• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: وہ جو زمین اوڑھ کے بے وقت سوگیا

Updated: September 21, 2026, 3:27 PM IST | Sadiya Abdul Majeed Nadwi | Mumbai

ایک بہن کی اپنے مرحوم بھائی کے لئے جذباتی تحریر۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

وہ میرا بھائی تھا۔

میرا اپنا بھائی.... جسے میں نے صرف رشتے میں نہیں، دل میں رکھا تھا۔

کبھی کبھی موت کی خبر صرف ایک خبر نہیں ہوتی، وہ اپنے ساتھ زندگی کا ایک پورا باب بند کرکے آتی ہے۔ کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انسان بولنا چاہتا ہے، مگر آواز ساتھ نہیں دیتی؛ آنکھیں کچھ کہنا چاہتی ہیں، مگر آنسو سب کچھ کہہ دیتے ہیں۔

احمد اللہ! تم کیوں چلے گئے؟

کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن تمہیں پکاروں گی اور جواب نہیں آئے گا۔ تمہاری آواز سننے کو دل ترسے گا، تمہیں دیکھنے کی خواہش دل میں اٹھے گی اور پھر اچانک یہ حقیقت سامنے ہوگی کہ جسے دیکھنا چاہتی ہوں، وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔

بھائی کا رشتہ بھی عجیب ہوتا ہے۔ کبھی وہ چھوٹا بھائی لگتا ہے، کبھی اپنا محافظ، کبھی دوست اور کبھی ایسا ہم راز جس کے سامنے انسان اپنی خوشی، اپنا غم، اپنی ناراضی اور اپنی محبت سب کچھ بے تکلفی سے رکھ دیتا ہے۔

تم بھی میرے لئے ایسے ہی تھے۔

تمہاری ناراضی اپنی لگتی تھی، تمہاری خوشی اپنی خوشی معلوم ہوتی تھی اور تمہاری پریشانی میرے دل کو بے چین کردیتی تھی۔ تمہیں کوئی تکلیف ہوتی تو دل چاہتا کہ وہ تکلیف تمہیں نہ ہو، مجھے ہوجائے۔

مگر آج تمہاری جدائی نے میرے وجود کو اندر تک جھنجھوڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:افسانہ: رہ گزر

زندگی نے پہلے بھی مجھ سے بہت کچھ چھینا ہے۔ صرف پندرہ برس کی عمر میں اپنے والدِ محترم، عبدالمجید ندوی، کا سایہ سر سے اٹھتے دیکھا تھا، مگر اس محرومی کا درد دل میں کہیں گہرا اتر گیا۔ ابھی اس زخم کی کسک باقی ہی تھی کہ تقریباً دو برس پہلے میری پیاری خنساء بھی مجھ سے جدا ہوگئی۔ اس جدائی کا زخم آج تک مندمل نہیں ہوا۔ شاید اس لئے بھی کہ اس کا ساڑھے چار سالہ بیٹا آج میری آغوش میں پرورش پا رہا ہے۔ وہ میرے لئے صرف خنساء کی نشانی نہیں، میری ذمہ داری، میری محبت اور میری زندگی کا ایک حصہ ہے۔ اس کی آنکھوں میں مجھے اپنی خنساء دکھائی دیتی ہے اور اسے سینے سے لگاتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اپنی بچھڑی ہوئی خنساء کو تھامے ہوئے ہوں۔

مَیں ابھی ان دونوں جدائیوں کے دکھ کو اپنے اندر سمیٹ ہی رہی تھی کہ تمہاری جدائی نے اس زخم کو پھر سے ہرا کر دیا۔

کاش! موت سے پہلے مجھے معلوم ہوتا کہ یہ تم سے میری آخری ملاقات ہے۔ مَیں تمہیں شاید کچھ دیر اور دیکھتی، تم سے کچھ زیادہ باتیں کرتی، تمہارے چہرے کو اپنے دل میں اور گہرا محفوظ کرلیتی، تمہاری آواز کو غور سے سنتی اور جاتے ہوئے شاید بس اتنا کہتی:

’’احمد اللہ! اپنا خیال رکھنا۔‘‘

مگر اب یہ جملہ بھی کس سے کہوں؟

تم تو چلے گئے۔

تمہارے جانے کے بعد احساس ہوا کہ بعض لوگ ہماری زندگی کا اتنا حصہ بن جاتے ہیں کہ ان کے نہ ہونے کا تصور بھی زندگی کو ادھورا کردیتا ہے۔ تمہاری جگہ خالی ہے، مگر وہ جگہ کوئی پُر نہیں کرسکتا۔ تمہاری آواز کی جگہ کوئی آواز نہیں لے سکتی، تمہارے نام کی جگہ کوئی دوسرا نام نہیں آ سکتا، کیونکہ بھائی کا بدل کوئی نہیں ہوتا۔

آج گھر میں سب کچھ ویسا ہی ہے، مگر کچھ بھی ویسا نہیں رہا۔

لوگ بات کرتے ہیں، زندگی چل رہی ہے، دن رات گزر رہے ہیں، مگر میرے اندر جیسے وقت وہیں رک گیا ہے جہاں تم ہم سے جدا ہوئے تھے۔

کبھی اچانک دل کہتا ہے: ابھی احمد اللہ کا فون آئے گا۔

پھر حقیقت سامنے آتی ہے اور دل دوبارہ ٹوٹ جاتا ہے۔

کبھی کسی کی آواز تمہاری آواز سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہے تو بے اختیار نگاہ اٹھ جاتی ہے۔ کبھی کوئی تمہارا نام لیتا ہے تو دل ایک لمحے کے لئے دھڑکنا بھول جاتا ہے۔

اور پھر یاد آتا ہے....

وہ تو زمین اوڑھ کر سوگیا۔

تمہیں کیا معلوم، تمہارے جانے کے بعد تمہاری بہن نے کتنی بار تنہائی میں تمہیں پکارا ہے۔ کتنی بار تمہاری تصویر دیکھ کر آنکھیں نم ہوئی ہیں۔ کتنی بار دل نے چاہا ہے کہ بس ایک بار تم سامنے آجاؤ۔

مَیں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی۔ تم سے کوئی شکایت نہیں کروں گی۔ تمہاری کوئی بات یاد کرکے ناراض نہیں ہوں گی۔

بس تمہیں دیکھوں گی....

مگر موت واپس نہیں آتی۔ وہ صرف اپنے پیچھے یادیں چھوڑ جاتی ہے۔

....اور تم نے بھی میرے لئے یادوں کا ایک ایسا خزانہ چھوڑا ہے جسے چھوتے ہی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:افسانہ : دوستی، حوصلے اور بارش کی وہ آزمائش

احمد اللہ!

تمہارے جانے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ بہن اپنے بھائی کے مرنے پر صرف ایک شخص نہیں کھوتی، وہ اپنے بچپن کا ایک حصہ کھو دیتی ہے۔ وہ دن کھو دیتی ہے جب بھائی ساتھ ہوتے ہیں۔ وہ بے فکری کھو دیتی ہے کہ ضرورت پڑنے پر بھائی کو پکار لے گی۔

اب تم میرے پاس نہیں ہو، مگر میری دعاؤں میں ہو۔

ہر دعا کے بعد تمہارا خیال آتا ہے۔ ہر آنسو کے ساتھ تمہاری یاد آتی ہے اور ہر بار دل سے یہی دعا نکلتی ہے:

یا اللہ! میرے بھائی کو وہ سکون عطا فرما جو دنیا اسے نہ دے سکی۔

اس کی قبر کو نور سے بھر دے۔

اس کی خطاؤں کو درگزر فرما۔

اسے اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے۔ اور اگر میری کسی دعا میں اثر ہے تو میرے بھائی کے حصے میں لکھ دے۔

احمد اللہ!

لوگ کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ غم کم ہوجاتا ہے۔ شاید وقت انسان کو غم کے ساتھ جینا سکھا دیتا ہے، مگر ایک بہن کے دل میں بھائی کی جگہ کبھی خالی نہیں ہوتی۔

وہ جگہ ہمیشہ رہتی ہے۔

تم بھی وہیں رہو گے، میرے دل کے اسی کونے میں جہاں صرف تمہاری یاد ہے۔

وہ جو زمین اوڑھ کے بے وقت سو گیا،

وہ میری آنکھوں سے اوجھل ہوا ہے، میرے دل سے نہیں۔

تم سوگئے ہو، احمد اللہ!

مگر تمہاری بہن ابھی جاگ رہی ہے....

تمہاری یادوں کے ساتھ، تمہاری تصویروں کے ساتھ، تمہاری آواز کی بازگشت کے ساتھ اور اس سوال کے ساتھ جس کا جواب شاید کبھی نہیں ملے گا:

احمد اللہ!

تم اتنی جلدی کیوں چلے گئے؟

تم تو بتا رہے تھے کہ ابھی کئی روز کا سفر باقی ہے،

پھر اچانک زنجیر کھینچ کر کیوں اتر گئے؟

خدا حافظ، میرے بھائی!

تمہاری بہن!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK