• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲؍گریجویٹس جنہوں نے۴؍ماہ میں اسٹارٹ اَپ بناکر اسے فروخت کردیا

Updated: September 30, 2026, 2:17 PM IST | Inquilab News Network/Agency | Mumbai

انی رُدھ کلکرنی اور پرتیوش سینی آئی آئی ٹی دہلی کے گریجویٹس ہیں اور اب وہ اپنے نئے اسٹارٹ اپ منصوبے کیلئے ۱۰؍لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی اکھٹا کرچکے ہیں۔

Anni Rudh Kulkarni and Pratyush Saini. Picture: INN
اینی رودھ کلکرنی اور پرتیوش سینی۔ تصویر: آئی این این

آئی آئی ٹی دہلی سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کرنے والے ۲؍نوجوان کاروباریوں نے صرف ۴؍ ماہ میں ایک’ اے آئی قانونی تحقیقاتی اسٹارٹ اپ‘ بنایا اور اسے فروخت کر دیا۔ اب انہوں نے اپنے دوسرے منصوبے کے لئے ۱۰؍ لاکھ ڈالر کی پری سیڈ فنڈنگ حاصل کی ہے۔ ان کا نیا اسٹارٹ اپ’سیُ اور ’سی پلس پلس ڈیولپرز کے لئے خصوصی  اے آئی کوڈنگ ایجنٹس تیار کر رہا ہے۔یہ کارنامہ انجام دینے والے انی رُدھ کلکرنی اورپرتیوش سینی ہیں جو ’لاء سُوتر اے آئی(LawSutra AI)‘  کی مشترکہ طور پر بنیاد رکھ چکے ہیں۔

لاء سُوتر اے آئی کیا ہے؟

وکلاء کے لئے یہ اے آئی ٹُول کٹ بنایا گیا ہے، جس کی مدد سے قانونی دستاویز کی سمری بنانے کا کام کیا جاسکتا ہے۔ یہ ٹائم لائن جنریٹ کرنے میں بھی مددگار ہے اور ڈاکیومنٹ کو او سی آر کیلئے بھی معاون ہے۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ انگریزی میں لکھے قانونی دستاویزکا ترجمہ ہندوستانی زبانوں میں سیاق و سباق کے ساتھ کرسکتا ہے۔ساتھ ہی یہ تلخیص کا کام بھی کرلیتا ہے۔ مختلف ٹاسک کے لئے یہ پلیٹ فارم فیس چارج کرسکتا ہے اور اس کا فری ٹرائل بھی کیا جاسکتا ہے۔

اب ان جواں سال فاؤنڈرز نے’ByteAsk‘ نامی سان فرانسسکو میں قائم اسٹارٹ اپ شروع کیا ہے، جو ایسے شعبوں کے لئے اے آئی کی مدد سے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ پر توجہ دے رہا ہے جہاں اعتماد، کارکردگی اور درستگی انتہائی اہم ہیں۔ ’بائٹ آسک‘نے یہ فنڈنگ’وائی کومبینٹر‘ اور ’انٹرپرینیور فرسٹ‘ کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف کوانٹیٹیو ٹریڈنگ کمپنیوں سے وابستہ اینجل انویسٹرز سے حاصل کی ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ جون۲۰۲۶ء میں قائم ہوا تھا اور اسے’ Y Combinator‘ کے’ فال بیچ ۲۰۲۶ء کے لئے بھی منتخب کیا گیا ہے۔ کمپنی امریکہ اور ہندوستان میں کام کر رہی ہے اور اس کا ہدف ایسے ڈیولپرز ہیں جو آٹوموٹیو، ایرو اسپیس، روبوٹکس، ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ، ایمبیڈڈ سسٹمز اور سیمی کنڈکٹرز جیسے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔

C اور C++ ہی کیوں؟

بائٹ آسک کی بنیاداس خیال پر رکھی گئی ہے کہ موجودہ اے آئی کوڈنگ ٹُولز میں ایک اہم خلا موجود ہے۔ اگرچہ عام کوڈنگ اسسٹنٹس اب پائتھون اور جاوا جیسی ’لینگویجز‘ کےلئے کافی کارآمد ہو چکے ہیں، لیکن بانیوں کے مطابق’سی ‘ اور’سی پلس پلس‘ میں ڈیولپمنٹ کے چیلنجز مختلف ہیں۔ اس کی وجوہات میں بڑے اور پرانے’لگیسی کوڈبیسیس‘، ٹیسٹنگ، ڈِی بگنگ کارکردگی کی ضروریات اور ہارڈویئر پر انحصار شامل ہے۔ سی اور سی پلس پلس ان سسٹمزں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں جہاں سافٹ ویئر کی رفتار، کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونا انتہائی اہم ہوتا ہے، جیسے گاڑیاں، ٹریڈنگ سسٹمز، چپس، آپریٹنگ سسٹز اور دیگرایمبیڈیڈ اپلی کیشنز۔ آسک بائٹ کا کہنا ہے کہ اس کا کوڈنگ ایجنٹ ڈیولپرز کو تبدیلیاں دکھانے سے پہلے ریئل ڈیولپمنٹ ٹُول چین استعمال کرتے ہوئے انہیں بِلڈ، ڈِی بَگ اور ٹیسٹ کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ایک ایجنٹک کوڈنگ انوائرمنٹ کو سی اور سی پلس پلس سے متعلق تکنیکی دستاویزات، اسٹینڈرڈزاور اسپیسی فکیشن کے ساتھ  جوڑتا ہے۔انیرودھا کلکرنی نے کہا کہ ’’لاء سُوتربنانے کے تجربے نے ہمیں سکھایا کہ ماڈلز اتنے ہی کارآمد ہوتے ہیں جتنا ان کے اردگرد موجود کونٹیکسٹ، ویری فکیشن اور ورک فلوز انہیں بناتے ہیں۔‘‘ بائٹ آسک سے پہلے کلکرنی اور سینی نے لاء سُوتر اے آئی قائم کیا تھا، جو اے آئی پر مبنی قانونی تحقیق کا اسٹارٹ اپ تھا۔

ان دونوں کو ہی اے آئی اورسسٹمز انفراسٹرکچر میں کام کا تجربہ ہے۔ کلکرنی نے آئی آئی ٹی دہلی سے کمپیوٹر سائنس میں بی ٹیک اور ایم ٹیک کیا ہے۔ بائٹ آسک سے پہلے انہوں نے آپٹیور اور کوانٹوکس ریسرچ میں مارکیٹس انجینئرنگ پر کام کیا۔ انہوں نے کوانٹ باکس میں پائتھون سے لے کر سی پلس پلس آپٹیمائزیشن سسٹم بھی تیار کیا تھا۔سینی نے آئی آئی ٹی دہلی سےکمپیوٹرسائنس اینڈ انجینئرنگ میں بی ٹیک کیا ہے۔ اس سے قبل وہ تھرڈ اے آئی  میں اے آئی انفراسٹرکچر پر کام کرچکے ہیںاور اے آئی سیکوریٹی کمپنی SimbianAI کے فاؤنڈنگ انجینئر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK