جتنر منتر پر دھرنا دینے والی خاتون کھلاڑی (پہلوان) جس جرأت اور بے خوفی کا مظاہرہ کررہی ہیں، اس کی جتنی ستائش کی جائے، کم ہے۔
EPAPER
Updated: May 05, 2023, 10:42 AM IST | Mumbai
جتنر منتر پر دھرنا دینے والی خاتون کھلاڑی (پہلوان) جس جرأت اور بے خوفی کا مظاہرہ کررہی ہیں، اس کی جتنی ستائش کی جائے، کم ہے۔
جتنر منتر پر دھرنا دینے والی خاتون کھلاڑی (پہلوان) جس جرأت اور بے خوفی کا مظاہرہ کررہی ہیں، اس کی جتنی ستائش کی جائے، کم ہے۔ انہوں نے اپنا کریئر داؤ پر لگا دیا ہے اور کھیل کی اپنی مشق اور ریاضت کو مؤخر کردیا ہے۔ تمغے جیت کر ملک کا نام روشن کرنے والی ان کھلاڑیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ یقیناً ایسا ہے جس نے اُن کی عزتِ نفس کو مجروح کیا ہے اور اُنہیں روحانی اذیت پہنچائی ہے۔ حکومت کا فرض تھا کہ ان کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کرتی اور ان کی شکایات کے ازالے کیلئے پہلے تو برج بھوشن سنگھ کو عہدہ سے برخاست کرتی اور پھر اُس کے خلاف شکایتوں کی تہہ میں جاکر متاثرین کے ساتھ انصاف کا راستہ ہموار کرتی مگر ایسا نہیں ہوا۔ گزشتہ چند برسو ں میں ہمارے سسٹم نے یہ نیا انداز اپنایا ہے کہ ہر ایسی شکایت کو نہ سنا جائے جس سے کسی بااثر اور اپنے مطلب کے آدمی پر آنچ آتی ہو۔ اِس قسم کی شکایات کو خاموشی سے عدالتوں تک جانے دیا جاتا ہے تاکہ خود کوئی قدم اُٹھانے کی زحمت نہ کرنی پڑے بلکہ جو قدم اُٹھانا ضروری اور ناگزیر ہو وہ عدالت کے حکم پر اُٹھایا جائے۔ اس کی مثال برج بھوشن سنگھ کے خلاف ایف آئی آر کا درج نہ کیا جانا تھا۔ سات خواتین پہلوانوں کے اصرار کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی جارہی تھی۔ عدالت میں حکومت کے نمائندہ نے کہا کہ ایف آئی آر تو آج ہی (جس دن یہ سماعت ہورہی تھی) درج ہوسکتی ہے اگر عدالت اس کا حکم دے۔ جب ایف آئی آر درج کرنا محکمۂ پولیس کے اختیار میں اور اس کا فرض ہے تو عدالت کے حکم کا انتظار کیوں؟ مگر یہی طریقہ اِن دنوں رائج ہے۔ یاد کیجئے اشیش مشرا (لکھیم پوری کیس) کی ’’بڑے ناز و نعم اور شان ِ مرتبت‘‘ کے ساتھ گرفتاری تب عمل میں آئی تھی جب عدالت نے اس کی ہدایت کی تھی۔
عوامی معاملات پر سیاسی مفادات کا اس حد تک حاوی ہوجانا ہماری جمہوریت اور نظم و نسق کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اس سے ملک کے مظلوم عوام میں مظلومیت کا احساس گہرا ہو جائیگا، نظام ِ انصاف پر سے اُن کا اعتماد (خدانخواستہ) مکمل طور پر اُٹھ سکتا ہے اور وہ لوگ جوسکون سے ہیں یعنی ظلم کا نشانہ نہیں بنے، وہ بھی سوچنے پر مجبور ہوسکتے ہیں کہ کسی شہ زور کے خلاف حصول انصاف کی توقع اور جدوجہد کرنا آندھی میں چراغ جلانے جیسا ہے۔ مسئلہ صرف کمزور طبقات کا نہیں ہے۔ مسئلہ اُن طبقات کا بھی ہے جو کمزور نہیں ہیں کیونکہ قانون اگر چہرا دیکھ کر نافذ ہونے لگے تو بااثر طبقات میں بھی بے چینی پیدا ہوگی اور وہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ اگر وہ سیر ہیں تو اُنہی کی صفوں میں کوئی سوا سیر بھی ہے اور اگر اُس نے کوئی زیادتی کی تو چونکہ یہ سوا سیر نہیں ہیں اس لئے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا! اِس لئے پولیس کے اس جانبدارانہ طرز ِ عمل کا سد باب ضروری ہے۔
دھرنا دینے والی خاتون پہلوان ملک اور کھیل کود کی دُنیا کے مشہور چہرے ہیں۔ اس کے باوجود اگر اُن کی یہ ُدرگت بن رہی ہے تو سوچئے کہ گاؤں دیہات کی کمزور اور بے سہارا خواتین کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو اُنہیں کتنے پہاڑ سر کرنے پڑتے ہونگے۔ مظاہرین کے ساتھ بدھ اور جمعرات کی شب میں جتنا بُرا سلوک کیا گیا، وہ بھی نہایت افسوسناک واقعہ ہے۔ ایک تو اُنہیں انصاف کیلئے سخت جدوجہد پر مجبور ہونا پڑے، دوسرے اُن کے ساتھ بدسلوکی بھی ہو تو یہ گہرے زخم پر چٹکی بھر نہیں، مٹھی بھر نمک ڈالنے جیسا ہے۔ہم کوئی اچھی نظیر قائم نہیں کررہے ہیں ۔