ہر دور میں رشتوں کی کہانی بدلتی رہی ہے مگر عصر حاضر میں چونکہ ہر شے زوال پزیر ہے اس لئے رشتوں پر بھی انحطاط کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بہت کم لوگ ہیں جو رشتوں کو سنبھالتے اور اُن کی قدر کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 26, 2025, 1:19 PM IST | Shahid Latif | Mumbai
ہر دور میں رشتوں کی کہانی بدلتی رہی ہے مگر عصر حاضر میں چونکہ ہر شے زوال پزیر ہے اس لئے رشتوں پر بھی انحطاط کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بہت کم لوگ ہیں جو رشتوں کو سنبھالتے اور اُن کی قدر کرتے ہیں۔
آج کے کالم کی ابتداء میں یہ کہانی نہیں مگر کہانی ہے۔ سن لیجئے:
’’ایک بادشاہ تھا جس کی ایک عظیم اور شاندار قوم پر حکمرانی تھی۔ اُسے اپنے دربار کے مصور پر بڑا فخر تھا۔ ایک دن ایک اجنبی نے دربار میں دعویٰ کیا کہ دُنیا کا سب سے بڑا مصوسر کوئی اور نہیں وہ (خود) ہے۔ انصاف پسند بادشاہ یہ دعویٰ سن کر نہ تو ناراض ہوا نہ ہی اُس نے اجنبی کے دعوے کو خارج کیا بلکہ وزیروں کو حکم دیا کہ دونوں فنکاروں کے درمیان مقابلہ ہو۔ بادشاہ کو یقین تھا کہ درباری مصور ہی مقابلہ جیتے گا۔ دونوں مصوروں کو ایک ماہ کا وقت دیا گیاکہ وہ اس دوران مصوری کا بہترین نمونہ تیار کریں ۔ ‘‘
کیا یہ کہانی ہے؟ اس سوال کا جواب آپ کو جلد مل جائیگا۔ فی الحال مان لیتے ہیں کہ کہانی ہے، آگے سنئے: ’’ایک ماہ کی شبانہ روز فنی جدوجہد کے بعد دونوں فنکاروں نے اپنی فنکاری کے نمونے تیار کرلئے اور اُن پر ایک غلاف چڑھا کر دربار میں پیش کردیا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ پہلے درباری مصور کے نمونۂ فن پر سے غلاف ہٹایا جائے۔ وہاں موجود عوام کی بڑی تعداد سانس روکے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ غلاف ہٹایا گیا تو ایک شاندار آئل پینٹنگ نظر آئی۔ اس کے مرکز میں نہایت قیمتی پھلوں کی دیدہ زیب ٹوکری تھی جس کے پھل صبح کی روشنی میں چمک رہے تھے۔ مجمع دم بخود تھا۔ اتنے میں ایک چڑیا نے جھپٹا مارا اور انگور کے خوشے سے ایک دانہ چونچ میں اُٹھانا چاہا۔
یہ منظر دیکھ کر مجمع خوشی سے جھوم اُٹھا اور بادشاہ نے فخریہ انداز میں کہا کہ درباری مصور کی پینٹنگ اتنی شاندار ہے کہ پرندہ غچہ کھا گیا۔ یقیناً اسی کو انعام ملے گا مگر اس سے قبل دوسری پینٹنگ بھی دیکھ لی جائے۔ دُنیا کا سب سے بڑا مصور ہونے کا دعویٰ کرنے والا اجنبی زمین پر نگاہیں گڑائے کھڑا تھا۔ بادشاہ نے اُسے مخاطب کیا کہ اپنی پینٹنگ پر سے غلاف اُتارے۔
حکم سننے کے باوجود اجنبی نے جنبش بھی نہ کی تو بادشاہ کے اشارہ پر وزیر آگے بڑھا۔ وہ جیسے ہی پینٹنگ کے قریب پہنچا، اجنبی کی آواز گونجی: ’’ٹھہریئے، پینٹنگ پر غلاف نہیں ہے، جو آپ دیکھ رہے ہیں وہی میری پینٹنگ ہے، مَیں نے پینٹنگ کو ڈھانپنے والا غلاف ہی تو بنایاہے۔‘‘ بادشاہ پریشان اورمجمع حیران تھا۔ اُس نے پھر کہنا شروع کیا: ’’ ظلِ الٰہی، درباری مصور کے فن پر پرندہ غچہ کھا گیا تھا، میرا فن ملک کے بادشاہ کو جُل دینے میں کامیاب ہوا ہے۔‘‘
یہ کوئی کہانی نہیں ہے اور اگر ہے تو ایسی کہانی سنانے کا سہرا ایک ایسے مصور کے سر بندھتا ہے جو ہمارا ہم عصر ہے۔ پرائے ملک میں سہی مگر ہمارے آپ کے درمیان موجود ہے یہ الگ بات کہ اُس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔ سب اُس کے فن کے عاشق ہیں ، اُس کے فن پاروں میں چھپے ہوئے طنز کو پسند کرتے ہیں ، اربابِ اقتدار کے طور طریقوں پر اُس کی فنی گرفت کی ستائش کرتے ہیں اور اُس کی فکر کو سلام کرتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ وہ کون ہے، کہاں رہتا ہے اور اُس کا اصل نام کیا ہے البتہ اس کے نام (بینکسی)کی شہرت دور دور تک ہے اور اُس کے فن پارے بڑی قیمت پر فروخت ہوتے ہیں ۔ اُس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ گمنام رہنا پسند کرتا ہے۔ اُس نے مذکورہ کہانی کے ذریعہ شاید یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ فن کیسا ہونا چاہئے۔ درباری مصور نے جو تصویر بنائی تھی اُس میں نقل پر اصل کا دھوکہ ہورہا تھا۔ اجنبی نے جو تصویر بنائی اُس میں اصل پر نقل کا دھوکہ ہوا۔
خود بینکسیکے بارے میں سوچنا پڑتا ہے کہ وہ اصل ہے جس پر نقل کا دھوکہ ہوتا ہے یا وہ نقل ہے جس پر اصل کا دھوکہ ہوتا ہے۔ اُس نے اپنے آس پاس بڑی پُراسرار کیفیت طاری کررکھی ہے۔ وہ سامنے نہیں آتا۔ کسی بھی میوزیم میں اپنے فن کا نمونہ خاموشی سے رکھ کر روپوش ہوجاتا ہے۔ ٹائم میگزین نے اُسے ۱۰۰؍ بااثر عالمی شخصیات کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ تب ادارہ کی جانب سے اُسے ایک ای میل کیا گیا تھا کہ وہ اپنی تصویر بھجوائے۔ اُس نے تصویر کی فرمائش پوری کی مگر اس طرح کہ سر اور چہرے کو براؤن رنگ کی کاغذی تھیلی سے ڈھانپ رکھا تھا (تصویر اسی کالم میں )۔
یہ بھی پڑھئے : تسلیم کیا جائے سپریم کورٹ کا مشورہ
انٹرنیٹ پر اگر آپ بینکسی کو سرچ کریں تو بہت سا مواد بآسانی دستیاب ہوجائیگا۔ تھوڑا بہت متن اُردو میں بھی ہے۔ انٹرنیٹ ہی پر اُس کی بنائی ہوئی پینٹنگز بھی دیکھی جاسکتی ہیں اور اُس کے اندازِ مصوری سے بھی آگاہی ہوسکتی ہے۔ یہ ہے بینکسی مگر اس مضمون کا مقصد ایک پُراسرار شخصیت سے متعارف کرانے سے زیادہ یہ بتانا ہے کہ بینکسی کی شخصیت کی پُراسراریت کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر ملکوں میں سوشل میڈیا کے ذہین صارفین نے انسان کے ایک مخصوص رویہ کو بینکسیئنگ کا نام دیا ہے یعنی بینکسی جیسا (رویہ)۔ یہ نام ایسے شخص کو دیا جاتا ہے جو اپنے آس پاس کے لوگوں سے اچانک کٹا کٹا سا یا کھنچا کھنچا سا رہنے لگتا ہے اور مکمل سرد مہری اختیار کرلیتا ہے۔ سوشل میڈیا (رِلیشن شپ ٹرینڈ) پر اسے مخصوص رشتوں مثلاً جواں سال جوڑوں یا میاں بیوی سے متعلق کیا جاتا ہے مگر اس مضمون نگار کے خیال میں اسے وسیع تر معنی میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بینکسیئنگ کے رویہ کے حامل شخص سے آپ وجہ جاننا چاہیں تو وہ وجہ بھی نہیں بتاتا مگر اس کے سبب رشتوں میں بے لطفی پیدا ہوجاتی ہے، گھر میں ایسا ہو تو گھر کا ماحول کشیدہ ہوجاتا ہے اور اگر دوستوں کے درمیان ہو تو خوش گپیوں اور قہقہوں پر اوس پڑ جاتی ہے۔
ایسے شخص سے دریافت کئے بغیر کہ اُسے کیا ہوا ہے اور اس کی سردمہری کا سبب کیا ہے، اُسے دیگر موضوعات پر گفتگو کے ذریعہ ہموار کیا جاسکتا ہے تاکہ اپنے متعلقین پر اُس کا اعتماد بحال ہو۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ہے تو وہ ماہرین نفسیات بتائینگے۔ جہاں تک رشتوں کا تعلق ہے، ہر جگہ انحطاط کے اس دور میں رشتے بھی متاثر ہیں ۔ لوگوں نے رشتوں کی اہمیت کا احساس گنوا دیا ہے جبکہ زندگی ایک ایک رشتے کو بھرپور طریقے سے جینے کا پیغام دیتی ہے۔