ایک سفر جو یادگار بن گیا۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 2:03 PM IST | Sajida Beg | Mumbai
ایک سفر جو یادگار بن گیا۔
کبھی کبھی زندگی کے چند لمحے برسوں پر بھاری پڑ جاتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جو دل کی کتاب میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ماتھیران کا یہ سفر بھی میری زندگی کا ایسا ہی ایک باب ہے، جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
دیوالی کی تعطیلات شروع ہوتے ہی ہم سب اساتذہ کئی دنوں سے امتحانی پرچوں کی جانچ، نتائج کی تیاری اور مسلسل تعلیمی مصروفیات سے بے حد تھک چکے تھے۔ چنانچہ طے پایا کہ چند لمحے سکون کے گزارنے کے لئے ہم سب ماتھیران کا رخ کریں۔ تقریباً آٹھ سے دس اساتذہ اس سفر میں شریک تھے، اور میرے ساتھ میری سب سے عزیز دوست بھی تھی۔
صبح سویرے ہم روانہ ہوئے۔ پہلے کرجت پہنچے اور وہاں سے مشہور ٹوائے ٹرین میں سوار ہوئے۔ پہاڑوں کے دامن، سرسبز جنگلات، ٹھنڈی ہوائیں اور بادلوں کی اوٹ سے جھانکتی دھوپ.... ہر منظر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے قدرت نے اپنی حسین ترین تصویر ہمارے لئے سجائی ہو۔
یہ بھی پڑھئے:وائی فائی زون میں قید پرواز
ماتھیران پہنچ کر ناشتے سے فارغ ہوئے، تازہ دم ہوئے اور گھڑ سواری کے لئے بے تاب ہوگئے۔ گھوڑے آہستہ آہستہ ہمیں مختلف پوائنٹس کی طرف لے جا رہے تھے کہ اچانک موسم نے ایسا پلٹا کھایا جس کی کسی کو توقع نہ تھی۔
چند لمحوں میں آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھک گیا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں، درخت زور زور سے جھومنے لگے، بجلی کڑکنے لگی اور موسلا دھار بارش برسنے لگی۔ مٹی کی سوندھی خوشبو نے پورے ماتھیران کو مہکا دیا، مگر اسی خوشبو کے ساتھ خوف کی ایک لہر بھی دلوں میں اترنے لگی۔
راستے کی مٹی کیچڑ میں بدل چکی تھی۔ گھوڑے بدکنے لگے تھے۔ گھڑ سواروں نے فیصلہ کیا کہ آگے جانا خطرناک ہے، اسلئے ہمیں قریب ہی ایک چھوٹی سی چائے کی ٹپری پر اتار دیا گیا۔
ہم سب بارش میں پوری طرح بھیگ چکے تھے۔ کپکپاتی سردی میں گرم چائے کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ ابھی ہم چائے کی چسکیاں لے ہی رہے تھے کہ ایک ساتھی نے ہنستے ہوئے کہا: ’’لگتا ہے یہ ٹپری ابھی اُڑ جائے گی!‘‘
قدرت کو شاید یہی منظور تھا۔ اگلے ہی لمحے تیز آندھی کے جھونکے نے ٹپری کی چھت کو اکھاڑ کر فضا میں اچھال دیا۔ وہ جا کر دو گھوڑوں پر گری۔ خوف زدہ گھوڑے زور زور سے ہنہنانے لگے۔ ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔
اسی افراتفری میں دو ساتھیوں کے ساتھ موجود چھوٹے بچے خوف سے رونے لگے۔ ایک دوست کی چپل ٹوٹ گئی، پھر دوسری کی بھی۔ میری عزیز دوست ساجدہ نے فوراً اپنی چپل اتار کر ایک ساتھی کو دے دی، کیونکہ اس کے ساتھ دو ننھے بچے تھے اور وہ بری طرح گھبرا چکی تھی۔
ہم سب بارش میں پیدل چلنے لگے۔ میرے پاؤں شدید درد سے سن ہونے لگے تھے۔ ٹھنڈ نے جسم کو جکڑ لیا تھا۔ اندھیرا بھی بڑھتا جا رہا تھا۔
سب لوگ تیزی سے آگے نکل گئے، مگر میں مزید چلنے کے قابل نہ رہی۔ میں نے اپنی دوست سے کہا: ’’مَیں اب ایک قدم بھی نہیں چل سکتی۔‘‘
سب نے اسے آواز دی کہ وہ آگے آ جائے، مگر اس نے ایک لمحہ سوچے بغیر کہا: ’’مَیں اپنی دوست کو اکیلا چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتی۔‘‘
یہ الفاظ آج بھی میرے دل میں نقش ہیں۔
ہم دونوں آہستہ آہستہ چلتے رہے، مگر کچھ فاصلے پر پہنچ کر میرے قدم بالکل جواب دے گئے۔ ہم راستے کے کنارے بیٹھ گئے۔ دو راستوں کے سنگم پر کھڑے تھے، مگر سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہوٹل کس طرف ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے موبائل بھی ہمارے پاس نہ تھے۔ بارش سے بچانے کے لئے ہم نے انہیں گھڑ سواروں کے حوالے کر دیا تھا۔ اب نہ کسی سے رابطہ ممکن تھا، نہ راستہ معلوم تھا۔
کچھ دیر بعد چند گھڑ سوار واپس آئے۔ میری دوست نے ان سے کہا کہ میرے پاؤں میں شدید درد ہے، مجھے گھوڑے پر بٹھا دیں۔ بڑی مشکل سے انہوں نے مجھے ایک چھوٹے گھوڑے پر سوار کیا۔
میری دوست نے گھڑ سوار سے کہا: ’’براہِ کرم گھوڑے کی لگام مضبوطی سے پکڑیئے، کہیں یہ بدک نہ جائے۔‘‘
مگر وہ شخص شاید نشے کے زیرِ اثر تھا۔ اس نے لاپروائی سے کہا: ’’میڈم، کچھ نہیں ہوگا.... میرے گھوڑوں کو خود معلوم ہے کہ کہاں جانا ہے۔‘‘
یہ الفاظ ابھی فضا میں گونج ہی رہے تھے کہ اچانک بجلی زور سے کڑکی۔ میری دوست کا گھوڑا بدک گیا۔ گھڑ سوار نے لگام چھوڑ دی۔
پلک جھپکتے ہی گھوڑا تیزی سے دوڑنے لگا۔
ہم سب کی چیخیں نکل گئیں۔
چند لمحوں بعد وہ ایک درخت کے قریب پہنچا اور میری دوست زور سے درخت سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑی۔
اس کا سر پھٹ چکا تھا۔
خون بہہ رہا تھا۔
وہ اٹھنے کے قابل بھی نہ تھی۔
یہ بھی پڑھئے:افسانہ : خواب حقیقت بنتے ہیں
میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
اسی لمحے دو اجنبی، جو ہمارے لئے رحمت کے فرشتے ثابت ہوئے، برساتی پہنے ہماری طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ انہوں نے بڑی محبت سے میری دوست کو سنبھالا، اسے اٹھایا اور حوصلہ دیا۔
ہم نے بہت اصرار کیا کہ وہ دوبارہ گھوڑے پر بیٹھ جائے، مگر اس کے دل میں خوف بیٹھ چکا تھا۔ وہ کانپتے قدموں سے پیدل چلتی رہی۔
راستے میں خوش قسمتی سے ایک ہاتھ گاڑی ملی۔ ہم نے اس میں اسے بٹھایا اور کسی نہ کسی طرح ہوٹل پہنچے۔
ہوٹل میں ہر شخص اس کی مدد کے لئے آگے بڑھا۔ کسی نے اس کے سر سے پتے نکالے، کسی نے خون صاف کیا، کسی نے کپڑے بدلوائے، کسی نے پانی سے زخم دھوئے۔
ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی بات ہوئی تو میرا دل دہل گیا، مگر ہمت کرنا ہی واحد راستہ تھا۔
مَیں اپنی دوست کو سہارا دے کر ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ اسے دو انجیکشن لگے، دوائیں ملیں اور آہستہ آہستہ اسے کچھ سکون محسوس ہونے لگا۔
اس شام سب لوگ بازار گھومنے نکل گئے، مگر میرے لئے دوست کی صحت ہر خوشی سے زیادہ قیمتی تھی۔ میں نے اس کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
اگلے دن اس نے حیرت انگیز حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوبارہ گھوڑے پر سواری کی، مگر سفر کے بعد اس کے ہاتھ اور کندھے میں درد بڑھتا گیا۔ گھر واپس پہنچنے پر جب مکمل معائنہ ہوا تو معلوم ہوا کہ حادثے کے باعث اسے فروزن شولڈر ہوگیا تھا، جس کا علاج طویل عرصہ جاری رہا۔
آج برسوں بعد بھی جب میں ماتھیران کا نام سنتی ہوں تو وہ بارش، وہ آندھی، وہ خوف، وہ حادثہ اور سب سے بڑھ کر اپنی دوست کی بے مثال ہمت میری آنکھوں کے سامنے زندہ ہو جاتی ہے۔
مَیں نے اس سفر میں صرف قدرت کی خوبصورتی ہی نہیں دیکھی، بلکہ دوستی کی اصل تعریف بھی سیکھی۔
سچی دوستی وہ نہیں جو خوشیوں میں ساتھ دے، بلکہ وہ ہے جو اندھیری رات، طوفانی بارش، تکلیف، خوف اور آزمائش کے ہر لمحے میں آپ کا ہاتھ تھامے رکھے۔
آج بھی جب میں اس واقعے کو بیان کرتی ہوں تو میری آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری عزیز دوست ساجدہ کو کامل صحت، دراز عمر اور ہمیشہ کی خوشیاں عطا فرمائے، اور ہماری دوستی کو ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے میں قائم رکھے (آمین)۔
بعض سفر منزل تک پہنچنے کیلئے نہیں ہوتے، بلکہ انسان کو انسانیت، وفاداری اور محبت کا اصل مفہوم سکھانے کیلئے ہوتے ہیں۔ ماتھیران کا یہ سفر میرے لئے ایسا ہی ایک اَن مٹ باب ہے۔
(مضمون نگار انجمن اسلام الانا گرلز ہائی اسکول، کرلا کی معلمہ ہیں)