• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

دل کو چھوٗ لینے والا ایک عمدہ افسانہ (دوسری اور آخری قسط)

Updated: January 12, 2023, 12:01 PM IST | Ulfat Riaz | MUMBAI

گھر والوں نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا تھا اور جہاں میں تھی وہاں کوئی سننے والا نہیں تھا۔ دل تو کرتا تھا کہ خوب روؤں، چیخوں، چلاؤں، وہ سب کچھ جو میں برداشت کر رہی تھی وہ کسی سے کہوں لیکن وہاں انسان کہاں رہتے تھے وہ سارے کے سارے تو بت تھے اور بت تو بت ہی ٹھہرے۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

گھر والوں نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا تھا اور جہاں میں تھی وہاں کوئی سننے والا نہیں تھا۔ دل تو کرتا تھا کہ خوب روؤں، چیخوں، چلاؤں، وہ سب کچھ جو میں برداشت کر رہی تھی وہ کسی سے کہوں لیکن وہاں انسان کہاں رہتے تھے وہ سارے کے سارے تو بت تھے اور بت تو بت ہی ٹھہرے۔ ان کو چاہے کتنا ہی پوجا جائے ان کے سامنے رویا گڑگڑایا جائے وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہی رہتے ہیں۔
 تمہیں پتہ ہے آج بھی جب سردیاں شروع ہوتی ہیں تو میں ان دنوں کو یاد کرکے سہم جاتی ہوں۔ یاد ہے جب مَیں موسم سرما میں تمہارے گھر میں تھی اور ٹھنڈ لگنے کی وجہ سے مجھے نمونیا ہوگیا تھا۔ مَیں اس وقت مرنے کی حالت میں تھی اور کام کرنے کے لائق نہیں تھی سو تم لوگوں نے میرے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایک پھٹا پرانا بوریا اور گھر کا ایک کونہ دے دیا گیا تھا۔ اس وقت مجھے دوا کی ضرورت تھی لیکن اس گھر میں کھانا بھی دن بھر مانگنے کے بعد دیا جاتا تھا۔ ایک پرانے برتن میں سب کے آگے کا بچا ہوا کھانا دور ہی سے سرکا کر دے دیا جاتا تھا جیسے جانوروں کو دیا جاتا ہے۔ سخت سردیوں میں بھی میں آنگن کے اس ایک کونے میں پڑی رہتی تھی۔ بہت ٹھنڈ لگتی تھی مجھے، رات بھر جاگ کر گزار دیتی تھی۔ اس وقت تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میرے باپ کی کہی ہوئی بات سچ ہونے والی ہے اور بہت جلد اس گھر سے میرا جنازہ اٹھے گا۔ لیکن اسے معجزہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ نہ جانے کیسے چچا جان کو میری اس حالت کی خبر ہو گئی اور انہوں نے مجھے اس جہنم سے نجات دلائی۔ ۷؍ سال کے بعد میں نیم مردہ حالت میں اِس گھر میں لوٹی تھی۔ کچھ عرصہ علاج کے بعد میں بظاہر تو صحت یاب ہو گئی تھی لیکن اندر کے زخم آج بھی ویسے ہی ہیں۔‘‘ اتنا سب کچھ کہہ دینے کے بعد پھوپھو اب خاموش ہو گئی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ رو رہی تھیں اور آج پہلی بار انکے ساتھ وہ بت بھی رو رہا تھا۔ اس کے بعد وہ جانے کیلئے کھڑے ہو گئے۔ جاتے جاتے انہوں نے ایک بار پھر معافی مانگی اور پھوپھو کی طرف ہاتھ بڑھا کر کچھ دینا چاہا لیکن پھوپھو نے اسے لینے سے صاف انکار کر دیا تھا، ’’اس کا میں کیا کروں عثمان اور کس حق سے تم مجھے یہ پیسے دے رہے ہو....‘‘ پھوپھو نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچتے ہوئے کہا۔
 ’’اسے تم اپنے پاس رکھو۔ تمہارے کام آئیں گے۔‘‘ انہوں نے پھر اصرار کیا۔
 ’’اب مجھے تمہارے ان پیسوں کی ضرورت نہیں ہے.... کاش کہ یہ تم اس وقت دے دیتے جب مجھے واقعی ان کی ضرورت تھی۔ جب میں بھوک سے تڑپ رہی تھی، دوائیوں کے لئے رو رہی تھی، جب میرے پاس پہننے کو صرف چند جوڑے تھے اور اسی میں، مَیں نے ۷؍ سال گزار دیئے تھے....‘‘ بولتے بولتے ان کی آواز بھرا گئی اور آنکھیں دوبارہ سے نم ہو گئیں، ’’کیا کروں عثمان.... ان ۷؍ برسوں کا ایک ایک پل اتنا اذیت ناک تھا کہ باوجود چاہنے کے بھی میں بھول نہیں سکی ہوں۔ جب بھی وہ دن رات یاد آ جاتے ہیں تو آنسو خود بخود چھلک پڑتے ہیں..... جذبات پرقابو نہیں رہتا....‘‘ آہ.... کیسی بے بسی تھی ان کے لہجے میں۔
 ’’ اچھا ہوا جو تم نے سب کچھ کہہ ڈالا.... تم چاہو تو اور کہہ سکتی ہو.... تم جو بھی کہو گی میں سننے کو تیار ہوں لیکن مجھے معاف کر دو۔ مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے۔‘‘ وہ سر جھکائے ہوئے پھوپھو کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑے تھے۔
 ’’مجھے معلوم تھا عثمان۔ ایک نہ ایک دن تمہیں احساس ضرور ہوگا لیکن اتنے برسوں میں مَیں نے یہ خواہش کبھی نہیں کی کہ تم مجھ سے آ کر معافی مانگو۔ تمہیں احساس ہوگیا یہی میرے لئے بہت ہے۔‘‘ پھوپھو نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
 ’’اپنی غلطیوں کا احساس تو مجھے بہت پہلے ہی ہوگیا تھا اور صرف مجھے ہی نہیں.... ہر اس شخص کو جس نے تم پر ظلم کیا۔ ابو اور امی تو تمہیں یاد کرتے کرتے اس دنیا سے چلے گئے لیکن مَیں اس بوجھ کے ساتھ مرنا نہیں چاہتا۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دو!‘‘ اور یہ کہتے ہوئے انہوں نے پھوپھو کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔ پھوپھو کو شاید ان سے ایسی توقع نہیں تھی وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی۔
 ’’اب اس کی ضرورت نہیں ہے عثمان! مَیں نے تو تمہیں بہت پہلے ہی معاف کر دیا تھا۔ اسی دن جس دن تمہارے گھر سے خالی ہاتھ لوٹ رہی تھی۔ عثمان اس وقت میرے ہاتھ ہی نہیں میرا وجود بھی خالی تھا۔ عزت، آبرو اور اعتماد سب کچھ تو چھین لیا تھا تم لوگوں نے تو پھر یہ بوجھ اپنے پاس کیسے رکھ سکتے تھی۔ مَیں نے اسی دن تمہیں معاف کر دیا تھا۔‘‘ اتنا سننے کے بعد مَیں وہاں سے اُٹھ کر کمرے میں آ گئی تھی۔ مجھے اپنے سوالوں کے جواب مل گئے تھے۔ مَیں کتاب ہاتھ میں لئے اب بھی پھوپھو کے بارے میں سوچ رہی کہ تبھی نہ جانے کہاں سے غالبؔ کا وہ شعر بے ساختہ میری زبان پر آ گیا کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK