پارٹی نے اسے ’’وزیرداخلہ کی ایما پر نام کاٹنے کی مہم‘‘ سے تعبیر کیا، تشویشناک اعدادوشمار پیش کئے، بتایا کہ ہر ۳؍ میں سے ایک ووٹر کا نام خارج ہو ایا ہوسکتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 9:04 AM IST | Ahmadullah Siddiqui/Agency | New Delhi
پارٹی نے اسے ’’وزیرداخلہ کی ایما پر نام کاٹنے کی مہم‘‘ سے تعبیر کیا، تشویشناک اعدادوشمار پیش کئے، بتایا کہ ہر ۳؍ میں سے ایک ووٹر کا نام خارج ہو ایا ہوسکتا ہے۔
کانگریس نے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے اتوار کو پھر ایس آئی آر کو ملک کے آئین اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا اور اس کیلئے وزیر داخلہ امیت شاہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ جے رام رمیش نے پارٹی کی جانب سے ایکس پر ایک تفصیلی بیان پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر ووٹر کے نام حذف کئے جانے اور بالخصوص پسماندہ طبقات کے ووٹرز کا اخراج مرکزی وزیر داخلہ ا میت شاہ کی ایماء پر کیا جارہاہے۔
ثابت کرے کا بوجھ شہریوں پر کیوں
انہوں نے شہریوں پر شہریت ثابت کرنے کا بوجھ ڈالنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریاست نے اپنی ذمہ داری سےکنارہ کشی اختیار کر لی ہے اور شہریوں پر ایسے دستاویزات پیش کرنے کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے جو شاید انہیں کبھی فراہم ہی نہیں کئےگئے ۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک ایسا امتحان جسے شہریوں کی بھاری اکثریت پاس نہیں کر سکتی، وہ درحقیقت لوگوں کو باہر رکھنے کی ایک مشین ہے۔
معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات متاثر
انہوں نے کہا کہ اس بات کے وافر ثبوت موجود ہیں کہ مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر جن ووٹرز کے نام خارج کیے گئے ہیں، ان میں بھاری اکثریت معاشی اور سماجی طور پر انتہائی پسماندہ اور محروم طبقات سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر بڑی ریاستوں میںایس آئی آر کے دوران مردوں کے مقابلے میں خواتین کے نام فہرستوں سے زیادہ تعداد میں خارج کئے گئے ہیں۔
امیت شاہ ذمہ دار
کانگریس لیڈرنے کہا کہ ایس آئی آر میں بڑے پیمانے پر اخراج دراصل امیت شاہ کی ایماء پر کیا جا رہا ہے جو ہمارے آئین پر حملہ ہے۔ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ ایس آئی آر کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں۷؍کروڑ ۸۰؍لاکھ ووٹروں کے نام نام خارج کئے گئے۔انہوں نے بتایا کہ ووٹر لسٹ سے ناموں کے اخراج کی شرح ۱۳؍فیصد ہے۔اسی طرح تیسرے مرحلے کا آغاز۲۰۲۶ء کے وسط میں ۱۶؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ۳؍ علاقوں میں ہوا۔ اس تیسرے مرحلے میں جو ابھی جاری ہے، ۳۶؍ کروڑ ۶۰؍ ہزار ووٹروں میں سے ۶؍کروڑ ۱۸؍ لاکھ ووٹروں کے نام خارج کردیئے گئے ہیں۔ ناموں کے اخراج کی یہ شرح ۱۷؍فیصد ہے۔
جے رام رمیش نے مزیدکہا کہ پانچ کروڑ ۴۳؍لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں اور ان سےانتخابی فہرست میں ان کے نام برقرار رکھنے کیلئے اضافی دستاویزات کا مطالبہ کیا گیا ۔ اخراج کے خطرے کی شرح مزید ۱۵؍ فیصد بنتی ہے۔ یہ غیر معمولی طور پر زیادہ تناسب ہے جو پورے ایس آئی آکے عمل میں ساختیاتی نقائص کی عکاسی کرتا ہے۔ ناموں کے اخراج کے اتنے بڑے عمل کے بعد، اب بھی اتنی بڑی تعداد میں اضافی ووٹر کیسے ہو سکتے ہیں جن کی’تصدیق‘ کی ضرورت ہے؟جے رام رمیش نے دہلی سمیت مختلف ریاستوں کا ڈیٹا پیش کرتے ہوئے کہا کہ ۳۲؍ فیصد یعنی تقریباً ہر تین میں سے ایک ووٹر کےنام خارج کر دیئے گئے ہیں یا نہیں اخراج کے خطرے کا سامنا ہے۔
الیکشن کمشنر سندھو کو بھی ایس آئی آر کانوٹس
الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس ایس سندھو اور اعلیٰ عہدوں پر فائز کئی آئی اے ایس افسران کو ایس آئی آر کے دوران نام میں خامی اور ’میپنگ نہ ہونے‘ کے سلسلے میں نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ سندھو کے علاوہ جن اعلیٰ بیوروکریٹس کو خامیوں اور میپنگ نہ ہونے کی بنیاد پر ایس آئی آر کے نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں، ان میں خارجہ سیکریٹری وکرم مصری، سیبی کے چیئرمین کانتا پانڈے، وزیر اعظم کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر اجے کمار سود اور دیگر شامل ہیں۔ یہ تمام افراد وہ ہیں جن کی ’گزشتہ ایس آئی آر میں موجود نام کے کے ساتھ میپنگ نہیں ہوئی۔‘‘
سابق نوکر شاہ بھی پریشان
کئی ریٹائرڈ نوکرشاہ اور افسران کو بھی خامیوں اور میپنگ نہ ہونے کی بنیاد پر ایس آئی آر کے نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔ ان میں نیتی آیوگ کے سابق نائب چیئرمین اروِند پناگڑیا، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور یو جی سی کے چیئرمین ممدالا جگدیش کمار، سابق سکریٹری برائے مویشی پالن محکمہ الکا اپادھیائے، امور ِ صارفین کے سکریٹری روہت کمار سنگھ، ان کی اہلیہ اور سابق سی آئی ایس ایف ڈائریکٹر جنرل نینا سنگھ، سابق دفاعی سکریٹری گری دھر ارامانے اور سابق ماحولیات سکریٹری لینا نندن شامل ہیں۔