عام طور پر ہمارے گھروں میں صبح کے وقت بچوں کو اسکول بھیجتے وقت ایک ہلچل رہتی ہے۔ ناشتہ تیار کرکے بچوں کھلانا اور انہیں ٹفن باکس کے ساتھ اسکول کیلئے روانہ کرنا، آزمائش سے بھرا ہوتا ہے۔ بعض گھروں میں بچوں کو ٹفن باکس میں چپس یا بسکٹ دیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے صحت بخش متبادل کا انتخاب کرنا دانشمندی ہوگی۔
بچوں کے ٹفن میں پھل اور صحت بخش غذائیں شامل کریں، یہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں-تصویر:آئی این این
’’صحت ہی زندگی ہے....‘‘ یہ ایک مختصر مگر ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی، خوشحالی اور کامیابی کی ضامن ہوتی ہے، اور صحت مند قوم کی بنیاد صحت مند بچے ہوتے ہیں۔ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں متوازن غذا بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکول جانے والے ہر بچے کے لئے صحت بخش ٹفن باکس محض ایک ’کھانے کا ڈبہ‘ نہیں بلکہ اس کی صحت، تعلیم اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
موجودہ دور میں تیز رفتار زندگی اور فاسٹ فوڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بچوں کی غذائی عادات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ چپس، کولڈ ڈرنکس، چاکلیٹ، مومو، پیزا، برگر اور دیگر بازاری اشیاء وقتی طور پر ذائقہ تو فراہم کرتی ہیں، لیکن ان میں ضروری غذائیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ ان کا مسلسل استعمال موٹاپے، کمزوری، دانتوں کی خرابی، معدے کے امراض اور دیگر کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برعکس گھر میں تیار کیا گیا صحت بخش ٹفن جسم کو ضروری پروٹین، وٹامنز، معدنیات، فائبر اور توانائی فراہم کرتا ہے، جس سے بچے تندرست اور چاق و چوبند رہتے ہیں۔
غذائیت سے بھرپور ٹفن نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی صلاحیتوں کو بھی جلا بخشتا ہے۔ متوازن غذا کھانے والے بچے کلاس روم میں زیادہ متوجہ رہتے ہیں، ان کی یادداشت بہتر ہوتی ہے، کھیل میں بھی فعال رہتے ہیں، سیکھنے کی رفتار بڑھتی ہے اور وہ امتحانات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک بھوکا یا غیر صحت بخش غذا کھانے والا بچہ نہ تو پڑھائی پر پوری توجہ دے سکتا ہے اور نہ ہی کھیل کود میں بھرپور حصہ لے سکتا ہے۔
صحت بخش ٹفن بچوں میں اچھی عادات پیدا کرنے کا بھی مؤثر ذریعہ ہے۔ اگر بچپن ہی سے انہیں پھل، سبزیاں، دالیں، دودھ، انڈے، مچھلی، خشک میوہ جات اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں کھانے کی عادت ڈال دی جائے تو یہی عادت ان کی پوری زندگی کا سرمایہ بن جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ مستقبل میں ذیابیطس، دل کی بیماریوں، موٹاپے اور دیگر طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
غیر صحت بخش غذائیں کھانے سے بچوں کو صحت کے حوالے سے کئی نقصانات ہوتے ہیں۔ زیادہ کیلوریز اور چکنائی والی غذا کھانے سے وزن بڑھتا ہے۔ جنک فوڈز سے بچوں کو ضروری وٹامنز حاصل نہیں ہوتے اس لئے انہیں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ پیٹ کے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جنک فوڈ سے دن بھر تھکان محسوس ہوتی ہے اور دماغی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہے جیسے کہ توجہ کمزور کرنے میں بچوں کو دشواری محسوس ہوتی ہے۔
والدین، خاص طور پر ماؤں پر لازم ہے کہ وہ بچوں کے ٹفن کو صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے صحت کی امانت تصور کریں۔ ٹفن میں تازہ اور متوازن غذا شامل کی جائے، جیسے روٹی یا پراٹھا کے ساتھ سبزی یا دال، اُبلا ہوا انڈا، تازہ پھل، دہی، خشک میوہ جات اور صاف پانی۔ اسی طرح اسکولوں کو بھی چاہئے کہ وہ بچوں اور والدین میں صحت بخش غذا کی اہمیت اجاگر کریں، غذائیت سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کریں اور اسکول کے احاطے میں غیر صحت بخش غذاؤں کی فروخت کی حوصلہ شکنی کریں۔
عموماً صبح کے وقت کم ہوتا ہے اس لئے مائیں انسٹنٹ نوڈلز یا چپس ٹفن میں رکھ کر دے دیتی ہیں۔ اس صورت میں جھٹ پٹ بننے والے پکوان تیار کئے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بیسن کے چیلے تیار کئے جاسکتے ہیں، ان میں رنگ برنگی سبزیاں شامل کی جاسکتی ہیں جس سے یہ دیکھنے میں اچھا لگتا ہے اور بچے شوق سے کھاتے ہیں۔ انڈے کی بھرجی کے ساتھ براؤن بریڈ دیا جاسکتا ہے۔ اوٹس بھی ٹفن کے لئے ایک اچھی اور کم وقت میں بنے والی ڈش ہے۔ اس میں خشک میوہ جات شامل کرکے اس کی غذائیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ چکن مایونیز سینڈوِچ بھی جھٹ پٹ تیار ہوجائے گا اور بچے اسے شوق سے بھی کھائیں گے۔
آج کے بچے کل کے معمار ہیں۔ اگر ہم انہیں صحت مند، مضبوط اور باشعور دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کی غذائی ضروریات پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ ایک صحت بخش ٹفن باکس بظاہر ایک چھوٹی سی چیز معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ بچے کی صحت، ذہنی صلاحیت، تعلیمی کامیابی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ بچوں کو صحت بخش ٹفن باکس کی جانب مائل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ والدین اور گھر کے دیگر افراد بھی صحت بخش غذائیں کھائیں۔ روزانہ دسترخوان پر کوئی ایک پھل اور سلاد پیش کریں اور انہیں کھانے کی عادت بنائیں۔n
(مضمون نگار مومن گرلز ہائی اسکول،
بھیونڈی کی معاون معلمہ ہیں)