سال۲۰۲۰ء کوایک تباہ کن سال کے طور پر یاد کیا جائے گا

Updated: January 03, 2021, 12:44 PM IST | Jamal Rizvi

پوری دنیا بشمول ہندوستان گزرے ہوئے سال میں جن حالات سے دوچار ہوئیں اگر ان کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ گزرا ہوا سال امن و سکون اور خوشحالی کے مقابلے پریشانیوں اور مسائل بھرا سال رہا۔ اب جبکہ ایک نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے خالق کائنات سے دعا کی جانی چاہئے کہ یہ سال تمام عالم انسانیت کیلئے امن و سکون اور خوشی کا سال ثابت ہو اور ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہئے تاکہ پرانی غلطیاں نہ دہرائیں

Migrant Worker
مہاجر مزدور

عیسائی کیلنڈر مطابق داکیسویں صدی کے اکیسویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔اس نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی پوری انسانی دنیا اپنے اپنے عقیدے کے مطابق یہ خواہش اور دعا کر رہی ہے کہ سال گزشتہ میں جن مسائل اور مشکلات کاسامنا کرنا پڑا، ان سے نجات حاصل ہو اور دنیا میں امن و سکون کی فضا تعمیر ہو اور انسانوں کو ایک خوشحال اور پر امن زندگی گزارنے کی توفیق عطا کرے۔ گزرا ہوا سال پوری دنیا کیلئے جس طرح مسائل اور مشکلوں بھرا سال ثابت ہو،ا وہ کئی اعتبار سے ایک تلخ یاد کے طور پر تادیر ذہنوں میں باقی رہے گا۔
  گزشتہ سال کے آغاز ہی سے تقریباً تمام دنیا میں کورونا کی وبا نے ایک ایسی تباہی پھیلائی جس نے انسانی زندگی کو کئی سطحوں پر متاثر کیا۔ اس وبا نے نہ صرف انسانوں کی ترقی کے دعوے کو بے حقیقت بنادیا بلکہ لوگوں کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کیا کہ عہد حاضر میں انسانوں نے جو طرز حیات اختیار کر لیا ہے، اس میں اس قسم کی وبا سے نمٹنے کے وہ وسائل اب تک ناپید ہیں جو اس طرز حیات کو معتبر بناتے ہوں۔ مادی ترقی کے زعم میں مبتلا انسانی معاشرہ کیلئے یہ وبا ایک ایسی چشم کشا حقیقت کے طور پر نمودار ہو ئی جو واضح طور پر یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر زندگی میں امن و سکون درکار ہے تو انسانوں کو ایک ایساضابطہ ٔ حیات اختیار کرنا ہوگا جو فطرت کے ان اصولوں پر مبنی ہو جو انسانوں کی بے لگام خواہشوں کو قابو میں رکھ سکے۔دنیا کیلئے ایک مہلک ترین وبا کے طور پر ظاہر ہونے  والی اس بیماری نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انسانوں نے اپنی خواہشات کے سامنے فطرت کے اصولوں کو نظر انداز کر دیا ہے جو ایک پرسکون زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہیں۔
 چین سے شروع ہونے والی اس وبا نے جس طرح پوری دنیا کو مفلوج بنادیا، وہ انسانی تاریخ کا ایک الم ناک واقعہ ہے۔اس وبا نے سماج کے اس طبقے کو خاص طور سے متاثر کیا جو زندگی کے بنیادی وسائل کی حصول یابی کیلئے مسلسل جد و جہد میں مصروف ہے۔کورونا کے سبب اگرچہ غریبوں کو بیشتر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تاہم سماج کا وہ طبقہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہا جو زندگی کی مادی ضرورتوں کے معاملے میں کسی حد تک خود کفیل ہے۔پوری دنیا میں اس وبا نے جو مختلف طرح کے مسائل پیدا کئے، وہ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں انسانوں کیلئے پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ انسانی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس وبا کی وجہ سے لقمہ ٔ اجل بن گیا۔یہ صورتحال ترقی کے بلندبانگ دعوے کرنی والی اس دنیا کے سامنے ایک ایسے چیلنج کے طور پر ظاہر ہوئی، جو اَب صحت اور طب کے معاملے میں اپنی ترقی کو ایک مثالی کارنامہ سمجھ رہی تھی ۔ دنیا کے وہ ممالک بھی اس وبا پر قابو پانے میں ناکام رہے جو جدید میڈیکل سہولتوں کے معاملے میں سر فہرست مانے جاتے ہیں۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کا یہ اہم ترین شعبہ بھی اب تک ترقی کے وہ مدارج طے نہیں کر سکا ہے جو اس طرز کی وبا پر اس طور سے قابو پاسکے کہ جس سے کم سے کم نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔اس وبا نے نہ صرف انسانی زندگی کو معرض خطر میں ڈالا بلکہ اس کے سبب ایسے مسائل بھی پیدا ہوئے جو انسان کو معاشی طور پر کمزور بناتے ہیں۔
 اس وبا کے ظاہر ہونے کے بعد پوری دنیا جس مسائل سے دوچار ہوئی اگر ان کاجائزہ لیا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سماج کا کمزور طبقہ اب بھی ناداری اور محرومی کی ایسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جو ایسے حالات میں ان کیلئے جان و مال کے بڑے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ اس وبا کے تناظر میں اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کے بیشتر ملکوں میں جو طرز حکومت رائج ہے اس میں اصولی طور پر سماج کے کمزور طبقہ کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنانے کی بات کی جاتی ہے لیکن جب ایسے پریشان کن حالات سے سامنا ہوتا ہے تو جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ اس تصور سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔اصول اور عمل کا یہ تضاد کم و بیش ہر ملک میں نظر آتا ہے حتیٰ کہ وہ ممالک بھی اس میں شامل نظر آتے ہیں جو اپنی معاشی اور سماجی ترقی کے مثالی دعووں کی بنیاد پر اپنی فضیلت کا اظہار اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں۔امریکہ، چین اور برطانیہ سمیت دنیا کے وہ ممالک جو اپنی ترقی کے حوالے سے دنیا کے دیگر ملکوں پر اپنا رعب جمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، وہاں بھی اس وبا نے یہ ثابت کردیا کہ ترقی کے ان کے یہ دعوے ایسے حالات کا مقابلہ کرنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ان ملکوں کے علاوہ وہ ممالک بھی اس وبا سے شدید طور سے متاثر ہوئے جو مادی ترقی کی مسابقتی دوڑ میں خود کو سرفہرست دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
 اس وبا نے وطن عزیز کے سماجی اور معاشی نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ گزشتہ سال کے تیسرے مہینے سے اس وبا کے سبب انسانی زندگی کی گاڑی جو پٹری سے اُتری وہ اب تک صحیح طور سے پٹری پر نہیں آ سکی۔ اس وبا کا مقابلہ کرنے کے معاملے میں دنیا کی حکومتوں نے جو طرز عمل اختیار کیا وہ بھی بہت زیادہ کار آمد اور فائدہ مند نہیں ثابت ہوا۔ اس ضمن میں اگر بات وطن عزیز کی جائے تو یہاں ارباب اقتدار کی حکمت عملی نے انسانوں کو آسانی فراہم کرنے  کے بجائے ان کے مسائل میں اضافہ کیا۔ ارباب اقتدار کے فیصلوں میں اس بالغ نظری اور دور اندیشی کی کمی واضح طور پر نظر آئی جو مجموعی طور پر پورے سماج کو مد نظر رکھتی ہے ۔ یہی سبب ہے کہ سماج کا ایک طبقہ اگر چہ اس وبا سے کسی حد تک محفوظ رہا لیکن غریب اور متوسط طبقے کے سامنے حکومتی فیصلوں نے ایسے مسائل پید اکر دئیے جو اس وبا کے مہلک اثرات سے کچھ کم پریشان کن نہیں تھے۔ اب بھی جبکہ اس وبا کے پھیلاؤ کی رفتار کچھ حد کم ہو چلی ہے حکومت اور انتظامیہ کے فیصلوں میں اس دوراندیشی کی کمی کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
 اس وبا نے انسانون کے سامنے صحت کے جو مسائل پیدا کئے وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ابھی میڈیکل سائنس میں مزید ترقی درکار ہے۔ اس کے علاوہ روزگار اور تعلیم جیسے اہم شعبوں پر بھی اس وبا کے مضر اثرات واضح طور پر نمایاں ہوئے۔اس وبا نے کروڑوں لوگوں سے ان کے ذرائع روزگار چھین لئے اور یہ کروڑوں لوگ اب بھی اس پریشانی سے اطمینان بخش حد تک نجات حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مرکز اور ریاست کی سطح پر زمام اقتدار جن ہاتھوں میں ہے، وہ بھی اس مسئلے کا کوئی خاطر خواہ حل تلاش کرنے میں بیشتر ناکام رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک عام شہری کا معیار زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ تعلیم کا بھی رہا۔ ہر سطح کا تعلیمی نظام اس وبا کے سبب متاثر ہوا ہے ۔ طلبہ کے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کیلئے جن تکنیکی وسائل کا استعمال کیا گیا، وہ پوری طرح موثر نہیں ثابت ہوئے۔ اس معاملے میں بھی غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کو زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور یہ صورتحال ہنوز برقرار ہے۔اگر چہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے متواتر یہ کہا جا رہا ہے کہ روزگار اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ بیشتر مسائل کا تصفیہ کر لیا گیا ہے لیکن یہ دعوے اب تک بیشتر محض زبانی دعوے ہی ہیں۔ ان دعووں کو اگر واقعی حقیقت میں تبدیل کرنا ہے تو حکومت اور انتظامیہ کو اپنے فیصلوں میں ان حقائق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے جو سماج کے ہر طبقہ کو متاثر کر رہے ہیں نہ کہ یہ کہ سماج کے مخصوص افراد کو ذہن میں رکھ کر منصوبے بنائے جائیں۔
 اس وبا کے علاوہ سال گزشتہ میں دنیا کو ان مسائل کا بھی سامنا کرناپڑ ا جو انسانوں کی خود غرضی ، ہٹ دھرمی اور اناپسندی کے سبب پورے ملک او ر معاشرہ کیلئے پریشانی کا سبب بنے۔انسانوں کے درمیان محبت اور ہمدردی کے جذبات کی کمی کئی موقعوں پر نظر آئی اور نہ صرف یہ کہ انسانیت نوازی کا جذبہ کمزور پڑتا نظر آیا بلکہ اس کی جگہ نفرت اور تشدد کے رجحان میں اضافہ کو بھی کئی موقعوں پر محسوس کیا گیا۔ پوری دنیا بشمول ہندوستان گزرے ہوئے سال میں جن حالات سے دوچار ہوئے اگر ان کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ گزرا ہوا سال امن و سکون اور خوشحالی کے مقابلے پریشانیوں اور مسائل بھرا سال رہا۔ اب جبکہ ایک نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے خالق کائنات سے دعا کی جانی چاہئے کہ یہ سال تمام عالم انسانیت کیلئے امن و سکون اور خوشی کا سال ثابت ہو۔ انسان اپنی ان غلطیوں کو اس سال میں نہ دہرائے جس کی وجہ سے ایک ملک یا معاشرہ مختلف قسم کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔سب سے اہم یہ کہ انسانوں کے درمیان محبت، ہمدردی اور انسانی درد مندی کے جذبے کو تقویت حاصل ہو اور دنیا سے نفرت اور تشدد کا خاتمہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK