہ ہی اس کے آنکھوں میں کوئی رنگ اُترے تھے نہ ہی دھڑکن کی لے بدلی تھی۔ اسے تو اب تک اس کا نام بھی نہیں معلوم تھا۔ کیسی دلہن تھی وہ خالی دل بےخواب آنکھیں لئے بیٹھی تھی کہ اچانک دروازہ کھلا اور اس کی سانس حلق میں آکر اٹک گئی۔ ’’شادی مبارک ہو‘‘ اس مانوس سی آواز پر اس نے نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا اور پھر پلکیں جھکانا بھول گئی۔ وہی تو تھا اس کے جسم و جان کا مالک اس کے دل کا مکین اس کے آنکھوں کا خواب۔ ریحان اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ ’’ارے بس بھی کرو.... منّت نظر لگاؤ گی کیا؟‘‘ وہ شرارت سے بولا تو وہ تھوڑا ہوش میں آئی اس کا دماغ جیسے تیز آندھیوں کی زد میں تھا اس کا پورا وجود زلزلے کی زد میں اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ رہا تھا۔ ’’نہیں پلیز....‘‘ ریحان اسے سمجھاتے ہوئے بولا، ’’اب ان آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں ، میں تمہیں سب بتاتا ہوں کہ یہ سب کیسے ہوا۔‘‘ وہ اسے پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے بولا، ’’بات دراصل اتنی سی ہے کہ میں تمہیں فون کر رہا تھا کہ میں آ رہا ہوں اور امّی سے میں نے تمہارے بارے میں پہلے ہی سے بات کر لی تھی۔ انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔ تمہارا فون شاید تب خراب ہو چکا تھا، نہیں لگ رہا تھا۔ پھر میں نے ایک پلان ترتیب دے ڈالا کہ کیوں نہ تمہیں سرپرائز کردوں ۔ پھر امی اور میری بہنوں نے رشتے کے لئے بات کی۔ تمہارے گھر والوں کو میں پسند آ گیا اور یوں جھٹ پٹ شادی ہو گئی۔‘‘ وہ اب بات پوری کرکے خاموش ہوا اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاکر بیٹھ گیا۔ پھر اس کی جانب جھک کر بولا، ’’اب اگر اجازت ہو تو اپنی بیوی کو میں رونمائی کا تحفہ پیش کر دوں۔‘‘
 ’’جی ضرور....‘‘ اب وہ بھی بول پڑی تو وہ مخملی ڈبیا سے نازک سا گولڈ کا بریسلیٹ نکالنے لگا پھر اس کی کلائی میں سجا کر دیکھنے لگا۔اس پیارے سے بریسلیٹ نے اس کے ہاتھوں کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔
 ’’منّت خوش تو ہو نا....‘‘ وہ پوچھ رہا تھا اور وہ سرشاری کی کیفیت میں اس کے سینے میں سر چھپا گئی۔ اور ریحان احمد ملک اس کی پیشانی چومتے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ جس پر قوس و قزح کے اتنے سارے رنگ بکھرے ہوئے تھے کہ وہ مسحور سا ہوا جا رہا تھا اور منّت حرا مطمئن سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے اس رب کا شکریہ ادا کر رہی تھی جسے بنا مانگے اتنا نواز دیا تھا کہ جھولی تنگ پڑنے لگی تھی....
جن کی صداقتوں پر کوئی شک نہ کر سکے
تم بھی کتابِ دل کی انہی آیتوں سے ہو!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK