• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: رہ گزر

Updated: September 14, 2026, 5:55 PM IST | Maryam Bint Mujahid Nadwi | Mumbai

ٹھنڈے پانی کی بوندیں کھڑکی کی سلاخوں سے ٹکراتے ہوئے رِدا کے چہرے کو بھگو رہی تھیں، جو کرسی پر دونوں پاؤں اوپر لئے، ان کے گرد دونوں بازو لپیٹے نہ جانے کن خیالوں میں گم بیٹھی ہوئی تھی، کہ اس کی امی رشیدہ کی مسلسل آواز تک اسے سنائی نہیں دی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
ٹھنڈے پانی کی بوندیں کھڑکی کی سلاخوں سے ٹکراتے ہوئے رِدا کے چہرے کو بھگو رہی تھیں، جو کرسی پر دونوں پاؤں اوپر لئے، ان کے گرد دونوں بازو لپیٹے نہ جانے کن خیالوں میں گم بیٹھی ہوئی تھی، کہ اس کی امی رشیدہ کی مسلسل آواز تک اسے سنائی نہیں دی۔ یہاں تک کہ امی کو اسے بلانے کے لئے اس کے کمرے میں آنا پڑا، ’’کہاں ہو رِدا؟ کب سے آواز دے رہی ہوں، مگر مجال ہے جو کبھی ایک آواز میں سن لو۔‘‘ امی اپنی روش میں بولتی ہوئی اندر داخل ہوئیں، لیکن رِدا کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہی چپ ہوگئیں۔
’’امی، مجھے بھوک نہیں ہے، مَیں بعد میں کھالوں گی۔‘‘
امی جہان دیدہ عورت تھیں، کچھ دنوں سے اس کا یہ بدلا ہوا رویہ نوٹ کر رہی تھیں۔ سو کچھ بھی کہنے یا ڈانٹنے کے بجائے خاموشی سے اس کے بیڈ کے کنارے آکر بیٹھ گئیں۔ ’’رِدا....‘‘ بس ان کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ رِدا تیزی سے ان کے گلے سے لگ گئی، اور رونا شروع کردیا۔
 
وہ احمد سر کی کلاس سے نکل کر لائبریری کی طرف بڑھی، تب ہی لائبریری اور کلاس کے مشترکہ کوریڈور کی ریلنگ کے ساتھ لگے ان چاروں پر اس کی نظر پڑی۔ وہ سلام کرنے کی غرض سے آگے بڑھی ہی تھی کہ ان میں سے ایک، جو اس کی سب سے اچھی سہیلی تھی، جو کالج کے پہلے دن سے اس کے ساتھ تھی، نے زور سے ہنس کر کہا، وہ الفاظ سن کر اس کے قدم مڑنے کے بجائے وہیں رک گئے۔ ’’یار، وہ میری کلاس فیلو ہے نا جس کا میں بتا رہی تھی، کہ کتنی بے وقوف ہے؟‘‘ سب نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’مَیں نے اس سے دو مہینے پہلے دو ہزار روپے لئے تھے۔ یہ کہہ کر کہ پاکٹ منی ملتے ہی واپس کر دوں گی۔ اس بیچاری نے ابھی تک مجھ سے ان پیسوں کا ذکر نہیں کیا۔ ابھی تک اس کے پیسے میں نے بھی واپس نہیں دیئے اسے۔‘‘ بولتے بولتے ہی وہ ہنسنے لگی، جیسے واقعی کوئی لطیفہ ہو۔ باقی تینوں بھی اس ہنسی میں شامل تھیں۔
’’ارے وہ اتنی نا سمجھ ہے کہ مَیں نے ایک دن کلاس کے دوران اس سے پوچھا کہ میرے بھی نوٹس لکھو گی کیا؟ میرے سر میں درد ہے۔ وہ بیچاری مان گئی، وہ پوری کلاس اپنے اور میرے نوٹس لکھنے میں گھن چکر بنی ہوئی تھی۔ اسرار سر اس دن ریاضی کا مشکل والا موضوع سمجھا رہے تھے۔ اس بیچاری کی تو حالت دیکھنے لائق تھی۔ مجھے تو اپنی ہنسی کنٹرول کرنے میں دشواری ہو رہی تھی۔‘‘
 
 
وہ لوگ اس کی سادگی اور خلوص کا مزید مذاق اڑاتے، اس سے پہلے ہی وہ وہاں سے مڑی اور بنا رکے کالج کے لان کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے اپنی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے محسوس کیا کہ اس دن کا گلابی، شاداب موسم عجیب بوجھل ہوچکا تھا۔
 
’’امی، کالج کے پہلے دن جب کوئی بھی مجھ سے بات نہیں کر رہا تھا تو وہ خود میرے پاس آئی تھی۔ مَیں اب تک اسے اپنی سب سے اچھی دوست سمجھتی تھی۔ مَیں کتنی ہی بار اس سے کہتی کہ ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے، چاہے کچھ بھی ہوجائے۔ اور وہ ہنس دیتی۔ مجھے اب احساس ہو رہا ہے کہ وہ دوستی کی آڑ میں مجھ سے اپنے کتنے ہی کام کروا چکی ہے۔ کبھی اسائنمنٹ کرنے میں مدد کر دو، کبھی کینٹین سے کچھ لا دو میرے سر میں درد ہے، اور میں ایک بے وقوف کی طرح اس کی ساری باتیں مانتی رہی، صرف اسی لئے کہ دوستی میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔‘‘
رِدا کے آنسو خشک ہوئے تو اس نے اپنی امی کو کالج میں ہونے والا سارا قصہ سنا دیا۔ امی اسے دلاسہ دینے لگیں، اسے سمجھانے لگیں۔ لیکن رِدا کو سمجھاتے ہوئے ان کے ذہن میں ماضی کی وہ یاد تازہ ہوگئی۔ جب ان کی بیسٹ فرینڈ نے بھی ان کے بھولپن کا فائدہ اٹھایا تھا۔ اور اس بات کا انکشاف ہونے پر انہیں کتنا دکھ ہوا تھا۔ ’’کچھ لوگ ہماری توجہ کے مستحق نہیں ہوتے رِدا۔ وہ زندگی کی اس رہ گزر پر ہمیں ایک سبق سکھانے کیلئے ہماری زندگی میں آتے ہیں۔‘‘ امی اسے سمجھارہی تھیں۔ ’’پھر ہم کیسے پہچان سکتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس رہ گزر پر ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے؟‘‘ رِدا کے معصوم ذہن میں یہ سوال ابھرا۔
وہ دونوں بیٹھی باتیں کر ہی رہی تھیں کہ اتنے میں دونوں کا موبائل بیک وقت بج اُٹھا۔ امی نے دیکھا تو ان کی سب سے قریبی، بچپن کی سہیلی عظمیٰ کی کال آرہی تھی، اور دوسری طرف رِدا کے موبائل پر ارم کی، جو رِدا کے اسکول کے زمانے کی سہیلی تھی لیکن کالج الگ ہونے کی وجہ سے اب ان کا تعلق فاصلوں کی نذر ہوچکا تھا۔ دونوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا، ’’وہ لوگ ارم جیسے ہوتے ہیں، مخلص، سچے اور پیارے۔‘‘
امی نے پیار سے رِدا کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا اور فون اٹھا کر باہر چلی گئیں۔ پیچھے رِدا ارم سے باتیں کرتے ہوئے سوچ رہی تھی: امی نے سچ کہا تھا، زندگی کی رہ گزر پر صرف مطلبی اور خود پرست لوگ ہی نہیں ملتے، بلکہ آپ پر جان قربان کرنے والے، اور آپ کو سمجھنے والوں سے بھی آپ کا واسطہ پڑتا ہے۔ باہر موسم بھی خوشگوا ر ہونے لگا تھا، جس پر ہلکی برستی بارش نے چار چاند لگا دیئے تھے۔
وہی دن تھا، وہی موسم تھا، وہی ماحول تھا، لیکن اپنی فکر میں ایک تبدیلی نے رِدا کے موڈ میں ایک خوشگواری پیدا کردی تھی۔ وہ جان گئی تھی کہ زندگی کی رہ گزر پر اچھے اور بُرے دونوں لوگ ملتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح زندگی میں اچھے بُرے وقت آتے جاتے رہتے ہیں۔ بس ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اور پرائے، مخلص اور ریاکار میں فرق جاننے والے ہوں اور ہر شخص کو اپنے دل میں اتنی ہی جگہ دیں جس کا وہ حقدار ہے، یہ طریقۂ کار یقینا ً زندگی کو سدا بہار بنانے میں مفید ثابت ہوگا۔ یہ بات رِدا سمجھ چکی تھی اور وہ اگلے دن مکمل اعتماد کے ساتھ کالج جانے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوچکی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK