Updated: June 05, 2026, 10:02 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیل میں مقامی افرادی قوت کی کمی کے باعث ہندوستان، تھائی لینڈ اور سری لنکا سے آنے والے ۵۰؍ ہزار سے زائد غیر ملکی کارکن معیشت کا اہم ستون بن گئے ہیں۔ یہ کارکن خوراک سازی، زرعی شعبے، ریٹیل اسٹورز اور نگہداشتِ مریضاں سمیت کئی بنیادی شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے گزشتہ دو برس کے دوران غیر ملکی صنعتی کارکنوں کے کوٹے میں تین مرتبہ اضافہ کیا ہے۔
اسرائیل میں افرادی قوت کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان ہندوستان، تھائی لینڈ اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ۵۰؍ ہزار سے زائد غیر ملکی کارکن ملک کی معیشت کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ خوراک تیار کرنے والی فیکٹریوں، زرعی فارموں، ریٹیل چینز اور بزرگوں و مریضوں کی نگہداشت کے شعبوں میں ان کارکنوں کی موجودگی نے ان صنعتوں کو چلائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق حکومت نے گزشتہ دو برس کے دوران صنعتی شعبے کے لیے غیر ملکی کارکنوں کے منظور شدہ کوٹے میں تین مرتبہ اضافہ کیا، جس کے بعد یہ تعداد ۲۱؍ ہزار ۲۰۰؍ تک پہنچ گئی۔ ان میں تقریباً ۷۰؍ فیصد کارکن غیر ہنرمند (Unskilled) زمرے میں شمار کیے جاتے ہیں۔ کاروباری اداروں اور صنعتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مقامی کارکنوں کی عدم دلچسپی اور مزدوروں کی قلت کے باعث غیر ملکی افرادی قوت اب ناگزیر بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سلامتی کونسل میں جرمنی کی شکست غزہ اور ایران پالیسی پرعالمی غصے کا عکس: ایران
صنعتی شعبے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ خوراک سازی اور مینوفیکچرنگ کے کئی ادارے ایسے ہیں جو غیر ملکی کارکنوں کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتے۔ ایک معروف فوڈ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ یہ وہ ملازمتیں ہیں جنہیں زیادہ تر اسرائیلی شہری اختیار نہیں کرنا چاہتے، جبکہ غیر ملکی کارکن حاضری، مستقل مزاجی اور پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ اسرائیل میں زرعی شعبہ کئی دہائیوں سے بیرونی کارکنوں پر انحصار کرتا رہا ہے۔ خاص طور پر تھائی لینڈ کے ہزاروں مزدور کھیتوں اور زرعی فارموں میں کام کرتے ہیں۔ ۲۰۲۳ء کے بعد فلسطینی اور دیگر مقامی مزدوروں کی دستیابی میں کمی آنے سے غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت مزید بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں سری لنکا اور ہندوستان سے بھی بڑی تعداد میں افراد کو ملازمتوں کے لیے لایا گیا۔
تاہم آجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ساتھ کئی چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ موجودہ قوانین کے تحت غیر ملکی کارکن صرف محدود مدت، عموماً پانچ سال تک، اسرائیل میں کام کر سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں ملک چھوڑنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے اداروں کو مسلسل نئے کارکن بھرتی اور تربیت دینے کی ضرورت پیش آتی ہے، جس سے مہارت اور تجربے کا تسلسل متاثر ہوتا ہے۔ مزید برآں، زبان اور ابلاغ کے مسائل بھی کاروباری اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ متعدد فیکٹریوں اور فارموں میں مترجمین یا اضافی سپروائزری عملہ تعینات کرنا پڑتا ہے تاکہ روزمرہ کے کام متاثر نہ ہوں۔ آجر یہ بھی کہتے ہیں کہ غیر ملکی کارکنوں کی ملازمت پر رہائش، طبی بیمہ اور دیگر قانونی سہولتوں کی فراہمی لازمی ہونے کے باعث ان پر آنے والی لاگت مقامی کارکنوں کے مقابلے میں تقریباً ۲۵؍ فیصد زیادہ ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کو نیتن یاہو نے ’’ خاندانی جھگڑا‘‘ قرار دیا
اس کے باوجود اسرائیلی صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں غیر ملکی افرادی قوت کے بغیر معیشت کے کئی شعبوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مقامی مزدوروں کی کمی برقرار رہی تو آئندہ برسوں میں اسرائیل کو مزید غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے نئی پالیسیاں مرتب کرنا پڑ سکتی ہیں۔