آڈو ایکسپو: ریلائنس نے جیو کے ذریعہ گاڑیوں سے رابطہ کا نظام پیش کیا

Updated: February 08, 2020, 11:33 AM IST | Noida

یہ نظام ڈرائیونگ میں مدد کرے گا،۴؍جی کنکٹی وٹی کی بنیاد پر اس ایکو سسٹم میں ڈیوائسز اور پلیٹ فارم کے ساتھ ڈیٹا انالیٹکس ٹیکنالوجی کابھی استعمال کیا گیا۔

آڈو ایکسپو: ریلائنس نے جیو کے ذریعہ گاڑیوں سے رابطہ کا نظام پیش کیا
ریلائنس کے نئے نظام کا جائزہ لینے کیلئے بنایا گیا سیٹ اپ۔ تصویر: پی ٹی آئی

 نوئیڈا:دہلی سے متصل گریٹر نوئیڈامیں آٹو ایکسپوکے ۱۵؍ویں ایڈیشن کا آغاز۵؍ فروری سے ہو گیا ہے۔ دنیا بھر سے کار بنانے والی کمپنیاں نئی سے نئی آٹو تکنالوجی اور خوبصورت کاریں لے کر آئی ہیں ۔ گاڑیوں کی اس نمائش میں ریلائنس جیو نے ’ کنکٹیڈ وہیکل ایکو سسٹم‘ پیش کیا ہے۔۴؍جی کنکٹی وٹی کی بنیاد پر اس ایکو سسٹم میں ڈیوائسز اور پلیٹ فارم کے ساتھ ڈیٹا انالیٹکس ٹیکنالوجی کابھی استعمال کیا گیا ہے۔آپ کی ڈرائیونگ اچھی ہے یاخراب، یہ اب ’کنکٹیڈکار‘ آپ کو بتائے گی۔ ڈیش کیم ڈیٹا کا تجزیہ کر کے،ڈرائیورکوکار ڈرائیو کرنے میں مدد بھی کرے گی۔ ساتھ ہی جیو ٹیکنالوجی سے کنکٹیڈ کارسڑک پر آنے والے خطرات سے بھی ڈرائیور کو آگاہ کرے گی تاکہ قیمتی زندگیاں بچائی جا سکیں ۔ جیو نے اس ٹیکنالوجی کو’ایڈوانس ڈرائیوراسسٹنٹ سسٹم ‘ کا نام دیا ہے۔ریلائنس جیونے’آن بورڈڈائیگانوسٹک کارکنکٹ‘ نام کاایک ڈیوائس بھی آٹو ایکسپو میں پیش کیا ہے۔ یہ کار کے آن بورڈ پورٹ میں آسانی سے فٹ ہو جاتا ہے۔ سم سےلیس یہ ڈیوائس کار کو وائی فائی زون میں تبدیل کردے گا،جس سے۸؍موبائل یادیگرڈیوائس کنکٹ کئےجا سکتے ہیں ۔اس کےعلاوہ’کارملٹی پل سینسر‘ کوبھی اس ڈیوائس سےکنیکٹ کیا جا سکتا ہے۔ تو اب آپ کار کی ہر ایک حرکت، اس کی نگہداشت اور رکھ رکھاؤ کے بارے میں انفارمیشن کواپنے موبائل پر دیکھ سکیں گے۔کار میں کتنا ایندھن بچا ہوا ہے یا پھر گاڑی کا کوئی دروازہ تونہیں کھلااس کی بھی معلومات آپ کی کنکٹیڈکار آپ تک پہنچا دے گی۔ کارکو اب ٹریک کرنابھی آسان ہو جائے گا۔ وائی ​​فائی کنکٹی وٹی کے ساتھ انفوٹینمنٹ تو ملے گا ہی۔
 ریلائنس جیو کی یہ ٹیکنالوجی جیو کے۴؍جی وولٹي ٹیکنالوجی پرچلےگی۔ٹرائی کےمطابق جیو کے ۴؍جی ٹیکنالوجی کی کوریج ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ گاڑی مالکان کےعلاوہ اس کا فائدہ کرایہ کی کاروں کا بڑا کاروبار چلانے والے تاجروں کو بھی ہوگا، جنہیں گاڑی کی ٹریکنگ کے علاوہ اس کی رفتار اور مسافت کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔

auto news Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK