• Mon, 01 September, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خوشی سے اپنا تعلق بنائے رکھئے گا

Updated: December 17, 2022, 10:30 AM IST | Shahid Latif | Mumbai

خوش ہونا، خوش نہ ہونا، خوش ہوکر ناخوش رہنا اور ناخوش رہنے کے باوجود خود کو خوش ظاہر کرنا۔ ہر انسان الگ الگ کیفیتیوں میں زندگی گزارتا ہے۔ ہیپی نیس انڈیکس پر ہمارا مقام اطمینان بخش نہیں ہے اور ہماری سیاست کو اس کی کوئی خاص فکر بھی نہیں ہے۔

photo;INN
تصویر :آئی این این

تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو خوش دکھائی دیتے ہیں مگر خوش نہیں ہوتے۔ دوسرے وہ جو خوش دکھائی نہیں دیتے کیونکہ اُنہوں نے خوش رہنا نہیں سیکھا۔ تیسری قسم اُن لوگوں کی ہے جو خوش رہتے ہیں اور خوش دکھائی بھی دیتے ہیں۔
  ان میں سے کون سی قسم بہتر ہے اس کا فیصلہ ہر شخص اپنے نقطۂ نظر سے کرے گا مگر ایسا لگتا ہے کہ سب سے زیادہ نشانات تیسری قسم کو ملیں گے یعنی وہ لوگ جو خوش رہتے ہیں اور خوش دکھائی بھی دیتے ہیں۔ اس سے کم نشانات اُس قسم کے لوگوں کو مل سکتے ہیں جو خوش دکھائی دیتے ہیں مگر خوش نہیں ہوتے۔ سب سے کم نشانات اُس قسم کو ملیں گے جس میں لوگ کبھی خوش دکھائی نہیں دیتے ممکن ہے اُن کے پاس خوش رہنے کا بہت سا سامان موجود ہو۔
 کیا کوئی انسان اپنے بارے میں سوچتا ہے کہ اُس کا شمار کس قسم کے لوگوں میں ہے؟ اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو اپنے بارے میں نہ تو جانتے ہیں نہ ہی فیصلہ کرپاتے ہیں۔ یہ فیصلہ ضروری ہے کیونکہ جب تک یہ طے نہیں ہوگا کہ کس کا شمار کس قسم کے لوگوں میں ہے، تب تک تبدیلی ممکن نہیں۔ اس مضمون نگار کی نظر میں خوش نہ رہ کر خوش دکھائی دینا قابل ستائش ہونے کے باوجود اُتنا ہی نادرست ہے جتنا کہ خوش ہونے کے باوجود ناخوش دکھائی دینا۔ 
 ایک چوتھی قسم بھی ہوتی ہے۔ اس میں وہ لوگ آتے ہیں جو قناعت پسند ہیں اور جو کچھ میسر ہے اُس پر شکر ادا کرتے ہوئے زندگی کے شب و روز گزارتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے حصے کی خوشیاں آپ پیدا کرتے ہیں اور پُرسکون زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی خوبی سوائے قناعت پسندی کے اور کچھ نہیں۔ یہی قناعت اُنہیں کم وسائل کے باوجود خوش رکھتی ہے اور حرف شکایت اُن کی زبان پر نہیں آتا۔یہ بہترین قسم ہے کیونکہ اس کی وجہ سے انسان مادّیت کے جال میں نہیں پھنستا۔ صارفیت اسی قسم کے لوگوں کو ہدف بناتی ہے اور اُن کی قناعت کو ختم کرکے اُن پر ڈورے ڈالتی ہے تاکہ قناعت ختم ہو اور اُن میں حرص و ہوس پیدا ہوجائے۔
 خوش رہنا انفرادی زندگی میں بھی ضروری ہے اور اجتماعی زندگی میں بھی۔ ’’کون کتنا خوش ہے‘‘ سے اِس بات کا تعین ہوتا ہے کہ کون کتنی بہتر اورصحتمند زندگی گزار سکتا ہے اور اس کی ترقی کے کتنے  امکانات ہیں۔ اسی لئے اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ ہر سال مختلف ملکوں کو آئینہ دکھاتا ہے کہ آپ درجہ بندی میں فلاں مقام پر ہیں۔ اس کی رپورٹ ’’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘‘ کہلاتی ہے۔ ۲۰۲۲ء کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا شمار کم خوش یا کافی کم خوش ملکوں میں ہوتا ہے۔ ۲۰۲۲ء کی درجہ بندی میں ۱۴۶؍ ملکوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں ہندوستان ۱۳۹؍ ویں مقام پر ہے۔ اس سے اپنے عوام کی کیفیت کا اندازہ تو ہوتا ہے مگر جن معیارات پر مختلف ملکوں کو پرکھا جاتا ہے اُن سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کیونکہ روٹی، کپڑا اور مکان ہی سب کچھ نہیں ہے۔ بہت سوں کی آمدنی اچھی ہوتی ہے، وہ اچھا کھاتے، اچھا پہنتے اور اچھے مکان میں رہتے ہیں مگر خوش نہیں رہتے جبکہ ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے جو اچھا کھاتے ہیں نہ اچھا پہنتے اور اچھے مکان میں رہتے ہیں مگر خوش ہیں۔ اس لئے ورلڈ ہیپی نیس انڈیکس کو کسی ملک کی حتمی کیفیت کا اشاریہ نہیں کہا جاسکتا۔ 
 خوش رہنے اور خوش نہ رہ پانے کا انحصار انسان کی تربیت پر ہے۔ صبرو شکر کی اہمیت، قناعت کے فوائد اور حرص و وہوس سے ماورا زندگی کا بیج اچھی تربیت بوتی ہے۔ ذاتی علم، غوروفکر اور تجربات و مشاہدات کے ذریعہ اسی بیج سے اطمینان کی فصل اُگائی جاتی ہے۔ جو ماں باپ اپنے بچوں کو قناعت نہیں سکھاتے وہ اُن کے ساتھ ظلم کرتے ہیں بلکہ اُن کیلئے ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں جن میں وہ مسلسل بے اطمینانی اور ناخوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس مضمون نگار نے کئی بار اپنی گفتگو میں ترغیبی لیکچرس کیلئے مشہور امریکی اسکالر لیس براؤن کا ذکر کیا ہے۔ اِس شخص کا نام کبھی دُنیا کے سامنے نہ آتا اگر اُسے وہ نصیحت نہ ملتی جو اُس کی کلاس میں آنے والی ایک نئی ٹیچر نے کی تھی۔ لیس براؤن پڑھنے لکھنے میں کمزور (غبی) تھا۔ اِس کمزوری کو اُس کے ذہن پر نقش کرکے مزید گہرا کیا تھا آس پاس کا ماحول نے جس میں اُسے یہ جملہ سننے کو ملتا تھا کہ وہ غبی ہے، غبی ہے۔ اس ماحول کی وجہ سے اُس کی رہی سہی صلاحیت بھی ختم سی ہوگئی تھی مگر اُس ٹیچر نے ایسی بات کہی کہ رہی سہی صلاحیت نے کروٹ بدلی اور ایک غبی طالب علم بہتر طالب علم میں تبدیل ہونے لگا اور پھر اُس کی کایا پلٹ گئی۔ ایک جملے نے زندگی بدل دی۔ وہ جملہ تھا: ’’کسی کی کہی ہوئی بات کو اپنی شخصیت کا حصہ مت بننے دینا۔‘‘ بہتر ہوگا کہ آپ اس جملے کو انگریزی میں پڑھیں:
 “Someone`s opinion of you doesn`t 
have to become your reality.”
 لیس براؤن کبھی خوش نہیں رہ سکتا تھا کیونکہ اُس کے ماحول نے اُس کی خوشیوں کے امکانات بھی چھین لئے تھے۔ یہ بات ہر خاص و عام کو سمجھنی چاہئے۔ کبھی کبھی مذاق ہی میں سہی، بچوں سے کہا جاتا ہے کہ تم ایسے ہو یا تم ویسے ہو۔ کبھی کبھی کوئی بات بار بار کہی جاتی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کس کے ذہن میں کون سی بات کتنی شدت کے ساتھ نقش ہورہی ہے۔ اس سے گریز اسلئے ضروری ہے کہ دوسروں کی زندگی اور مستقبل سے کھلواڑ کا کسی کو حق نہیں ہے۔ خود خوش رہ کر دوسروں کو ناخوش کرنے والے شخص کا شمار سماج دشمن عناصر میں کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اچھا وہ انسان ہے جو بھلے ہی خود خوش نہ رہتا ہو مگر دوسروں میں خوشیاں تقسیم کرتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کا بُرا نہیں چاہتے، ہرگز نہیں چاہتے مگر اُن میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنی  زبان سے نکلنے والے الفاظ کے بارے میں غور نہیں کرتے کہ اس سے بچوں کی حوصلہ افزائی ہوگی یا حوصلہ شکنی۔ 
 لفظ بہت دور تک جاتے ہیں۔ کبھی کبھی زندگی بھر ساتھ رہتے ہیں۔ کبھی کبھی مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ کہنے والا نہیں جانتا کہ اُس کا کون سا لفظ کس کی زندگی میں کتنا خلل پیدا کررہا ہے۔ اچھے الفاظ اِمکانات کے نئے افق تعمیر کرتے ہیں اور زندگی کی نئی معنویتیں پیدا کرتے ہیں۔ یہ خاموش خدمت ہے۔ چلتی پھرتی نیکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK